پاکستاناہم خبریں

حکومت کی جانب سے پنجاب پولیس ہائی کمان میں تبدیلی کی منظوری، ڈاکٹر انور کو وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے) کے ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) کے طور پر تعینات کرنے کا امکان

بلال صدیق کامیانہ,وسیم سیال,راؤ عبدالکریم,ذوالفقار حمید کے نام آئی جی پنجاب زیر غور

سید عاطف ندیم-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز

حکومت پنجاب نے پولیس کی اعلیٰ کمان میں تبدیلی کی منظوری دے دی ہے، جس کے تحت پنجاب پولیس کے سربراہ کے عہدے پر نئے افسر کی تعیناتی کی جائے گی۔ ذرائع کے مطابق، اس فیصلے کی حتمی منظوری کے لیے سمری وزیراعظم کو ارسال کر دی گئی ہے، جس کے بعد یہ عمل باضابطہ طور پر مکمل ہو جائے گا۔

پنجاب پولیس ہائی کمان میں تبدیلی

اعلیٰ ذرائع نے تصدیق کی کہ حکومت نے پنجاب پولیس کی قیادت میں تبدیلی کے لیے انتظامات مکمل کر لیے ہیں۔ اس سلسلے میں پنجاب پولیس کے موجودہ سربراہ ڈاکٹر انور کی جگہ پر نئے افسر کی تعیناتی کی جائے گی۔ اطلاعات کے مطابق، ڈاکٹر انور کو وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے) کے ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) کے طور پر تعینات کرنے کا امکان ہے، جس کی باقاعدہ منظوری منگل کو متوقع ہے۔

پنجاب پولیس کی قیادت میں تبدیلی ایک بڑے انتظامی فیصلے کے طور پر سامنے آ رہی ہے، جس کا مقصد پولیس کی کارکردگی کو مزید بہتر بنانا اور صوبے میں امن و امان کی صورتحال کو مستحکم کرنا ہے۔

نئے پنجاب پولیس کے سربراہ کے لیے امیدواروں کا انتخاب

دریں اثنا، صوبائی حکومت نے پنجاب پولیس کے نئے سربراہ کے لیے تین اہم امیدواروں کا پینل تیار کیا ہے۔ یہ امیدوار مختلف اہم عہدوں پر خدمات انجام دے چکے ہیں اور ان کے پاس وسیع تجربہ ہے، جس کی وجہ سے انہیں اس عہدے کے لیے زیر غور لایا گیا ہے۔ یہ امیدوار درج ذیل ہیں:

  1. بلال صدیق کامیانہ: لاہور کے کیپیٹل سٹی پولیس آفیسر (سی سی پی او)، جو کہ اپنی پیشہ ورانہ صلاحیتوں اور پولیسنگ کے مختلف شعبوں میں گہری مہارت کے لیے معروف ہیں۔

  2. وسیم سیال: پنجاب کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ کے ایڈیشنل انسپکٹر جنرل (اے آئی جی)، جنہوں نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اہم کردار ادا کیا ہے اور صوبے میں امن و امان کی صورتحال کو بہتر بنانے کے لیے مختلف اقدامات اٹھائے ہیں۔

  3. راؤ عبدالکریم: سپیشل برانچ کے ایڈیشنل انسپکٹر جنرل (اے آئی جی)، جو کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ تعاون میں مہارت رکھتے ہیں اور سیکیورٹی سے متعلق امور پر گہری نظر رکھتے ہیں۔

اس کے علاوہ، ذوالفقار حمید، جو کہ خیبرپختونخوا کے انسپکٹر جنرل (آئی جی) ہیں، بھی اس عہدے کے لیے اہم امیدواروں میں شامل ہیں۔ ان کے بارے میں یہ بھی اطلاعات ہیں کہ وہ پنجاب پولیس کے سربراہ کے لیے دوڑ میں شامل ہیں۔

ڈاکٹر انور کی خدمات اور پس منظر

ڈاکٹر انور نے پنجاب پولیس کی قیادت میں اہم تبدیلیوں کا آغاز کیا تھا اور ان کی تعیناتی جنوری 2023 میں پنجاب کی نگراں حکومت نے کی تھی۔ اس سے قبل، ڈاکٹر انور پنجاب کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ میں تعینات تھے اور ان کے پاس پولیسنگ کے مختلف شعبوں میں طویل تجربہ ہے۔ وہ فیصل آباد کے سینئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (ایس ایس پی) آپریشنز اور راولپنڈی کے چیف ٹریفک آفیسر کے طور پر بھی خدمات انجام دے چکے ہیں۔

ڈاکٹر انور نے اسلام آباد میں وزیراعظم آفس میں بھی اپنی خدمات پیش کیں اور اوکاڑہ اور سرگودھا میں ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر کے طور پر کام کیا۔ اس کے علاوہ، انہوں نے ٹیلی کمیونیکیشن اور ایلیٹ پولیس میں بھی اہم ذمہ داریاں نبھائیں اور پولیسنگ کے مختلف زاویوں سے متعلق گہری مہارت حاصل کی۔

پولیس کے محکمے میں تبدیلی کی ضرورت

پنجاب میں پولیس کے اعلیٰ افسران کی تعیناتی اور تبدیلیاں ایک پیچیدہ اور وقت طلب عمل ہیں۔ پنجاب پولیس کے سربراہ کی تبدیلی کا مقصد پولیس کی کارکردگی میں بہتری لانا اور عوام کے تحفظ کو یقینی بنانا ہے۔ اس کے علاوہ، اس تبدیلی کا ایک اہم مقصد صوبے میں بڑھتے ہوئے جرائم کے سدباب اور امن و امان کی بحالی ہے۔

پولیس کی اعلیٰ قیادت کی تبدیلی ایسے وقت میں کی جا رہی ہے جب پنجاب میں سیکیورٹی کی صورتحال کو مزید مستحکم کرنے کی ضرورت ہے۔ مختلف آپریشنز اور اقدامات کے ذریعے دہشت گردی، منشیات کی اسمگلنگ، اور جرائم کی دیگر اقسام کے خلاف جنگ جاری ہے، اور نئے پولیس سربراہ سے توقع کی جا رہی ہے کہ وہ ان چیلنجز کا سامنا کرنے کے لیے ایک نئی حکمت عملی اپنائیں گے۔

آگے کی حکمت عملی

نئے پولیس سربراہ کی تعیناتی کے بعد توقع کی جا رہی ہے کہ پولیس کی تربیت، آپریشنل صلاحیتوں اور ٹیکنالوجی کا استعمال بڑھایا جائے گا۔ اس کے علاوہ، پولیس فورس کے ساتھ عوامی تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کی بھی ضرورت ہے تاکہ عوام کا پولیس پر اعتماد بڑھ سکے اور مختلف جرائم کی روک تھام میں موثر اقدامات کیے جا سکیں۔

موجودہ حکومتی اقدامات کے تحت پنجاب پولیس کے نئے سربراہ کو نہ صرف موجودہ سیکیورٹی چیلنجز سے نمٹنا ہوگا بلکہ پولیسنگ کے نظام میں اصلاحات بھی کرنی ہوں گی تاکہ عوام کے تحفظ کو مزید مؤثر بنایا جا سکے۔

نتیجہ

پنجاب پولیس کی اعلیٰ کمان میں متوقع تبدیلی ایک اہم پیش رفت ہے اور اس کا مقصد صوبے میں امن و امان کی صورتحال کو بہتر بنانا ہے۔ نئے پولیس سربراہ کی تعیناتی اور ڈاکٹر انور کی ایف آئی اے میں ممکنہ تعیناتی سے پولیس فورس میں نئی توانائی اور عزم کی لہر دوڑنے کی توقع ہے، جس سے پنجاب میں جرائم کی شرح میں کمی اور عوام کے تحفظ میں مزید بہتری آئے گی۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button