
جہلم میں مصنوعی ذہانت پر پروفیشنل ٹریننگ کورس کا افتتاح
"انفارمیشن ٹیکنالوجی کے بغیر ترقی کا خواب ادھورا ہے"
مخدوم حسین-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز کے ساتھ
جہلم میں نوجوانوں کو جدید دور کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کے لیے ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ ڈپٹی کمشنر جہلم میر رضا اوزگن نے نان فارمل اساتذہ اور طلبہ کے لیے مصنوعی ذہانت (Artificial Intelligence) پر مشتمل پروفیشنل ٹریننگ کورس کا باقاعدہ افتتاح کر دیا۔ اس پروگرام کا بنیادی مقصد نوجوان نسل کو جدید ترین آئی ٹی مہارتوں سے آراستہ کرنا ہے تاکہ وہ قومی اور بین الاقوامی مارکیٹ میں مؤثر کردار ادا کر سکیں۔
ضلعی انتظامیہ، تعلیمی ماہرین اور اساتذہ کی شرکت
افتتاحی تقریب میں ضلعی انتظامیہ کے افسران، نان فارمل تعلیمی اداروں سے وابستہ اساتذہ، طلبہ اور آئی ٹی ماہرین نے شرکت کی۔ شرکاء نے اس اقدام کو وقت کی اہم ضرورت قرار دیتے ہوئے کہا کہ مصنوعی ذہانت جیسے جدید مضامین نوجوانوں کے لیے روشن مستقبل کی ضمانت بن سکتے ہیں۔
ڈپٹی کمشنر میر رضا اوزگن کا خطاب
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر جہلم میر رضا اوزگن نے کہا کہ موجودہ دور میں انفارمیشن ٹیکنالوجی کے بغیر ترقی کا تصور ممکن نہیں۔ انہوں نے کہا کہ مصنوعی ذہانت آج کی دنیا میں تیزی سے ترقی کرنے والا شعبہ ہے اور نوجوانوں کو اس میدان میں مہارت حاصل کر کے عالمی سطح پر خود کو منوانے کے مواقع میسر آ سکتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ حکومت کی اولین ترجیح یہ ہے کہ نوجوانوں کو ایسی مہارتیں فراہم کی جائیں جو انہیں باعزت روزگار اور خود کفالت کی طرف لے جائیں۔
آئی ٹی ایکسپرٹ سید علی عباس زیدی اور ڈی او لٹریسی میمونہ انجم کی قیادت
اس پروفیشنل ٹریننگ کورس کو معروف آئی ٹی ایکسپرٹ سید علی عباس زیدی اور ڈسٹرکٹ آفیسر لٹریسی میمونہ انجم کی زیرِ نگرانی ترتیب دیا گیا ہے۔ پروگرام میں مصنوعی ذہانت کے بنیادی تصورات، جدید سافٹ ویئر ٹولز، ڈیجیٹل اسکلز اور عملی تربیت شامل کی گئی ہے تاکہ اساتذہ اور طلبہ عملی میدان میں بہتر کارکردگی دکھا سکیں۔
نان فارمل ایجوکیشن کا فروغ
ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ نان فارمل ایجوکیشن سسٹم معاشرے کے ان طبقات کے لیے نہایت اہم ہے جو روایتی تعلیمی نظام سے فائدہ نہیں اٹھا سکے۔ ایسے پروگرام اساتذہ کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں میں اضافے کے ساتھ ساتھ طلبہ کو جدید علوم سے روشناس کرانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
نوجوانوں کے لیے بہتر روزگار کے مواقع
تقریب کے دوران اس بات پر زور دیا گیا کہ آئی ٹی اور مصنوعی ذہانت کی تعلیم نوجوانوں کے لیے فری لانسنگ، ریموٹ جابز اور دیگر جدید روزگار کے مواقع پیدا کر سکتی ہے۔ شرکاء کا کہنا تھا کہ اس نوعیت کے کورسز نوجوانوں کو نہ صرف ملکی بلکہ بین الاقوامی مارکیٹ میں بھی قابلِ مسابقت بناتے ہیں۔
ضلعی انتظامیہ کی مکمل سرپرستی کا اعلان
ڈپٹی کمشنر میر رضا اوزگن نے یقین دہانی کروائی کہ ضلعی انتظامیہ ایسے تمام تعلیمی منصوبوں کی مکمل سرپرستی کرے گی جو نوجوانوں کو جدید علوم، آئی ٹی مہارتوں اور عملی تربیت فراہم کرنے میں مددگار ہوں۔ انہوں نے کہا کہ مستقبل میں بھی جہلم میں اس نوعیت کے مزید پروگرام متعارف کروائے جائیں گے۔
جدید تعلیم کی جانب ایک مثبت قدم
آخر میں شرکاء نے اس ٹریننگ پروگرام کو جہلم کے تعلیمی اور تکنیکی مستقبل کے لیے ایک مثبت اور خوش آئند قدم قرار دیا۔ شرکاء نے امید ظاہر کی کہ یہ کورس نوجوانوں کو باصلاحیت، خود مختار اور عالمی معیار کے مطابق تیار کرنے میں اہم کردار ادا کرے گا۔




