
اسلامی ملٹری اتحاد برائے انسداد دہشت گردی کا وفد پاکستان میں
دہشت گردی کے خلاف مشترکہ حکمتِ عملی کو مضبوط بنانے پر زور
سید عاطف ندیم-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز
اسلامی ملٹری کاؤنٹر ٹیررازم کولیشن (IMCTC) کا 17 رکنی اعلیٰ سطحی وفد پاکستان کے ایک ہفتے کے سرکاری دورے پر پہنچ گیا ہے۔ اس دورے کا بنیادی مقصد دہشت گردی کے خلاف مشترکہ کوششوں، تعاون اور ہم آہنگی کو فروغ دینا ہے، تاکہ مسلم دنیا کو درپیش سیکیورٹی چیلنجز سے مؤثر انداز میں نمٹا جا سکے۔
اسلامی ملٹری کاؤنٹر ٹیررازم کولیشن کا تعارف
اسلامی ملٹری کاؤنٹر ٹیررازم کولیشن ایک کثیرالملکی فوجی اتحاد ہے، جو دسمبر 2015 میں سعودی عرب کی قیادت میں قائم کیا گیا۔ اس اتحاد کا مقصد مسلم ممالک کی انسدادِ دہشت گردی کی کوششوں کو ایک مشترکہ پلیٹ فارم پر لانا ہے تاکہ دہشت گردی، انتہا پسندی اور شدت پسندی کا اجتماعی اور مؤثر جواب دیا جا سکے۔
یہ اتحاد کسی خاص ملک، فرقے یا خطے کے خلاف نہیں بلکہ عالمی امن و سلامتی کے فروغ کے لیے کام کر رہا ہے۔
اتحاد میں شامل رکن ممالک
آئی ایم سی ٹی سی میں اس وقت 43 مسلم ممالک شامل ہیں، جن میں
پاکستان، سعودی عرب، ترکی، افغانستان، مصر، اردن، قطر، فلسطین، متحدہ عرب امارات، بنگلہ دیش اور دیگر اسلامی ممالک شامل ہیں۔

یہ ممالک فوجی، انٹیلی جنس، تربیتی اور نظریاتی سطح پر باہمی تعاون کے ذریعے دہشت گردی کے خطرے سے نمٹنے کے لیے سرگرم ہیں۔
وفد کی قیادت اور اہم ملاقاتیں
ریڈیو پاکستان کے مطابق، اس وفد کی قیادت آئی ایم سی ٹی سی کے سیکرٹری جنرل محمد بن سعید المغیدی کر رہے ہیں۔ دورے کے دوران وفد پاکستان کی عسکری اور سول قیادت سے ملاقاتیں کرے گا، جن میں علاقائی سیکیورٹی صورتحال، دہشت گردی کے بدلتے رجحانات اور مشترکہ لائحہ عمل پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔
انسداد دہشت گردی کے خصوصی تربیتی پروگرام کا افتتاح
اس دورے کی ایک اہم پیش رفت کے طور پر دہشت گردی کے تدارک کے لیے ایک خصوصی تربیتی پروگرام کا افتتاح بھی کیا جائے گا۔ اس پروگرام کا مقصد رکن ممالک کی سیکیورٹی فورسز کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں میں اضافہ، جدید تربیتی طریقوں کا تبادلہ اور مشترکہ آپریشنل صلاحیت کو مضبوط بنانا ہے۔
ریڈیو پاکستان کا مؤقف
ریڈیو پاکستان کے مطابق:
’’اس دورے کا مقصد دہشت گردی کے خلاف جدوجہد میں مشترکہ کوششوں اور تعاون کو مضبوط بنانا ہے۔ یہ وفد اسلامی دنیا کے درمیان دہشت گردی کے خلاف مضبوط اتحاد کی علامت ہے۔‘‘
یہ بیان اس عزم کی عکاسی کرتا ہے کہ مسلم ممالک دہشت گردی کے خلاف متحد اور پرعزم ہیں۔
پاکستان کا کردار اور تجربہ
پاکستان کو دہشت گردی کے خلاف جنگ میں وسیع تجربہ حاصل ہے۔ گزشتہ دو دہائیوں کے دوران پاکستان نے دہشت گرد تنظیموں کے خلاف مؤثر فوجی آپریشنز، انٹیلی جنس اقدامات اور قومی ایکشن پلان جیسے اقدامات کے ذریعے امن و استحکام کے قیام میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
اسی تناظر میں پاکستان کو آئی ایم سی ٹی سی میں ایک کلیدی شراکت دار سمجھا جاتا ہے۔
جنرل (ریٹائرڈ) راحیل شریف کی تقرری
پاکستان کے سابق آرمی چیف جنرل (ریٹائرڈ) راحیل شریف کو 2017 میں آئی ایم سی ٹی سی کا کمانڈر ان چیف مقرر کیا گیا تھا۔ ان کی تقرری کو پاکستان کی انسداد دہشت گردی میں کامیابیوں اور پیشہ ورانہ عسکری قیادت کے اعتراف کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔
مسلم دنیا کے لیے اتحاد کی اہمیت
ماہرین کے مطابق، آئی ایم سی ٹی سی جیسے پلیٹ فارمز دہشت گردی کے خلاف مشترکہ بیانیہ، عملی تعاون اور اسٹریٹجک ہم آہنگی پیدا کرنے میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ بدلتی ہوئی عالمی سیکیورٹی صورتحال میں اس طرح کے اتحاد وقت کی اہم ضرورت بن چکے ہیں۔
دورے سے متوقع نتائج
یہ دورہ نہ صرف پاکستان اور آئی ایم سی ٹی سی کے درمیان تعلقات کو مزید مضبوط کرے گا بلکہ مسلم دنیا میں امن، استحکام اور مشترکہ سلامتی کے فروغ میں بھی معاون ثابت ہوگا۔ دورے کے اختتام پر دہشت گردی کے خلاف تعاون کو مزید وسعت دینے کے عزم کا اعادہ کیے جانے کی توقع ہے۔





