
وفاقی محتسب کی مداخلت، معمولی جرمانے کے باعث قید پانچ مستحق قیدی رہا سید
مخیر شہری کے تعاون سے جرمانے ادا، جیل انتظامیہ اور رہا ہونے والے قیدیوں کا اظہارِ تشکر
عاطف ندیم-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز کے ساتھ
وفاقی محتسب اعجاز احمد قریشی کی بروقت مداخلت اور ایک مخیر شہری کے تعاون سے معمولی جرمانے ادا نہ کر پانے کے باعث زیرِ حراست پانچ غریب اور مستحق قیدیوں کو رہا کر دیا گیا۔ اس انسانی ہمدردی پر مبنی اقدام کو قیدیوں کی فلاح اور جیل اصلاحات کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے۔
تفصیلات کے مطابق اسلام آباد کے ایک صاحبِ ثروت شہری چوہدری محمد دین شوق نے 29 دسمبر کو وفاقی محتسب سے ملاقات کے دوران رضاکارانہ طور پر ایک لاکھ روپے کا چیک پیش کیا۔ اس چیک کا مقصد ایسے مستحق قیدیوں کی رہائی ممکن بنانا تھا جو معمولی جرمانے ادا نہ کر سکنے کے باعث جیلوں میں قید تھے۔
وفاقی محتسب اعجاز احمد قریشی کی ہدایت پر رجسٹرار وفاقی محتسب نے ایک باضابطہ خط کے ہمراہ مذکورہ رقم کا چیک سنٹرل جیل راولپنڈی کے سپرنٹنڈنٹ کو ارسال کیا اور ہدایت کی کہ اس رقم کو استعمال کرتے ہوئے مستحق قیدیوں کے جرمانے ادا کر کے ان کی رہائی کی کارروائی مکمل کی جائے۔
جیل انتظامیہ نے اس ہدایت پر فوری عمل درآمد کرتے ہوئے 14 جنوری کو وفاقی محتسب کو ارسال کردہ اپنے خط میں آگاہ کیا کہ مذکورہ رقم سے پانچ قیدیوں کے جرمانے ادا کر دیے گئے ہیں، جو پندرہ ہزار سے تیس ہزار روپے کے درمیان تھے۔ ان جرمانوں کی عدم ادائیگی کے باعث یہ قیدی طویل عرصے سے جیل میں قید تھے۔
جیل سپرنٹنڈنٹ کے مطابق رہا کیے جانے والے قیدیوں میں نعیم ولد موذا، لیاقت ولد رقیب، صداقت ولد وزیر، نواب ولد عبدالغنی اور زین ولد اکرام شامل ہیں۔ رہائی کے بعد قیدیوں اور ان کے اہلِ خانہ نے وفاقی محتسب اور مخیر شہری کا تہہ دل سے شکریہ ادا کیا۔
جیل انتظامیہ نے بھی وفاقی محتسب کی اس انسانی ہمدردی پر مبنی کاوش کو سراہتے ہوئے کہا کہ ایسے اقدامات جیلوں میں اصلاحات، قیدیوں کی بحالی اور معاشرتی انصاف کے فروغ میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
واضح رہے کہ وفاقی محتسب اعجاز احمد قریشی جیل اصلاحات اور قیدیوں کی فلاح و بہبود کے لیے متعدد عملی اقدامات کر چکے ہیں۔ ماضی میں بھی مخیر حضرات کے تعاون سے ایسے قیدیوں کو رہا کرایا جاتا رہا ہے جو معمولی جرمانوں کی عدم ادائیگی کے باعث برسوں سے جیلوں میں قید تھے۔
ماہرین کے مطابق اس نوعیت کی کوششیں نہ صرف انسانی ہمدردی کی مثال ہیں بلکہ معاشرے میں انصاف، رحم دلی اور قانون کے مثبت اطلاق کو بھی فروغ دیتی ہیں، جس سے قیدیوں کو نئی زندگی شروع کرنے کا موقع ملتا ہے۔



