بین الاقوامیاہم خبریں

کیا چینی صدر کا اپنے جرنیلوں پر اعتماد ختم ہو رہا ہے؟

جن پنگ کے قریبی اتحادیوں میں شمار ہوتے ہیں اور طاقتور سینٹرل ملٹری کمیشن کے دو نائب چیئرمینوں میں سے ایک تھے۔ ایک اور سینیئر جنرل لیو ژن لی بھی تحقیقات کی زد میں ہیں اور دونوں کو ان کے عہدوں سے ہٹا دیا گیا ہے

پیپلز لبریشن آرمی میں بدعنوانی کے ایک اسکینڈل نے چین کی فوج کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ صدر شی جن پنگ کے دو نائبین کے خلاف تحقیقات نے مسلح افواج کے اندر وفاداری، طاقت اور کنٹرول کی کشمکش کو اجاگر کر دیا ہے۔

جنگ کا تجربہ کار جنرل

ژانگ یو شیا کا معاملہ خاص طور پر حیران کن ہے۔ وہ چین کے سب سے اعلیٰ رینک کے وردی پوش افسر تھے اور کمیشن کی قیادت میں ایسی واحد شخصیت تھے، جنہوں نے ایک عام سپاہی سے لے کر اعلیٰ ترین عہدے تک ترقی حاصل کی۔انہوں نے 1968 میں 18 سال کی عمر میں فوج میں شمولیت اختیار کی۔ 1979 اور 1984 میں انہوں نے ایک رجمنٹ کی کمان کی اور ویتنام کے ساتھ سرحدی جنگ میں حصہ لیا۔ بعد ازاں وہ چین کے شمال مشرقی خطے میں فوج کے کمانڈر بنے، اور پھر بیجنگ منتقل ہو کر فوجی ہیڈکوارٹرز میں اعلیٰ قیادت کی ذمہ داریاں سنبھالیں۔

ژانگ یو شیا
ژانگ یو شیا چین کے سب سے اعلیٰ رینک کے وردی پوش افسر تھے اور کمیشن کی قیادت میں ایسی واحد شخصیت تھے، جنہیں وسیع جنگی تجربہ حاصل ہےتصویر: Ng Han Guan/AP Photo/picture alliance

تائیوان کی تم کانگ یونیورسٹی میں سیاسی امور کے ماہر ینگ یو لن نے بتایا، "یہ معاملہ حیران کن ہے۔ اب سینٹرل ملٹری کمیشن کی قیادت میں کوئی بھی ایسا فرد موجود نہیں ہے، جس کے پاس حقیقی جنگی تجربہ ہو۔ یہ ایک سوالیہ نشان ہے۔”واضح رہے کہ شی جن پنگ اور کمیشن کے دوسرے نائب چیئرمین کا پس منظر فوجی کے بجائے سیاسی رہا ہے۔ژانگ کمیونسٹ پارٹی کی طاقتور 25 رکنی پولٹ بیورو کے بھی رکن تھے، جہاں وہ فوج کی نمائندگی کرتے تھے۔ انہیں شی جن پنگ کا پسندیدہ امیدوار بھی سمجھا جاتا تھا۔ 72 سال کی عمر میں، جب اکثر افراد ریٹائر ہو چکے ہوتے ہیں، پولٹ بیورو میں ان کی ترقی مروجہ اصولوں کی بھی خلاف ورزی تھی۔ژانگ کے شی جن پنگ کے ساتھ ذاتی تعلقات بھی گہرے تھے۔ ژانگ کے والد، شی جن پنگ کے والد کے ساتھ خدمات انجام دے چکے تھے، اور دونوں خاندان ایک ہی صوبے سے تعلق رکھتے ہیں۔

اعتماد میں دراڑ

کمیونسٹ پارٹی کے اندر بدعنوانی کے خلاف مہم برسوں سے سیاست دانوں کو قابو میں رکھنے اور نافرمانی کی سزا دینے کے لیے استعمال ہوتی رہی ہے۔ اور اس حوالے سے حالیہ عرصے میں، بظاہر توجہ جرنیلوں اور فوج پر مرکوز ہو گئی ہے، کیونکہ شی جن پنگ مسلح افواج کی قیادت کے ڈھانچے کو ازسرِنو ترتیب دینا چاہتے ہیں۔اکتوبر میں چینی حکام نے نو فوجی عہدیداروں کے خلاف بدعنوانی کی تحقیقات کا اعلان کیا تھا۔تائیوان کے انسٹیٹیوٹ فار نیشنل ڈیفنس اینڈ سکیورٹی ریسرچ کے منگ شِہ شین کے مطابق، ژانگ نے 2022 میں اس وقت کھل کر شی جن پنگ کی حمایت کی تھی، جب شی نے کمیونسٹ پارٹی کی 20ویں کانگریس میں تیسری مدت حاصل کرنے کے لیے طویل عرصے سے قائم داخلی اصولوں کو توڑا تھا۔شین نےبتایا، "شی جن پنگ نے فوج کے اندر بھی کئی پرانے اصول اور ممنوعات کی حدیں عبور کی ہیں، اور اپنی طاقت کو محفوظ بنانے کے لیے قابلِ اعتماد اتحادیوں کو معمول سے پہلے ترقی دی ہے۔تاہم شین کا کہنا ہے کہ فوج کے خلاف بدعنوانی مہم کی ابتدائی لہر کے بعد، ژانگ خود کو گھرا ہوا پایا ہو گا اور خطرہ محسوس کرنے لگے ہوں گے، گرچہ وہ ابتدائی ہدف نہیں تھے۔

صدر شی جن پنگ
ماہرین کے مطابق جو بھی چیئرمین کی حیثیت سے صدر شی جن پنگ کے اختیار پر سوال اٹھاتا ہے، اس پر نافرمانی یا پھر بغاوت کا الزام بھی لگ سکتا ہےتصویر: Greg Baker/AFP/Getty Images

لِن کے مطابق، "شی جن پنگ کو اب ان پر پوری طرح سے اعتماد نہیں رہا۔ ژانگ کے زوال کی وجوہات کے حوالے سے بدعنوانی، رشوت یا حتیٰ کہ غیر ملکی خفیہ اداروں کے لیے جاسوسی، جیسا کہ امریکی میڈیا نے رپورٹ کیا ہے، جیسے الزامات کی قیاس آرائیاں ہو رہی ہیں۔ یہ سب اس وقت غیر اہم ہو جاتی ہیں جب اعتماد ختم ہو جائے۔ اعتماد کے بغیر، الزام محض ایک رسمی کارروائی بن جاتا ہے۔”

نیٹ ورکس اور طاقت کی کشمکش

ژانگ کے کیس پر رپورٹنگ کرتے ہوئے، پیپلز لبریشن آرمی ڈیلی نے ان پر الزام لگایا کہ انہوں نے مسلح افواج کے سپریم کمانڈر کے طور پر چیئرمین کی جانب سے دیے گئے اختیارات کا ناجائز استعمال کیا۔ اخبار نے اس بات پر زور دیا کہ کوئی بھی عہدہ استثنا نہیں دیتا اور کوئی بھی فوجی اعزاز قانونی کارروائی سے بچاؤ بھی فراہم نہیں کرتا ہے۔تائیوان میں انسٹیٹیوٹ فار نیشنل ڈیفنس اینڈ سکیورٹی ریسرچ کے محقق چونگ چیئہ کے مطابق، یہ زبان اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ ژانگ نے فوج کے اندر اپنے وفادار حامیوں کا ایک نیٹ ورک قائم کر لیا تھا۔انہوں نے کہا، "ممکنہ طور پر شی جن پنگ نے اس نیٹ ورک کو ایک خطرہ سمجھا۔ یا تو شی کے یا پھر پارٹی کے بنیادی مفادات داؤ پر لگے ہوئے تھے۔”چونگ کے مطابق جو بھی چیئرمین کی حیثیت سے شی جن پنگ کے اختیار پر سوال اٹھاتا ہے، اس پر نافرمانی یا پھر بغاوت کا الزام بھی لگ سکتا ہے۔چین نے کئی دہائیوں سے کوئی بڑی جنگ نہیں لڑی ہے اور چینی زبان کے آن لائن فورمز پر سیاسی لطیفے گردش کر رہے ہیں، جیسے "فوج اب اپنے ہی جرنیلوں کے خلاف جنگ لڑ رہی ہے۔”یا "اگلی فوجی پریڈ ایک ایسے جنرل کی قیادت میں ہو گی جو نام ظاہر نہ کرنے کو ترجیح دے گا۔”اسی دوران، چین اپنی عسکری طاقت کا مظاہرہ جاری رکھے ہوئے ہے، خاص طور پر بحرالکاہل کے ساحل کے قریب بحری مشقوں کے ذریعے۔ 2025 میں چین کے فوجی اخراجات تقریباً 263 ارب ڈالر تک پہنچ گئے۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button