
بیان میں کہا گیا ہے: ”پاسپورٹ کے بغیر وہ اپنی رہائش کو محفوظ نہیں بنا سکتے، اپنے ملازمت کے معاہدوں میں توسیع نہیں کر سکتے، اور بعض صورتوں میں بنیادی انتظامی طریقہ کار بھی مکمل نہیں کر سکتے۔ یہ توقع رکھنا کہ پاسپورٹ کے معاملات طالبان کے ڈھانچے کے ذریعے حل کیے جائیں گے، متاثرہ افراد کی تلخ حقیقت کو نظر انداز کرنے کے مترادف ہے۔‘‘
جرمن حکومت افغانستان میں ملک بدری کے عمل کو تیز کرنے کی کوشش کر رہی ہے، اور ایسا لگتا ہے کہ طالبان اس موقع کو یورپ میں بتدریج سفارتی شناخت حاصل کرنے کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔
انتہا پسند طالبان نے، جنہیں امریکہ سمیت کئی ممالک نے دہشت گرد تنظیم قرار دیا (اگرچہ یورپی یونین نے ایسا نہیں کیا) 2021 میں نیٹو افواج کے انخلاء کے بعد افغانستان کا کنٹرول دوبارہ حاصل کر لیا تھا۔ اب تک صرف روس نے طالبان حکومت کو افغانستان کی جائز حکومت کے طور پر تسلیم کیا ہے۔ تاہم، بہت سے ممالک طالبان کے ساتھ سفارتی تعلقات برقرار رکھے ہوئے ہیں۔ دوسری طرف طالبان حکومت کی طرف سے شریعت کے سخت نفاذ اور انسانی حقوق کی بے شمار خلاف ورزیوں پر عالمی سطح پر مذمت کی جاتی رہی ہے۔
دہشت گردوں کے ساتھ تعاون؟
جرمن وزارتِ داخلہ کے حکام نے 2025ء میں ملک بدری کے عملی پہلوؤں پر بات چیت کے لیے افغانستان کا دورہ کیا تھا، جس کا نتیجہ وزارت کے مطابق یہ نکلا کہ طالبان اصولی طور پر ہر اس شخص کو واپس لینے پر راضی ہو گئے ہیں جس کا افغان شہری ہونا ثابت ہو جائے۔
رواں سال جنوری کے وسط میں جرمن پارلیمنٹ میں خطاب کرتے ہوئے وزیرِ داخلہ الیکسانڈر ڈوبرنٹ نے تصدیق کی کہ افغانستان میں ملک بدری کا سلسلہ دسمبر میں شروع ہو چکا ہے، جس کا آغاز مجرمانہ ریکارڈ رکھنے والے افراد سے کیا گیا۔

بون انٹرنیشنل سینٹر آف کنفلکٹ اسٹڈیز (بی آئی سی سی) کے ڈائریکٹر اور افغانستان سے متعلق امور کے ماہر کونراڈ شیٹر کے مطابق یہ ایک ”ڈرٹی ڈیل‘‘ یا گندا سودا تھا، کیونکہ یہ قونصل خانوں میں طالبان حکام کو افغان نمائندوں کے طور پر تسلیم کرنے کے مترادف ہے۔ یہ معاہدہ طالبان حکام کو جرمنی میں مقیم افغان شہریوں کے تمام ڈیٹا تک رسائی بھی فراہم کرتا ہے، حالانکہ ان میں سے بہت سے لوگ اس لیے فرار ہوئے تھے کیونکہ انہیں حکومت سے خطرہ تھا، جس کی ایک وجہ یہ تھی کہ انہوں نے افغانستان میں جرمن فوج کی مدد کی تھی۔
شیٹر نے کہا کہ اس صورتحال نے برلن میں افغان سفارت خانے اور بون اور میونخ میں اس کے دو قونصل خانوں میں ایک ”گرے زون‘‘ پیدا کر دیا ہے۔ کچھ دفاتر اب بھی سابقہ نیٹو نواز حکومت کے نمائندے چلا رہے ہیں، جبکہ دیگر پر طالبان نے قبضہ کر لیا ہے، جن کے خلاف نیٹو نے دو دہائیوں تک جنگ لڑی تھی۔
شیٹر کا مزید کہنا تھا: ”یہ کام کم و بیش غیر رسمی طریقے سے کیا گیا۔ دونوں فریقوں کا مقصد تھا کہ یہ بات زیادہ عام نہ ہو، لیکن یہ پھیل گئی۔ اس کا مطلب یہ بھی ہے کہ طالبان کی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر مبنی پالیسی کو اس اقدام سے ایک طرح سے قبولیت مل گئی ہے۔‘‘
انہوں نے مزید کہا کہ دیگر یورپی ممالک نے طالبان کو افغان قونصل خانوں تک اس طرح کی آسان رسائی نہیں دی ہے۔ ان کا کہنا تھا، ”اب تک جرمنی اس معاملے میں پیش پیش ہے۔ میرا خیال ہے کہ باقی تمام ممالک دیکھ رہے ہیں کہ جرمنی کیا کرتا ہے، کیونکہ جرمنی میں افغان تارکینِ وطن کی سب سے بڑی تعداد موجود ہے اور افغانوں کی ملک بدری کے سوال پر جرمنی ایک اہم ملک ہے۔‘‘
سابق افغان سفارتی عملہ اب پناہ کی درخواستیں دے رہا ہے
جرمن وزارتِ خارجہ نے تصدیق کی کہ وہ افغانستان سے بھیجے گئے نئے عملے کے ارکان کو منظوری دے رہی ہے، جس پر سابق افغان حکومت کے مقرر کردہ عملے نے شدید غم و غصے کا اظہار کیا ہے۔
گزشتہ سال اکتوبر میں، حامد ننگیالے کبیری نے بون میں افغان قونصل خانے میں قائم مقام قونصل جنرل کے عہدے سے احتجاجاً استعفیٰ دے دیا تھا، جب طالبان ارکان کو قونصل خانے بھیجا گیا اور جرمن حکومت نے انہیں تسلیم کر لیا۔
انہوں نے بتایا، ”میں نے ان سے کہا کہ میں دہشت گردوں کے ساتھ کام نہیں کر سکتا۔ اسی لیے میں نے اپنی ملازمت چھوڑ دی۔ اب بون میں قونصل خانہ طالبان کا ہے۔ مجھے افغان ہونے پر فخر ہے، لیکن طالبان ہماری حکومت نہیں ہیں۔‘‘
اس وقت انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا تھا، ‘یہ انتہائی تشویشناک ہے کہ جبر و استبداد پر مبنی حکومت کے مقرر کردہ افراد کو یورپی سرزمین پر افغان سفارتی مشن کا کنٹرول سنبھالنے کی اجازت دی گئی۔‘‘
آمدنی سے محروم ہونے اور افغانستان واپسی پر ظلم و ستم کے خطرے کے پیشِ نظر، کبیری نے جرمنی میں پناہ کے لیے درخواست دی۔ چار ماہ بعد بھی وہ فیصلے کے منتظر ہیں۔ وہ دستاویزات کے لیے افغان قونصل خانے جانے کے لیے تیار نہیں ہیں کیونکہ وہاں انہیں اپنے خاندان کے بارے میں معلومات فراہم کرنا ہوں گی۔
انہوں نے کہا، ”اگر طالبان کو پتہ چل جائے کہ میری ماں اور والد افغانستان میں کہاں رہتے ہیں، یا میری بہن اور بھائی کہاں ہیں، تو وہ انہیں آسانی سے تشدد کا نشانہ بنا سکتے ہیں۔ ہر کوئی ان سیاسی کھیلوں سے خوفزدہ ہے۔‘‘
کیا افغانوں کے قیام کا کوئی محفوظ راستہ ہے؟
برلن میں قائم این جی او (وائی اے اے آر) کی قانونی مشیر جینیٹ ہوپنگ نے، جو جرمنی میں افغانوں کی مدد کرتی ہیں، کہا کہ بہت سے لوگ اب قونصل خانوں میں داخل ہونے سے ڈرتے ہیں۔ ‘یار‘ اور دیگر سول سوسائٹی تنظیموں کا کہنا ہے کہ جرمن حکومت کو افغانوں کے لیے شناختی دستاویزات اور پاسپورٹ کی توسیع کے لیے ایک محفوظ بیوروکریٹک راستہ بنانا چاہیے۔
ہوپنگ نے وضاحت کی کہ ایسا آپشن پہلے موجود تھا۔ 2021 میں افغانستان میں تبدیلیِ حکومت کے بعد، جرمنی میں افغانوں کو ”گرے پاسپورٹ‘‘ حاصل کرنے کی اجازت دی گئی تھی، یہ بے وطن لوگوں اور دیگر غیر ملکیوں کے لیے خصوصی پاسپورٹ ہوتے ہیں جن کے لیے اپنے ملک سے پاسپورٹ حاصل کرنا بہت مشکل سمجھا جاتا ہو۔
لیکن اب افغانوں کے لیے یہ راستہ بند کر دیا گیا ہے، اور اب جرمنی میں رہائش کی درخواست دینے کے لیے انہیں افغان دستاویزات، یا تو افغان پاسپورٹ یا ‘تذکرہ‘ (افغان شناختی کارڈ) دکھانا لازمی ہے۔
انٹرنیشنل ‘افغانستان اینالسٹس نیٹ ورک‘ کے سابق شریک ڈائریکٹر تھامس روٹگ کے مطابق، زیادہ لوگوں کو ملک بدر کرنے کے دباؤ نے طالبان کو قونصل خانے کا عملہ تبدیل کرنے کے لیے ضروری اثر و رسوخ فراہم کیا۔ روٹگ کا خیال ہے کہ جرمنی نے طالبان کو قونصل خانوں کا کنٹرول سنبھالنے کی اجازت دے کر بلا ضرورت لاپرواہی برتی ہے اور وہ یہ نہیں مانتے کہ جرمن وزارتِ خارجہ کابل سے بھیجے گئے کسی بھی اہلکار کو تسلیم کرنے کی پابند تھی۔
انہوں نے بتایا، ”سفارت کاری اور بین الاقوامی قانون میں ہمیشہ متبادل راستے موجود ہوتے ہیں۔ ہم دوسرے ممالک میں یہ دیکھ رہے ہیں۔ میرا خیال ہے کہ اس پوری حرکت کے پیچھے جرمن حکومت کی ایک ہی ترجیح ہے: افغانستان میں بڑے پیمانے پر ملک بدری۔‘‘
جہاں تک سابق سفارت کار کبیری کا تعلق ہے، وہ اس پوری صورتحال کو مضحکہ خیز سمجھتے ہیں۔ انہیں حیرت ہے کہ جرمن حکومت نے پہلے لوگوں کو اس لیے پناہ دی کیونکہ طالبان انہیں نشانہ بنا رہے تھے، اور اب انہی لوگوں کو دوبارہ طالبان کے پاس بھیجا جا رہا ہے؟



