یورپتازہ ترین

ہولوکاسٹ: والدین کی محبت کی کہانی کم عمر ترین گواہ کی زبانی

لیکن اب ہولوکاسٹ کے خاتمے کے بعد انہیں احساس ہوا ہے کہ خاموش  رہنے کی قیمت بہت زیادہ ہے۔

اے پی کے ساتھ

بین الاقوامی ہولوکاسٹ یادگاری دن ہر سال 27 جنوری کو دنیا بھر میں منایا جاتا ہے۔ یہ تاریخ آؤشوٹس۔بُرکیناؤ کے بدنامِ زمانہ نازی کیمپ سے آزادی کی یاد دلاتی ہے۔ ہولوکاسٹ سے بچ جانے والی ایک خاتون کے والدین کی کہانی۔

اپنی زندگی کے بیشتر حصے میں الانا نے اپنے ماضی کی کہانی کو دل کی گہرائیوں میں دفن کیے رکھا۔ وہ یادیں، کیمپوں کے سائے، خوف کے اندھیرے اور ان کی ماں کی برداشت اور بہادری، ہر چیز ان کے اندر ایک بند دروازے کی طرح موجود تھی، جسے انہوں نے کبھی کھولنے کی ہمت نہ کی۔

لیکن اب ہولوکاسٹ کے خاتمے کے بعد انہیں احساس ہوا ہے کہ خاموش  رہنے کی قیمت بہت زیادہ ہے۔

دنیا میں ہولوکاسٹ سے بچ جانے والے گواہوں کی تعداد ہر گزرتے سال کے ساتھ گھٹ رہی ہے اور الانا کو لگا کہ اگر انہوں نے اپنی کہانی نہ سنائی تو شاید یہ باب ہمیشہ کے لیے ختم ہو جائے گا۔

اسی احساس نے انہیں آخرکار وہ دروازہ کھولنے پر مجبور کیا جسے وہ ساری زندگی بند رکھتی رہی تھیں۔

آج الانا نہ صرف اپنی بقا کی کہانی سنا رہی ہیں بلکہ اپنی ماں کی جدوجہد کا وہ رُخ  بھی دنیا کو دکھا رہی ہیں جو اب تک کسی نے نہیں دیکھا تھا۔ ایک ماں جو موت کے سائے میں بھی اپنی نومولود بچی کو زندگی دینے کے لیے ہر لمحہ لڑتی رہی۔

الانا کانٹورووِچ شالم آج اکیاسی برس کی ہیں
یہ ہولوکاسٹ سے بچ جانے والوں میں سب سے کم عمر زندہ گواہوں میں شمار ہوتی ہیںتصویر: Ariel Schalit/AP Photo/picture alliance

الانا کہتی ہیں کہ ان کی ماں نے انہیں صرف جنم ہی نہیں دیا بلکہ ہر لمحے موت سے چھین کر زندہ رکھا۔

جب الانا بات کرتی ہیں تو ان کی آواز میں تھکی ہوئی سچائی سنائی دیتی ہے۔ وہ جانتی ہیں کہ وہ اس بھیانک تاریخ کا آخری باب ہیں اور اب، وہ چاہتی ہیں کہ دنیا ان کی کہانی جانے، تاکہ خاموشی میں دفن ہونے والے سچ کبھی گم نہ ہوں۔

تاریک جگہوں میں محبت کی روشنی

شالم  کی ماں اور والد پولینڈ میں Tomaszow Ghetto میں نوعمری میں ملے تھے۔ لولا روزن بلوم کا تعلق ایک قصبے سے تھا، جب کہ ہرز (زوی) ابراہم کینٹورو وچ کو پولینڈ کے ایک وسطی علاقے لوڈز سے مذکورہ یہودی بستی منتقل کر دیا گیا تھا۔ کئی سال سخت مشقت کے حالات میں یہودی بستی میں گزارنے اور اپنے خاندان کے کئی افراد کو کھونے کے بعد یہ دونوں کئی مہینوں تک خفیہ ملاقاتیں جاری رکھنے میں کامیاب رہے۔

جرمنی: نازی گاؤں میں خوش آمدید

شالم کہتی ہیں کہ ان کی والدہ مزدورکیمپوں کو یاد کرتے ہوئے کہتی تھیں، ”ان جگہوں پر واقعی بہت پیار تھا۔ رومانس تھا۔‘‘ شالم نے کہا، ”وہ دریا کے کنارے چہل قدمی کرتے تھے۔‘‘ ان کی والدہ کے دوست ان دونوں کے درمیان خفیہ ملاقاتیں کرانے میں مدد کرتے تھے۔ ان کے والدین نے یہودی بستی میں ایک غیر رسمی تقریب میں شادی کی تھی۔

1944 میں اس جوڑے کو الگ کر دیا گیا تھا۔ ہرز (زوی) ابراہم کینٹورو وچ  بالآخر جنگ ختم ہونے سے چند دن پہلے  مارچ میں ہلاک ہو گئے۔ لولا نے آؤشوٹس اور ہنڈنبرگ لیبر کیمپ میں وقت گزارا۔  اس نے حمل کے دوران جرمنی میں برگن بیلسن تک ڈیتھ مارچ مکمل کیا۔

شالم نے کہا، ”اگر انہیں معلوم ہوتا کہ میری ماں حاملہ ہے، تو وہ اسے مار ڈالتے۔ انہوں نے اپنے حمل کو اپنے دوستوں سمیت سب سے چھپا رکھا تھا کیونکہ وہ نہیں چاہتی تھی کہ اضافی توجہ دی جائے اور نہ ہی کوئی اسے اپنا کھانا دے۔‘‘

2026: ہولوکاسٹ سے بچ جانے والا آؤشوٹس کیمپ میوزیم سے گزر رہے ہیں
دنیا میں ہولوکاسٹ سے بچ جانے والے گواہوں کی تعداد ہر گزرتے سال کے ساتھ گھٹ رہی ہےتصویر: Beata Zawrzel/AP Photo/picture alliance

اسرائیل میں قائم دوسری عالمی جنگ کے دوران قتل کیے جانے والے یہودیوں کی یادگار ہولوکاسٹ میموریل ‘یاد واشم‘  کی آرکائیوسٹ سیما  ویلکووچ، جنہوں نے شالم کی کہانی پر تحقیق کی ہے، ان حالات میں بچی کے پیدا ہونے کے واقع کو ”ناقابل تصور‘‘ قرار دیتی ہیں۔

شالم کے پاس اس بات کی کوئی وضاحت نہیں ہے کہ ان کی ماں نہ صرف کیمپ کے حالات سے بچ کیسے گئیں بلکہ انہوں نے ایک صحت مند بچے کو جنم دیا۔ انگریزوں کی طرف سے برگن۔بیلسن کیمپ کو آزاد کرائے جانے سے پہلے ماں اور بیٹی نے ایک مہینہ اس کیمپ میں گزارا اور پھر دو سال بے گھر افراد کے لیے قائم ایک قریبی کیمپ میں گزارے۔

اس کے بعد وہ اسرائیل چلی گئیں، جہاں شالم کے دادا، دادی جنگ سے پہلے چلے گئے تھے۔ شالم کی ماں برسوں تک امید میں رہیں کہ اس کے والد بچ گئے ہیں۔ انہوں نے دوبارہ کبھی شادی نہیں کی اور نہ ہی ان کے مزید بچے ہوئے۔

ماں کی کہانی بیٹی کی زبانی

شالم نے اپنی والدہ کی کہانی کبھی عوام کے سامنے بیان نہیں کی تھی۔ ان کی والدہ 1991 میں 71 سال کی عمر میں چل بسیں اور ان کے ساتھ کئی یادیں بھی خاموشی میں دفن ہوگئیں۔ گزشتہ سال شالم نے یاد واشم میں اپنے نسب نامے کا ایک کورس مکمل کیا، جس کے بعد انہیں شدت سے احساس ہوا کہ ہولوکاسٹ سے بچ جانے والے بہت کم لوگ اب باقی رہ گئے ہیں۔

ہولوکاسٹ سے بچ جانے والے آؤشوٹس نازی ڈیتھ کیمپ میوزیم میں کیمپ کی آزادی کی 81 ویں سالگرہ کے موقع پر
شالم نے اپنی والدہ کی کہانی کبھی عوام کے سامنے بیان نہیں کی تھی۔ ان کی والدہ 1991 میں 71 سال کی عمر میں چل بسیں اور ان کے ساتھ کئی یادیں بھی خاموشی میں دفن ہوگئیںتصویر: Beata Zawrzel/AP Photo/picture alliance

”کلیمز کانفرنس‘‘  1951 میں 23 بڑی بین الاقوامی یہودی تنظیموں کے نمائندوں کی طرف سے قائم کی گئی تھی ۔ یہ ان افراد اور تنظیموں کے لیے بات چیت کے مواقع فراہم کرنے اور فنڈز تقسیم کرنے کا کام انجام دیتی ہے اور ہولوکاسٹ کے دوران چوری کی گئی یہودی املاک کی واپسی کی کوشش کرتی ہے۔ اس کے مطابق دنیا بھر میں ہولوکاسٹ سے بچ جانے والے زندہ  افراد کی تعداد صرف 196,600 ہے۔ ان میں سے نصف اسرائیل میں رہتے ہیں۔ آج ان بچ جانے والوں کی اوسط عمریں 87 سال ہیں، یعنی زیادہ تر ہولوکاسٹ کے دوران چھوٹے بچے تھے۔ شالم ان میں سب سے کم عمر زندہ گواہوں میں شمار ہوتی ہیں۔

شالم اپنی والدہ کے ساتھ اپنی پیدائش کے وقت گزرے لمحوں کو یاد کرتی ہیں اور اس صبر و ہمت پر حیران ہوتی ہیں جو انہوں نے دکھائی۔ وہ کہتی ہیں، ”یہ حالات اتنے غیر معمولی تھے کہ یقین کرنا مشکل ہے کہ کوئی اس سب سے گزرا ہو۔‘‘

’مائن کامپف‘ ایک بار پھر کتابوں کی دکانوں پر

ان کی والدہ نے ایک بات ہمیشہ کہی تھی، ”اگر مجھے معلوم ہوتا کہ تمہارے والد کو مار دیا گیا ہے تو شاید میں اتنی کوشش نہ کرتی۔ ‘‘ شالم  کے بقول ان کی والدہ چاہتی تھیں کہ شالم کے  والد انہیں دیکھ لیتے، جان لیتے۔

ہولوکاسٹ کا عالمی یادگار دن

اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی نے 2005 میں اس دن کو باقاعدہ عالمی یادگاری دن کے طور پر منانے کی منظوری دی تھی۔ ہولوکاسٹ کے دوران تقریباً 60 لاکھ یورپی یہودی اور اس کے ساتھ لاکھوں دیگر افراد جن میں پولش شہری، روما برادری، معذور افراد اور LGBTQ+ افراد، نازی جرائم کا نشانہ بنے۔ ان میں سے تقریباً 15 لاکھ بچے تھے۔

اس سال ہو لوکاسٹ کا یادگار دن ایسے وقت میں منایا جا رہا ہے جب  (antisemitism) سامیت دشمنی میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں  آ رہا ہے، خاص طور پر غزہ میں اسرائیل اور حماس کے درمیان دو سال سے جاری جنگ کے پس منظر میں۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button