
پاکستان انڈسٹریل ٹیکنیکل اسسٹنس سینٹر میں انڈس اے آئی ویک 2026
مصنوعی ذہانت آگاہی سیمینار کا انعقاد، جدید ترین اے آئی لیبارٹری قائم
سید عاطف ندیم-پاکستان،پیٹاک کے ساتھ
پاکستان انڈسٹریل ٹیکنیکل اسسٹنس سینٹر (پیٹاک) میں وزارتِ صنعت و پیداوار کے زیرِ اہتمام انڈس اے آئی ویک 2026 کے سلسلے میں مصنوعی ذہانت (Artificial Intelligence) سے متعلق ایک جامع آگاہی سیمینار منعقد کیا گیا، جبکہ ادارے میں جدید ترین اے آئی لیبارٹری بھی قائم کر دی گئی ہے۔ اس اقدام کا مقصد صنعتی شعبے کے لیے جدید مہارتوں سے لیس افرادی قوت تیار کرنا اور فنی تعلیم کو عالمی تقاضوں سے ہم آہنگ کرنا ہے۔
ڈیجیٹل اور اے آئی مہارتیں مستقبل کی ضرورت، ڈی جی پیٹاک
پیٹاک کی ڈائریکٹر جنرل فریحہ علی رندھاوا نے سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جدید ڈیجیٹل ٹیکنالوجیز اور مصنوعی ذہانت سے متعلق مہارتیں اب مستقبل کے تکنیکی ماہرین کے لیے ناگزیر ہو چکی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بدلتے ہوئے عالمی صنعتی منظرنامے میں وہی ممالک ترقی کر سکتے ہیں جو اپنی افرادی قوت کو جدید ٹیکنالوجی سے ہم آہنگ کریں۔
جدید اے آئی لیبارٹری میں اعلیٰ سطحی تربیت
ڈی جی پیٹاک نے بتایا کہ ادارے میں قائم کی گئی جدید اے آئی لیبارٹری میں مشین لرننگ، ڈیپ لرننگ اور پائتھن پر مبنی اے آئی ایپلی کیشنز پر اعلیٰ سطحی عملی تربیت فراہم کی جائے گی۔
انہوں نے کہا کہ اس لیبارٹری کا مقصد صنعتی شعبے کے لیے تربیت یافتہ انسانی وسائل تیار کرنا، اطلاقی تحقیق کو فروغ دینا اور مقامی صنعت کو جدید ٹیکنالوجی سے مستفید کرنا ہے۔
صنعتی شعبے کو جدید ٹیکنالوجی سے ہم آہنگ کرنے کا عزم
فریحہ علی رندھاوا کا کہنا تھا کہ یہ سیمینار پیٹاک کے اس عزم کی عکاسی کرتا ہے کہ ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز کو فنی تعلیم اور صنعتی تربیت کے نظام میں ضم کر کے پاکستان کے صنعتی شعبے کو جدید مہارتوں اور تکنیکی جدت کے ساتھ ہم آہنگ کیا جائے۔
انہوں نے زور دیا کہ نوجوانوں کو جدید ٹیکنالوجی سے ہم آہنگ کرنا صنعتی مسابقت، جدت اور پائیدار ترقی کے لیے کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔
سنٹر آف ایکسی لینس برائے مصنوعی ذہانت
ڈی جی پیٹاک نے وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف کے وژن کے مطابق سنٹر آف ایکسی لینس برائے مصنوعی ذہانت کے قیام کے اسٹریٹجک اقدام کو بھی اجاگر کیا۔
انہوں نے بتایا کہ یہ منصوبہ معاونِ خصوصی وزیرِ اعظم برائے صنعت و پیداوار ہارون اختر خان اور وفاقی سیکرٹری صنعت و پیداوار سیف انجم کی رہنمائی میں جاری ہے، جس کا مقصد صنعتی تحقیق، جدت اور مہارتوں کی ترقی کو فروغ دینا ہے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ اے آئی لیبارٹری کی باضابطہ افتتاحی تقریب آئندہ ہفتے متوقع ہے۔
طلبہ کے لیے خصوصی آگاہی سیمینار
یہ سیمینار پیٹاک کالج آف ٹیکنالوجی کے ڈپلومہ آف ایسوسی ایٹ انجینئر (ڈی اے ای) پروگرام کے طلبہ کے لیے منعقد کیا گیا، جس میں کمپیوٹر انفارمیشن ٹیکنالوجی، الیکٹریکل اور مکینیکل ٹیکنالوجیز کے طلبہ نے بھرپور شرکت کی۔
مصنوعی ذہانت کے عملی استعمال پر بریفنگ
سیمینار کے دوران شرکا کو مصنوعی ذہانت کے بنیادی تصورات، مشین لرننگ اور ڈیپ لرننگ سے متعارف کرایا گیا۔ اس کے ساتھ ساتھ اسمارٹ مینوفیکچرنگ، صنعتی خودکار نظام، پیشگی دیکھ بھال (Predictive Maintenance)، معیار کی نگرانی اور پیداواریت میں اضافے کے لیے اے آئی کے عملی استعمال پر بھی تفصیلی بریفنگ دی گئی۔
انڈسٹری 4.0 اور ابھرتے تکنیکی رجحانات
اس موقع پر انڈسٹری 4.0 کے تحت ابھرتے ہوئے تکنیکی رجحانات، ڈیجیٹل آٹومیشن اور جدید صنعتی نظاموں پر بھی تفصیلی روشنی ڈالی گئی۔ مقررین نے بتایا کہ مصنوعی ذہانت مستقبل میں صنعتی ترقی کا بنیادی ستون ثابت ہو گی اور پاکستان کو عالمی مسابقت میں شامل کرنے کے لیے اس سمت میں اقدامات ناگزیر ہیں۔
اختتامی کلمات
شرکا نے سیمینار اور اے آئی لیبارٹری کے قیام کو ایک اہم اور بروقت اقدام قرار دیتے ہوئے امید ظاہر کی کہ پیٹاک کے یہ اقدامات پاکستان کے صنعتی اور تکنیکی شعبے میں جدید مہارتوں کے فروغ اور نوجوانوں کے لیے بہتر روزگار کے مواقع پیدا کرنے میں مؤثر کردار ادا کریں گے۔



