
روس کے یوکرین پر حملے کے چوتھے سال میں داخل ہونے سے قبل ماسکو اور کییف کے نمائندوں کے درمیان امریکہ کی ثالثی میں ہونے والے تازہ مذاکرات بغیر کسی بڑی پیش رفت کے اختتام پذیر ہو گئے۔ سوئٹزرلینڈ کے شہر جنیوا میں ہونے والے دو روزہ مذاکرات کو دونوں فریقوں نے ’’مشکل‘‘ قرار دیا، تاہم آئندہ دور کے جلد انعقاد پر اتفاق ظاہر کیا گیا ہے۔
جنیوا میں مذاکرات، توقعات محدود
سوئٹزرلینڈ میں ہونے والا یہ اجلاس رواں سال امریکہ کی میزبانی میں براہِ راست بات چیت کا تیسرا دور تھا۔ اس سے قبل ابوظہبی میں ہونے والے مذاکرات کو اگرچہ حکام نے ’’تعمیری‘‘ قرار دیا تھا، لیکن وہاں بھی کسی بڑے بریک تھرو کا اعلان نہیں کیا گیا تھا۔ جنیوا اجلاس سے بھی غیر معمولی پیش رفت کی توقعات کم ہی تھیں۔
امریکہ اس عمل میں ثالثی کا کردار ادا کر رہا ہے تاکہ تین سال سے زائد عرصے سے جاری جنگ کے خاتمے کے لیے کسی ممکنہ فریم ورک پر اتفاق رائے پیدا کیا جا سکے۔
زیلنسکی: ’’مذاکرات آسان نہیں تھے‘‘
یوکرین کے صدر وولودیمیر زیلنسکی نے جنیوا مذاکرات کے بعد کییف سے اپنی مذاکراتی ٹیم سے مختصر ٹیلیفونک گفتگو کی۔ بعد ازاں انہوں نے کہا، ’’مذاکرات آسان نہیں تھے۔‘‘
زیلنسکی نے ایک بار پھر روس پر الزام عائد کیا کہ وہ محاذ پر حملے جاری رکھتے ہوئے سفارتی عمل کو طول دینے کی کوشش کر رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ فوجی معاملات میں کچھ تکنیکی پیش رفت ضرور ہوئی ہے، تاہم سیاسی نوعیت کے بنیادی اختلافات جوں کے توں موجود ہیں۔
خاص طور پر مشرقی یوکرین کے ان علاقوں کے مستقبل پر اختلاف شدید ہے جو اس وقت روسی افواج کے زیر قبضہ ہیں۔ یوکرین ان علاقوں کی مکمل خودمختاری اور اپنی علاقائی سالمیت کی بحالی پر زور دیتا ہے، جبکہ روس ان خطوں کو اپنے ساتھ ضم کرنے کے فیصلے کو حتمی قرار دیتا رہا ہے۔
روسی مؤقف: ’’مشکل مگر پیشہ ورانہ مذاکرات‘‘
روسی وفد کے سربراہ اور صدر کے مشیر ولادیمیر مدینسکی نے صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ جنیوا میں مذاکرات ’’مشکل مگر پیشہ ورانہ انداز میں‘‘ ہوئے۔ ان کے مطابق دونوں فریقوں نے اپنے اپنے مؤقف واضح انداز میں پیش کیے اور بعض عملی امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
روسی خبر رساں ایجنسی آر آئی اے کے مطابق باضابطہ مذاکرات ختم ہونے کے بعد مدینسکی نے یوکرینی وفد کے ساتھ تنہائی میں تقریباً دو گھنٹے طویل ملاقات بھی کی، جسے بعض مبصرین پسِ پردہ رابطوں کا اشارہ قرار دے رہے ہیں۔
دوسری جانب کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے کہا کہ مذاکرات کے نتائج پر تبصرہ کرنا ابھی ’’قبل از وقت‘‘ ہے۔ ان کے بقول صدر کو جنیوا میں ہونے والی بات چیت کی تفصیلی رپورٹس موصول ہو رہی ہیں اور آئندہ حکمت عملی کا فیصلہ ان ہی کی روشنی میں کیا جائے گا۔
بنیادی اختلافات برقرار
مذاکرات میں جن نکات پر بات ہوئی، ان میں جنگ بندی کا ممکنہ طریقہ کار، قیدیوں کا تبادلہ، انسانی راہداریوں کی بحالی اور توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر حملوں کی روک تھام شامل تھے۔ تاہم سب سے بڑا تنازع علاقائی کنٹرول اور سکیورٹی ضمانتوں کے معاملے پر ہے۔
یوکرین نیٹو اور یورپی سلامتی ڈھانچے کے ساتھ قریبی روابط برقرار رکھنے کو اپنی بقا کے لیے ضروری سمجھتا ہے، جبکہ روس اسے اپنی قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیتا رہا ہے۔ یہی اختلاف گزشتہ برسوں میں کشیدگی کا بنیادی سبب بھی رہا ہے۔
جنگ کے چوتھے سال کا دباؤ
روس کی جانب سے فروری 2022 میں شروع کی گئی فوجی کارروائی اب چوتھے سال میں داخل ہونے والی ہے۔ اس دوران ہزاروں افراد ہلاک اور لاکھوں بے گھر ہو چکے ہیں، جبکہ یوکرین کا بنیادی ڈھانچہ شدید متاثر ہوا ہے۔ مغربی ممالک نے روس پر سخت اقتصادی پابندیاں عائد کر رکھی ہیں، جن کے باوجود لڑائی مختلف محاذوں پر جاری ہے۔
بین الاقوامی مبصرین کے مطابق فریقین کے مؤقف میں لچک نہ آنے کی صورت میں فوری جنگ بندی کا امکان کم دکھائی دیتا ہے، تاہم سفارتی رابطوں کا تسلسل ہی اس وقت واحد راستہ سمجھا جا رہا ہے۔
آئندہ دور کی امید
دونوں فریقوں نے عندیہ دیا ہے کہ مذاکرات کا اگلا دور جلد منعقد کیا جائے گا، تاہم مقام اور تاریخ کا اعلان نہیں کیا گیا۔ ذرائع کے مطابق امریکہ پسِ پردہ سفارتی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے تاکہ کسی عبوری سمجھوتے یا محدود جنگ بندی پر اتفاق ممکن ہو سکے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگرچہ جنیوا مذاکرات کسی نمایاں پیش رفت کے بغیر ختم ہوئے، لیکن بات چیت کا جاری رہنا ہی ایک مثبت اشارہ ہے۔ تاہم حقیقی پیش رفت کے لیے فریقین کو اپنے زیادہ سے زیادہ مطالبات سے پیچھے ہٹ کر کسی درمیانی راستے کی تلاش کرنا ہوگی۔
فی الحال روس اور یوکرین کے درمیان خلیج برقرار ہے، اور میدانِ جنگ کی صورتِ حال ہی آئندہ سفارتی عمل کی سمت کا تعین کرتی دکھائی دیتی ہے۔



