بین الاقوامیتازہ ترین

بھارت،یورپی یونین کے درمیان آزاد تجارتی معاہدے پر دستخط

یہ آزاد تجارتی معاہدہ تقریباً دو دہائیوں کے مذاکرات کے بعد سامنے آیا ہے، جب دونوں فریق بڑھتی ہوئی عالمی تجارتی کشیدگی کے مقابلے کے لیے اپنی پوزیشن مضبوط کرنا چاہتے ہیں۔ 

اے پی، اے ایف پی، روئٹرز، ڈی پی اے کے ساتھ

بھارتی وزیراعظم مودی نے منگل کو یورپی یونین کے ساتھ ایک تاریخی آزاد تجارتی معاہدے کو حتمی شکل دینے کا اعلان کیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ معاہدہ بھارت کے 1.4 ارب لوگوں اور یورپ کے لاکھوں افراد کے لیے بڑے مواقع لے کر آئے گا۔

یہ آزاد تجارتی معاہدہ تقریباً دو دہائیوں کے مذاکرات کے بعد سامنے آیا ہے، جب دونوں فریق بڑھتی ہوئی عالمی تجارتی کشیدگی کے مقابلے کے لیے اپنی پوزیشن مضبوط کرنا چاہتے ہیں۔ 

توقع ہے کہ مودی اور یورپی کمیشن کی صدر ارزولا فان ڈیر لاین منگل کے روز بعد میں مشترکہ طور پر معاہدے کی تفصیلات کا اعلان کریں گے۔ معاہدہ پر دستخط ہونے سے یہ دو ارب افراد کی منڈی اور عالمی جی ڈی پی کے تقریباً ایک چوتھائی حصے کا احاطہ کرے گا

ستائیس جنوری کو بھارت اور یورپی یونین 16ویں بھارت، یورپی یونین سربراہی اجلاس میں سکیورٹی اور دفاعی شراکت داری پر دستخط کے ساتھ اپنے دیرینہ اسٹریٹجک تعلقات کو مزید مضبوط کرنے جا رہے ہیں۔

یورپی یونین،بھارت ایف ٹی اے کی تکمیل تقریباً دو دہائیوں پر محیط عمل کا اختتام ہو گی۔ اس سلسلے میں مذاکرات کا آغاز 2007 میں ہوا تھا۔ ذرائع کے مطابق، دوطرفہ تجارت پہلے ہی 136 ارب ڈالر سے تجاوز کر چکی ہے، یہ معاہدہ دنیا کے”سب سے بڑے‘‘ دوطرفہ معاہدوں میں سے ایک ہو سکتا ہے۔

نئی دہلی میں بھارتی وزیراعظم نریندر مودی اور یورپی کمیشن کی صدر ارزولا فان ڈیر لیان کی ملاقات کے مقام پر ایک کارکن یورپی یونین کا پرچم درست کر رہا ہے
مودی اور یورپی کمیشن کی صدر ارزولا فان ڈیر لاین مشترکہ طور پر معاہدے کی تفصیلات کا اعلان کریں گےتصویر: Manish Swarup/AP Photo/picture alliance

ماہرین کیا کہتے ہیں؟

جواہر لال نہرو یونیورسٹی کے سینٹر فار یورپی اسٹڈیز میں پروفیسر گلشن سچدیوا کے مطابق، تقریباً دو دہائیوں کی تعطل کے بعد بھارت، یورپی یونین آزاد تجارتی معاہدے کو بدلتی عالمی سیاست اور دونوں جانب پالیسی مفاہمت نے نئی رفتار دی ہے۔

سچدیوا نے کہا، ”اچانک بدلتے جغرافیائی حالات نے اس معاہدے کو اب مکمل کرنے کی کوششوں کو واضح طور پر تقویت دی ہے۔‘‘

ان کے مطابق مذاکرات 2007 میں شروع ہوئے، 2013 میں اختلافات کے باعث رک گئے اور 2022 تک دوبارہ شروع نہ ہو سکے۔ یورپی یونین ایک جامع اور گہرے معاہدے پر زور دے رہی تھی جبکہ بھارت بتدریج پیش رفت چاہتا تھا۔

سچدیوا نے کہا کہ بھارت کے برطانیہ اور آسٹریلیا جیسے ممالک کے ساتھ حالیہ تجارتی معاہدوں نے خاص طور پر مزدور معیارات، پائیداری اور ماحولیاتی شقوں جیسے حساس معاملات پر سمجھوتے کو آسان بنایا۔

انہوں نے کہا، ”پہلے بھارت ان مسائل کے حوالے سے کافی محتاط تھا، مگر اب اس نے سخت قانونی وعدوں کے بغیر انہیں شامل کرنے کے طریقے سیکھ لیے ہیں۔‘‘

بھارت کے اندرونی خدشات پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آٹوموبائل شعبے کو کھولنے پر کچھ تشویش ہو سکتی ہے، جبکہ بھارتی کمپنیاں مالیاتی شعبے اور آئی ٹی خدمات میں مزید مواقع چاہتی ہیں، جو نقل و حرکت اور دیگر شعبوں کو سہارا دیں گے۔ سچدیوا نے ڈی ڈبلیو کو بتایا ”مجموعی طور پر، میرا خیال ہے کہ یہ توازن قائم رکھنے کا معاملہ ہے۔‘‘

بھارتی وزیراعظم نریندر مودی اور جرمن چانسلر فریڈرِش میرس احمد آباد میں دوطرفہ ملاقات میں شریک ہوئے
اس ماہ کے اوائل میں جرمن چانسلر فریڈرِش میرس نے نئی دہلی میں بھارتی وزیراعظم نریندر مودی سے ملاقات کے بعد کہا تھا کہ جرمنی، بھارت کے ساتھ سلامتی کے شعبے میں قریبی تعاون چاہتا ہےتصویر: Press Information Bureau/Anadolu/picture alliance

معاہدے سے امریکہ ناراض

امریکی وزیرِ خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے بھارت اور یورپی یونین کے درمیان تجارتی معاہدہ طے پانے پر یورپی یونین کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ خیال رہے کہ روس،یوکرین جنگ کے تناظر میں بھارت اور امریکہ کے درمیان تجارتی مذاکرات کشیدہ ہیں۔

اے بی سی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے بیسنٹ نے کہا کہ یورپ بھارت کے ساتھ معاہدہ کر کے”اپنے ہی خلاف جنگ کی مالی مدد کر رہا ہے‘‘، کیونکہ اس سے بھارت کو روسی تیل خریدنے پر سزا دینے کی امریکی کوششیں کمزور پڑتی ہیں۔

انہوں نے کہا،”ہم نے بھارت پر روسی تیل خریدنے کے باعث 25 فیصد ٹیرف عائد کیے ہیں۔ اندازہ لگائیں پچھلے ہفتے کیا ہوا؟ یورپیوں نے بھارت کے ساتھ تجارتی معاہدہ کر لیا۔‘‘

انہوں نے مزید کہا کہ روسی خام تیل بھارت بھیجا جا رہا ہے، وہاں ریفائن ہو رہا ہے اور پھر یورپ فروخت کیا جا رہا ہے۔

انہوں نے کہا،”وہ اپنے ہی خلاف جنگ کی مالی مدد کر رہے ہیں۔‘‘

بھارتی وزیر خارجہ ایس جے شنکر متعدد یورپی ممالک کے اپنے ہم مناصب کے ساتھ
یورپی یونین اشیا کی تجارت میں بھارت کا سب سے بڑا شراکت دار ہے، جس میں 2024 میں دوطرفہ تجارت کا حجم تقریباً 120 ارب یورو رہاتصویر: ANI

رہنماؤں نے کیا کہا؟

معاہدے پر دستخط سے قبل یورپی کمیشن کی صدر ارزولا فان ڈیرلاین نے کہا،”یورپی یونین کو روایتی طور پر محفوظ بھارتی منڈی میں کسی بھی تجارتی شراکت دار کو دی جانے والی اب تک کی سب سے زیادہ رسائی حاصل ہو گی۔ ہمیں اہم صنعتی اور زرعی شعبوں میں نمایاں مسابقتی برتری ملے گی۔‘‘

انہوں نے مزید کہا، ”بھارت اور یورپ نے ایک واضح انتخاب کیا ہے۔ اسٹریٹجک شراکت داری، مکالمے اور کھلے پن کا۔ ہم ایک منقسم دنیا کو دکھا رہے ہیں کہ ایک اور راستہ بھی ممکن ہے۔‘‘

یورپی کونسل کے صدر انتونیو کوسٹا کا کہنا تھا، بھارت یورپی یونین کے لیے ایک اہم شراکت دار ہے۔ ہم دونوں مل کر قوانین پر مبنی عالمی نظام کے تحفظ کی صلاحیت رکھتے ہیں۔‘‘

یورپی کمیشن کے نائب صدر کاجا کالاس کا کہنا تھا کہ ”بھارت کے ساتھ قریبی تعاون کے لیے مضبوط رفتار موجود ہے اور ہم اس سے فائدہ اٹھا رہے ہیں۔‘‘

بھارت، یورپی یونین تعلقات کی تاریخ

بھارت اور یورپ کے تعلقات 1962 سے قائم ہیں، جب یورپی اکنامک کمیونٹی (جو بعد میں یورپی یونین بنی) کے ساتھ سفارتی روابط قائم ہوئے۔

اس کے بعد سے تجارت، ٹیکنالوجی اور سلامتی سمیت مختلف شعبوں میں تعاون مسلسل مضبوط ہوتا گیا ہے، اور اب یہ تعلقات صاف توانائی سے لے کر خلائی تعاون تک پھیل چکے ہیں۔

یورپی یونین اشیا کی تجارت میں بھارت کا سب سے بڑا شراکت دار ہے، جس میں 2024 میں دوطرفہ تجارت کا حجم تقریباً 120 ارب یورو رہا۔

سن دو ہزار چار میں اس تعلق کو اسٹریٹجک شراکت داری کا درجہ دیا گیا، جس کی 20ویں سالگرہ 2024 میں منائی گئی۔

سن  دو ہزار بائیس میں قائم کیے گئے بھارت،یورپی یونین ٹریڈ اینڈ ٹیکنالوجی کونسل کے ذریعے تعاون میں مزید وسعت آئی، جس کے تحت سیمی کنڈکٹرز، سکس جی تحقیق اور مصنوعی ذہانت پر معاہدے ہوئے۔ سلامتی اور دفاعی تعاون بھی بڑھا ہے، جن میں مشترکہ بحری مشقیں شامل ہیں۔

اس ماہ کے اوائل میں جرمن چانسلر فریڈرِش میرس نے نئی دہلی میں بھارتی وزیراعظم نریندر مودی سے ملاقات کے بعد کہا تھا کہ جرمنی، بھارت کے ساتھ سلامتی کے شعبے میں قریبی تعاون چاہتا ہے تاکہ بھارت کا روس پر انحصار کم ہو سکے۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button