مشرق وسطیٰتازہ ترین

ایران، امریکہ اور خلیج: مذاکرات، میزائل اور ایک جنگ جو ابھی لڑی نہیں گئی

اس کے ساتھ ساتھ امریکی فضائیہ کے جدید اثاثے خطے میں مختلف امریکی اڈوں پر منتقل کیے جا چکے ہیں۔

سید عاطف ندیم-وائس آف جرمنی اردو نیوز کے ساتھ

ایران اور امریکہ کے درمیان عمان میں ہونے والے مذاکرات کے پہلے دور کے اختتام پر بظاہر فضا میں نرمی کے آثار نظر آئے۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی اور اس کے بعد خود امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مذاکرات کو ’’اچھا‘‘ قرار دینا ایک ایسے خطے میں غیر معمولی بات ہے جہاں اکثر الفاظ سے زیادہ میزائل بولتے ہیں۔ لیکن سفارتی بیانات کی اس نرم تہہ کے نیچے خلیج کی صورتِ حال چاقو کی دھار پر کھڑی ہے—اور شاید پہلے سے زیادہ خطرناک۔

مذاکرات کی میز کے نیچے تعینات بحری بیڑے

جب عمان میں سفارت کار بات کر رہے تھے، اسی وقت خلیج میں یو ایس ایس ابراہم لنکن کی قیادت میں ایک مکمل امریکی کیریئر اسٹرائیک گروپ ایران سے محض ایک ہزار کلومیٹر کے فاصلے پر موجود تھا۔ اطلاعات یہ بھی ہیں کہ بحرالکاہل سے کم از کم ایک اور کیریئر گروپ مشرقِ وسطیٰ کی جانب بڑھ رہا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ امریکی فضائیہ کے جدید اثاثے خطے میں مختلف امریکی اڈوں پر منتقل کیے جا چکے ہیں۔

یہ وہ تضاد ہے جو ایران کو سب سے زیادہ کھٹکتا ہے: ایک ہاتھ میں مذاکرات کی فائل، دوسرے ہاتھ میں تلوار۔ تہران نے کھل کر کہا ہے کہ اس قسم کی فوجی تشکیل مذاکرات کے لیے سازگار ماحول پیدا نہیں کرتی۔ ایرانی فوج اور اسلامی انقلابی گارڈز کور (IRGC) کے بیانات میں کوئی ابہام نہیں تھا—’’ایران کی انگلی محرک پر ہے‘‘۔

خلیجی عرب ممالک کے لیے پیغام

دلچسپ اور قابلِ غور بات یہ ہے کہ آئی آر جی سی کے کمانڈر نے خلیجی عرب ریاستوں کو ایک طرح سے یقین دہانی بھی کروائی۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر ایران پر امریکہ یا اسرائیل نے حملہ کیا تو ’’ہمارے بھائیوں‘‘ یعنی پڑوسی عرب ممالک کو نشانہ نہیں بنایا جائے گا۔ تاہم ایک واضح سرخ لکیر کھینچ دی گئی: ان ممالک کی سرزمین پر موجود امریکی فوجی اڈے ایران کے لیے جائز اہداف ہوں گے۔

یہ بیان خلیجی ریاستوں کے لیے ایک دو دھاری پیغام ہے—ایک طرف برادرانہ زبان، دوسری طرف عملی حقیقت کہ ان کی سلامتی بڑی حد تک واشنگٹن کے فیصلوں سے جڑی ہوئی ہے، نہ کہ ان کے اپنے ارادوں سے۔

الجزیرہ کا مبینہ مسودہ: معاہدہ یا فریب؟

اسی تناظر میں الجزیرہ کی ایک رپورٹ نے خطے میں ہلچل مچا دی۔ رپورٹ کے مطابق امریکہ اور ایران کے درمیان ایک مجوزہ معاہدے کا مسودہ موجود ہے، جسے قطر، ترکی اور مصر کے ثالثوں نے دونوں فریقین کے سامنے رکھا۔ اس مسودے کے تحت ایران تین سال کے لیے یورینیم کی افزودگی صفر کرنے، اور اس کے بعد اسے 1.5 فیصد سے کم سطح پر رکھنے پر آمادہ ہو سکتا ہے۔

اس کے علاوہ ایران کے پاس موجود تقریباً 440 کلوگرام 60 فیصد افزودہ یورینیم کو کسی تیسرے ملک منتقل کرنے کی تجویز بھی شامل ہے۔ یہ وہ ذخیرہ ہے جو ایران کو تکنیکی طور پر ایٹمی ہتھیار بنانے کی دہلیز پر کھڑا کرتا ہے۔

مسودے میں یہ بھی کہا گیا کہ ایران بیلسٹک میزائل حملے شروع نہیں کرے گا اور نہ ہی خطے میں اپنے اتحادی مسلح گروہوں کو ہتھیار یا ٹیکنالوجی فراہم کرے گا۔

لیکن اس مسودے کی سب سے عجیب اور معنی خیز خامی یہ ہے کہ اس میں اس سوال کا کوئی جواب موجود نہیں: بدلے میں ایران کو کیا ملے گا؟
پابندیاں؟ مالی ریلیف؟ عالمی نظام میں واپسی؟
خاموشی خود بہت کچھ کہہ جاتی ہے۔

ایران کا بنیادی مسئلہ: اعتماد کا فقدان

ایران کے لیے مسئلہ صرف موجودہ مذاکرات نہیں، بلکہ ماضی کا تلخ تجربہ ہے—خاص طور پر 2015 کا جوائنٹ کمپری ہینسو پلان آف ایکشن (JCPOA)۔

یہ معاہدہ اوباما انتظامیہ کے دوران طے پایا تھا، جس کے تحت ایران نے اپنی یورینیم افزودگی کو 3.67 فیصد تک محدود کرنے، سینٹری فیوجز کم کرنے اور IAEA کو وسیع رسائی دینے پر اتفاق کیا تھا۔ اس معاہدے کے اہم معماروں میں عباس عراقچی خود شامل تھے۔

لیکن پھر ڈونلڈ ٹرمپ نے، اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کے دباؤ اور خواہشات کے عین مطابق، اس معاہدے کو یکطرفہ طور پر توڑ دیا۔ محدود پابندیوں میں جو ریلیف دیا گیا تھا، وہ بھی واپس لے لیا گیا اور ’’زیادہ سے زیادہ دباؤ‘‘ کی پالیسی نافذ کر دی گئی۔

ایران کے نقطہ نظر سے سبق بالکل واضح تھا:
امریکہ کے دستخط کی کوئی ضمانت نہیں۔

ایران کا جوابی سفر: افزودگی سے مزاحمت تک

اگلے پانچ برسوں میں ایران نے بتدریج JCPOA کی پابندیوں سے دستبرداری اختیار کی۔ یورینیم افزودگی کی سطح بڑھتی گئی—پہلے 20 فیصد، پھر 60 فیصد۔ IAEA کے معائنہ کاروں کی رسائی محدود ہوتی گئی۔

پینٹاگون کے سابق مشیر اور معروف جوہری سائنس دان تھیوڈور پوسٹول کے مطابق ایران کو اب ایک ’’غیر اعلانیہ جوہری ہتھیار رکھنے والی ریاست‘‘ کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔

پوسٹول کا کہنا ہے کہ ایران کے پاس 13 ہزار سینٹری فیوجز ہیں، اور صرف 174 کاسکیڈنگ سینٹری فیوجز کی چند لائنیں اسے چند ہفتوں میں ہتھیاروں کے درجے کا یورینیم فراہم کر سکتی ہیں۔ ان کے مطابق ایران تکنیکی طور پر بم بنانے کے دہانے پر ہے۔

یہاں تک کہ پوسٹول نے یہ بھی کہا کہ انہوں نے ایرانی قیادت کو مشورہ دیا ہے کہ JCPOA ٹوٹنے کے بعد ایران پر کسی اخلاقی یا قانونی پابندی کا اطلاق نہیں ہوتا۔

امریکہ پر حملہ: دانشمندی یا تباہی؟

دلچسپ بات یہ ہے کہ امریکہ کے اندر بھی کئی بااثر آوازیں ایران پر حملے کے خلاف ہیں۔ کولمبیا یونیورسٹی کے پروفیسر جیفری سیکس، ریٹائرڈ کرنل ڈگلس میکگریگر، سابق پینٹاگون مشیر اور اقوام متحدہ کے ہتھیاروں کے انسپکٹر سکاٹ رائٹر—یہ سب اس بات پر متفق ہیں کہ ایران پر حملہ ایک اسٹریٹجک غلطی ہو گی۔

ان ماہرین کے مطابق ایران کا میزائل پروگرام نہ صرف جدید بلکہ مقدار میں بھی اتنا وسیع ہے کہ اسرائیل اور خطے میں امریکی فوجی اڈوں کو شدید نقصان پہنچا سکتا ہے۔ اگر امریکی فوجی ہلاکتیں ہوئیں تو امریکہ کے اندر سیاسی ردعمل بے قابو ہو سکتا ہے۔

یقیناً یہ ماہرین امریکی عسکری طاقت کو کم تر دکھانے کے الزام کی زد میں آ سکتے ہیں، مگر ان کے خدشات کو نظرانداز کرنا بھی خطرناک ہو گا۔

اسرائیل کا زاویہ: ایک ہی خطرہ

اس پوری تصویر میں اسرائیل کا مؤقف سادہ مگر سخت ہے: خطے میں اسرائیل کے لیے واحد حقیقی خطرہ ایران ہے۔
شام کمزور ہو چکا ہے، حزب اللہ کو شدید نقصان پہنچ چکا ہے، عراق میں ایران نواز ملیشیاؤں کی صلاحیت محدود ہے۔
ایران باقی ہے—اور اس نے غزہ میں جاری نسل کشی کو روکنے کے لیے عملی مزاحمت کی ہے۔

اسرائیل-امریکہ منصوبہ واضح ہے: اسرائیل کو لاحق ہر خطرے کو ختم کرنا۔

عمان کیوں؟

ایران نے ترکی میں مذاکرات سے انکار کیا، حالانکہ قطر، مصر، متحدہ عرب امارات، سعودی عرب اور پاکستان کو بھی اس عمل میں شامل ہونے کی دعوت دی گئی۔ تہران نے اصرار کیا کہ مذاکرات وہیں سے شروع ہوں جہاں گزشتہ سال جون میں اسرائیل اور امریکہ کے حملوں نے سب کچھ توڑ دیا تھا—اور وہ صرف عمانی ثالثوں پر اعتماد کرتا ہے۔

یہ انتخاب بھی ایران کے مزاج اور اس کے عدم اعتماد کی عکاسی کرتا ہے۔

اندرونی محاذ: موساد کی دراندازی

ایک اور اہم مگر کم زیرِ بحث پہلو ایران کے اندر موساد کی مبینہ دراندازی ہے۔ اسرائیلی خفیہ نیٹ ورکس نے ایران کے اندرونی ڈھانچے میں جو رخنے ڈالے ہیں، انہوں نے مقامی مخالفت اور ریاستی استحکام کو نقصان پہنچایا ہے۔ یہ ایک خاموش جنگ ہے—جو میزائلوں کے بغیر لڑی جا رہی ہے، مگر اتنی ہی خطرناک ہے۔

نتیجہ: جنگ جو ابھی ٹلی ہوئی ہے

عمان میں ہونے والے مذاکرات شاید ایک موقع ہیں—لیکن ایک نازک، غیر یقینی اور خطرات سے بھرپور موقع۔ خلیج میں موجود امریکی بحری بیڑے، ایران کی انگلیاں محرک پر، اسرائیل کی مستقل بے چینی، اور ماضی کے ٹوٹے وعدے—یہ سب مل کر ایک ایسی تصویر بناتے ہیں جس میں امن ایک امکان ضرور ہے، مگر جنگ ایک قدم کے فاصلے پر۔

سوال یہ نہیں کہ کیا ایران اور امریکہ بات کریں گے۔
اصل سوال یہ ہے: کیا وہ ایک دوسرے پر کبھی دوبارہ یقین کر سکیں گے؟

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button