
رپورٹ سید عاطف ندیم-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز ذرائع کے ساتھ
پس منظر: ایک ہی دن، کئی مقامات پر تشدد
ہفتے کے روز بلوچستان کے مختلف شہروں اور حساس مقامات پر کالعدم بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) کے بیک وقت حملوں نے صوبے میں سکیورٹی صورتحال پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے۔ ان حملوں میں سرکاری تنصیبات، انفراسٹرکچر اور بعض مقامات پر عام شہری بھی متاثر ہوئے۔ ابتدائی چند گھنٹوں تک صورتحال غیر یقینی رہی تاہم بعد ازاں سکیورٹی فورسز نے تمام متاثرہ علاقوں میں کنٹرول سنبھال لیا۔
سرکاری ذرائع کے مطابق کئی حملہ آور مارے گئے جبکہ دیگر فرار ہونے پر مجبور ہوئے۔ اگرچہ جانی و مالی نقصان ہوا اور صوبائی حکومت کی رٹ پر وقتی دباؤ آیا، تاہم فورسز نے کسی بھی علاقے میں طویل المدت کنٹرول قائم ہونے نہیں دیا۔
انٹیلی جنس ناکامی یا دہشت گردوں کی مجبوری؟
بلوچستان حکومت کے مطابق ان حملوں سے متعلق انٹیلی جنس معلومات موجود تھیں اور جوابی کارروائیوں میں درجنوں دہشت گرد مارے گئے۔ سکیورٹی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ حملوں کی وسعت تشویشناک تھی، مگر ان کا انجام اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ حملہ آور کسی واضح اینڈ گیم کے بغیر میدان میں اترے۔
ماہرین کے مطابق کلاسیکی گوریلا وارفیئر میں خاموشی، محدود کارروائی اور عوامی حمایت کلیدی عناصر ہوتے ہیں، جبکہ حالیہ حملے اس کے برعکس نظر آئے۔
خواتین حملہ آور اور نیا آپریشنل پیٹرن
اس بار حملوں کا ایک نمایاں اور تشویشناک پہلو خواتین کا بطور حملہ آور استعمال تھا۔ کم از کم دو مقامات پر خواتین حملہ آوروں کی موجودگی کی تصدیق ہوئی، جن میں سے ایک کے خودکش حملہ آور ہونے کی اطلاعات بھی سامنے آئیں۔
مزید یہ کہ حملہ آوروں کی جانب سے کارروائی کے دوران ویڈیوز بنانا اور انہیں تشہیری مقاصد کے لیے استعمال کرنا ایک نیا رجحان قرار دیا جا رہا ہے۔ سکیورٹی تجزیہ کاروں کے مطابق یہ اقدام عسکری کامیابی سے زیادہ نفسیاتی دباؤ پیدا کرنے کی کوشش تھا۔
قیادت اور بیرونی روابط پر سوالات
بی ایل اے کی قیادت، خصوصاً اس کے سربراہ بشیر زیب کے کردار پر بھی نئی بحث شروع ہو گئی ہے۔ ماضی میں یہ تاثر دیا جاتا رہا کہ تنظیم کی قیادت پاکستان سے باہر بیٹھ کر کارروائیاں کنٹرول کر رہی ہے، تاہم حالیہ حملوں کے بعد سکیورٹی ادارے اس نیٹ ورک کی ساخت اور روابط کا ازسرِنو جائزہ لے رہے ہیں۔
عوامی ردِعمل: مزاحمت یا دہشت گردی؟
ان حملوں کے بعد رائے عامہ واضح طور پر منقسم نظر آئی۔ ایک طبقہ، جو سیاسی یا معاشی محرومیوں کا شکار ہے، بی ایل اے کے بیانیے سے متاثر دکھائی دیتا ہے۔ تاہم غالب رائے یہی سامنے آئی ہے کہ سرکاری افسران کے اغوا کی کوششیں، بینکوں کو نذرِ آتش کرنا، سڑکوں پر چلتی گاڑیوں کو نشانہ بنانا اور شہری زندگی مفلوج کرنا کسی بھی صورت مزاحمتی تحریک نہیں کہلا سکتا۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ جب کوئی مسلح گروہ عوام میں خوف پھیلانے لگے تو وہ ریاست کے بجائے براہِ راست معاشرے کے خلاف کھڑا ہو جاتا ہے، اور ایسی جنگیں تاریخ میں کبھی کامیاب نہیں ہوئیں۔
گوریلا تحریک سے دہشت گرد نیٹ ورک تک؟
ماہرین کے مطابق حالیہ کارروائیاں اس بات کا اشارہ ہیں کہ بی ایل اے کو نہ عوامی حمایت حاصل ہے اور نہ ہی کوئی قابلِ عمل سیاسی راستہ۔ اسی خلا کو پُر کرنے کے لیے شدت اور شور کو بطور ہتھیار استعمال کیا گیا، جو کہ گوریلا جنگ کی بنیادی روح کے منافی ہے۔
ایک سکیورٹی ماہر کے بقول:
"جب کوئی تنظیم خوف کو اپنا مرکزی ہتھیار بنا لے تو وہ اپنی سیاسی موت خود لکھ دیتی ہے۔”
ریاستی مؤقف: دہشت گردی کا جواب طاقت
ریاستی حکام واضح کر چکے ہیں کہ مسئلہ اختلافِ رائے نہیں بلکہ دہشت گردی ہے، اور دہشت گردی کا جواب طاقت اور قانون کی عملداری کے ذریعے ہی دیا جائے گا۔ سکیورٹی اداروں کا کہنا ہے کہ پاکستان کی ریاستی ساخت، ادارے اور سماجی جڑیں کسی بھی مسلح گروہ سے کہیں زیادہ مضبوط ہیں۔
نتیجہ: بڑھتا شور، سکڑتی گنجائش
ہفتے کے روز کی کارروائیوں کا مجموعی نتیجہ یہ سامنے آیا کہ بی ایل اے کو عسکری، اخلاقی اور عوامی سطح پر نقصان اٹھانا پڑا۔ ان حملوں سے نہ صرف تنظیم کا آپریشنل پیٹرن بے نقاب ہوا بلکہ یہ بھی واضح ہو گیا کہ وہ اس نوعیت کی شدید کارروائیاں بار بار کرنے کی پوزیشن میں نہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق جو گروہ اپنے ہی دعویٰ کردہ عوام کے روزگار، تحفظ اور بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنائے، وہ بالآخر عوامی ردِعمل کی زد میں آ جاتا ہے۔
اختتامی کلمات
بلوچستان میں ہونے والے حالیہ حملوں نے ایک بار پھر یہ سوال اٹھایا ہے کہ مسلح تشدد کس حد تک کسی مسئلے کا حل ہو سکتا ہے۔ تاریخ کا فیصلہ واضح ہے: جو جنگ معاشرے کے خلاف لڑی جائے، وہ زیادہ دیر تک نہیں چلتی۔ بلوچستان کے عوام بھی امن، ترقی اور استحکام چاہتے ہیں—اور یہی وہ حقیقت ہے جسے نظرانداز کر کے کوئی بھی گروہ کامیاب نہیں ہو سکتا۔



