پاکستاناہم خبریں

پاکستان اور ایران کے درمیان راہداری نظام کا خاتمہ: سکیورٹی حکمتِ عملی یا سرحدی آبادیوں کے لیے معاشی دھچکا؟

او ڈی آر کے نفاذ سے پہلے چمن بارڈر سے روزانہ تقریباً 20 ہزار افراد بغیر پاسپورٹ اور ویزے کے آمد و رفت کرتے تھے۔

رپورٹ سید عاطف ندیم-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز

پاکستان نے ایران کے ساتھ گزشتہ چھ دہائیوں سے جاری ’سرحدی راہداری نظام‘ کو آئندہ ایک سے دو ماہ میں مکمل طور پر ختم کرنے کا اعلان کیا ہے۔ اس فیصلے کے بعد دونوں ممالک کے درمیان آمد و رفت صرف پاسپورٹ اور ویزے کے ذریعے ممکن ہوگی۔ بلوچستان حکومت کے مطابق اس اقدام سے سرحدی نقل و حرکت کو مزید منظم اور قانونی بنایا جائے گا، تاہم سرحدی اضلاع کے رہائشی اور تاجر اسے اپنی معاشی اور سماجی زندگی کے لیے ایک بڑا دھچکا قرار دے رہے ہیں۔

ون ڈاکومنٹ رجیم کا نفاذ

محکمہ داخلہ بلوچستان کے ایڈیشنل چیف سیکریٹری حمزہ شفقات کے مطابق حکومت نے راہداری نظام کے خاتمے کی کوئی حتمی تاریخ مقرر نہیں کی، البتہ ایک سے دو ماہ کے اندر اسے مکمل طور پر ختم کر دیا جائے گا۔ اس کے بعد ’ون ڈاکومنٹ رجیم‘ (او ڈی آر) نافذ ہوگا، جس کے تحت پاسپورٹ اور ویزے کے بغیر کسی کو بھی سرحد عبور کرنے کی اجازت نہیں ہوگی۔

پاکستان اس سے قبل نومبر 2023 میں افغانستان کے ساتھ بھی یہی نظام نافذ کر چکا ہے، جس کے خلاف چمن میں طویل احتجاج جاری ہے۔ او ڈی آر کے نفاذ سے پہلے چمن بارڈر سے روزانہ تقریباً 20 ہزار افراد بغیر پاسپورٹ اور ویزے کے آمد و رفت کرتے تھے۔

’سپیکٹرم آف الیگل ایکٹیویٹیز‘ حکمت عملی کا حصہ

حکام کے مطابق ایران کے ساتھ مکمل یک دستاویزی نظام کا نفاذ بلوچستان میں دہشت گردی کے خاتمے اور دیرپا امن کے قیام کے لیے ’سپیکٹرم آف الیگل ایکٹیویٹیز‘ کے نام سے ترتیب دی گئی جامع حکمت عملی کا حصہ ہے۔

اس منصوبے کے تحت سرحد پر غیر قانونی آمد و رفت، منشیات، ایرانی تیل، نان کسٹم پیڈ گاڑیوں اور ہر قسم کی سمگلنگ میں ملوث نیٹ ورکس کے خاتمے کو ہدف بنایا گیا ہے۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ سرحدی سمگلنگ اور غیر قانونی سرگرمیوں کی موجودگی میں دہشت گردی کا مکمل خاتمہ ممکن نہیں۔

حمزہ شفقات کے مطابق سکیورٹی اداروں کے تجزیے سے یہ نتیجہ اخذ کیا گیا ہے کہ غیر قانونی کاروبار دہشت گرد گروہوں کے لیے مالی وسائل کا اہم ذریعہ بنتے ہیں۔ انہوں نے 31 جنوری کو نوشکی میں ہونے والے حملوں کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ ان واقعات میں 27 افراد ہلاک ہوئے اور ابتدائی معلومات کے مطابق حملہ آوروں کو مالی معاونت پوست کی کاشت سے حاصل ہونے والی رقوم سے ملی۔

ترقی اور سمگلنگ: متضاد بیانیہ

صوبائی حکومت اس تصور کو مسترد کرتی ہے کہ سرحدی علاقوں کی معاشی بقا کے لیے سمگلنگ ضروری ہے۔ حکام کی مثال کے مطابق تربت اور گوادر میں کئی دہائیوں سے سمگلنگ جاری ہے، مگر نہ تو ان علاقوں میں نمایاں معاشی بہتری آئی اور نہ ہی سکیورٹی صورتحال بہتر ہوئی۔ بلکہ صوبے میں سب سے زیادہ حملے انہی علاقوں میں رپورٹ ہوئے ہیں۔

حکومت کا کہنا ہے کہ راہداری نظام سے محدود تعداد میں لوگ فائدہ اٹھاتے تھے، اس لیے اس کے خاتمے کے بڑے پیمانے پر منفی اثرات متوقع نہیں۔ ساتھ ہی سرحدی علاقوں کے لوگوں کے لیے پاسپورٹ کے اجرا کا عمل آسان اور مفت بنانے کی تجویز بھی زیر غور ہے تاکہ متاثرین کی مشکلات کم کی جا سکیں۔ سرحدی دروازوں کے اوقات کار بڑھانے اور قانونی تجارت کو فروغ دینے کے اقدامات بھی کیے جا رہے ہیں۔

سرحدی آبادیوں کے خدشات

دوسری جانب سرحدی اضلاع کے رہائشی اس فیصلے کو اپنے لیے مشکلات کا باعث قرار دے رہے ہیں۔ گوادر کے رہائشی صدیق بلوچ کے مطابق اگرچہ گزشتہ برسوں میں راہداری کے حصول کا عمل سخت ہو چکا تھا، تاہم یہ اب بھی سرحد کے دونوں جانب آباد منقسم خاندانوں کے لیے اہم سہولت تھی۔ ان کے بقول اس نظام کے خاتمے سے خاندانی روابط متاثر ہوں گے اور سرحد پار ملاقاتیں مزید مشکل ہو جائیں گی۔

تاریخی پس منظر: 1960 کا سرحدی انتظامی معاہدہ

پاکستان اور ایران کے درمیان 900 کلومیٹر سے زائد طویل سرحد موجود ہے، جس کے دونوں جانب بلوچ آبادی بڑی تعداد میں آباد ہے اور ان کے درمیان خاندانی و تجارتی روابط صدیوں پر محیط ہیں۔

1960 میں پاکستان اور ایران کے درمیان ہونے والے سرحدی انتظامی معاہدے کے تحت سرحدی اضلاع کے رہائشیوں کو محدود مدت اور مخصوص علاقوں تک پاسپورٹ اور ویزے کے بغیر سفر کی اجازت دی گئی تھی۔ ان اجازت ناموں کو ’راہداری‘ کہا جاتا تھا، جو متعلقہ اضلاع کے ڈپٹی کمشنرز جاری کرتے تھے۔

راہداری کے تحت بلوچستان کے پانچ اضلاع—چاغی، واشک، پنجگور، کیچ اور گوادر—کے رہائشیوں کو سال میں دو مرتبہ تقریباً پندرہ دن کے لیے اپنے متعلقہ کراسنگ پوائنٹس سے ایران آنے جانے کی اجازت حاصل تھی۔

وقت کے ساتھ اس نظام کو سخت اور محدود کیا گیا۔ 2023 میں اسے کمپیوٹرائزڈ کیا گیا تاکہ جعلی اور غیر مجاز راہداریوں کے اجرا کو روکا جا سکے۔

دشوار گزار سرحد اور سکیورٹی چیلنجز

پاکستان اور ایران کے درمیان سرحد کا بڑا حصہ پہاڑی سلسلوں، ریگستانی علاقوں اور ویران خطوں پر مشتمل ہے، جہاں نگرانی کے چیلنجز کے باعث منشیات، تیل اور انسانی سمگلنگ کے نیٹ ورکس فعال رہے ہیں۔

سرحد کے دونوں اطراف مسلح گروہوں کی موجودگی بھی کشیدگی کا باعث بنتی رہی ہے، جن میں بلوچ لبریشن آرمی، بلوچ لبریشن فرنٹ، جیش العدل اور جنداللہ شامل ہیں۔

فروری 2019 میں زاہدان میں ایرانی فوجیوں پر حملہ، 2018 میں بلیدہ میں ایف سی پر حملہ اور 2019 میں مکران کوسٹل ہائی وے پر اورماڑہ کے مقام پر 14 مسافروں کے قتل جیسے واقعات کے بعد دونوں ممالک نے ایک دوسرے پر سرحد پار گروہوں کو پناہ دینے کے الزامات عائد کیے۔

جنوری 2024 میں کشیدگی اس وقت عروج پر پہنچی جب ایران نے بلوچستان کے ضلع پنجگور میں میزائل حملے کر کے جیش العدل کے ٹھکانوں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا، جس کے جواب میں پاکستان نے ایرانی سرحدی ضلع سراوان میں فضائی کارروائی کا اعلان کیا۔

سرحدی باڑ اور نگرانی کا نظام

دونوں ممالک نے سرحدی نگرانی سخت کرنے کے لیے خندقیں، کنکریٹ کی دیواریں، آہنی باڑ اور واچ ٹاورز تعمیر کیے ہیں۔ پاکستان نے 2019 میں 12 فٹ اونچی آہنی باڑ لگانے کا آغاز کیا تھا، جو دسمبر 2024 کی ایک رپورٹ کے مطابق 90 فیصد سے زائد مکمل ہو چکی ہے۔

حکومت کو امید ہے کہ راہداری نظام کے خاتمے اور یک دستاویزی نظام کے نفاذ سے غیر قانونی آمد و رفت اور سمگلنگ میں کمی آئے گی، جس سے سکیورٹی صورتحال بہتر ہوگی۔ تاہم سرحدی آبادیوں کا مؤقف ہے کہ اس فیصلے سے ان کے معاشی مواقع مزید محدود ہوں گے اور خاندانی روابط برقرار رکھنا مشکل ہو جائے گا۔

یوں راہداری نظام کا خاتمہ محض انتظامی تبدیلی نہیں بلکہ ایک ایسا فیصلہ ہے جو بلوچستان کی سکیورٹی، معیشت اور سماجی ڈھانچے پر گہرے اثرات مرتب کر سکتا ہے۔ آنے والے مہینوں میں اس پالیسی کے عملی اثرات ہی یہ طے کریں گے کہ آیا یہ اقدام امن و استحکام کی جانب پیش رفت ثابت ہوتا ہے یا سرحدی آبادیوں کے لیے نئی آزمائش۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button