
اجتماعی زیادتی کا شکار فرانسیسی خاتون پیلیکو کی آپ بیتی
انکشاف ہوا کہ ڈومینیک پیلیکو دس برس تک اپنی ہی بیوی کو نشہ آور ادویات دے کر بے ہوش کرتے رہے اور ڈارک نیٹ کے ذریعے مقامی مردوں کو بلوا کر ان سے اپنی بیوی سے جنسی زیادتی کرواتے رہے
لیکن پولیس اسٹیشن میں اس فرانسیسی خاتون کو، جو تصاویر دکھائی گئیں، انہوں نے ان کی دنیا ہلا کر رکھ دی۔ ابتدا میں وہ پہچان ہی نہ سکیں کہ جنسی زیادتی کا نشانہ بننے والی خاتون وہ خود ہیں۔ تحقیقات کے دوران 20 ہزار سے زائد تصاویر اور ویڈیوز برآمد ہوئیں، جن سے انکشاف ہوا کہ ڈومینیک پیلیکو دس برس تک اپنی ہی بیوی کو نشہ آور ادویات دے کر بے ہوش کرتے رہے اور ڈارک نیٹ کے ذریعے مقامی مردوں کو بلوا کر ان سے اپنی بیوی سے جنسی زیادتی کرواتے رہے۔ یہ ظلم کم از کم بھی 200 مرتبہ دوہرایا گیا تھا۔

’شرمندگی کا رخ بدلنا ہو گا‘
2024 کے موسم خزاں میں ڈومینیک پیلیکو اور ان کے 50 ساتھیوں کے خلاف مقدمہ چلا۔ گیزل پیلیکو نے فیصلہ کیا کہ اس مقدمے کی سماعت عوامی ہو گی اور وہ خود اس کا چہرہ بنیں گی۔ عدالت میں ویڈیوز کھلے عام دکھائی گئیں۔ ان کا جملہ ”شرمندگی کا رخ بدلنا ہو گا‘‘ عالمی سطح پر گونجا اور وہ ایک علامتی نسوانی آواز بن کر ابھریں، جس نے متاثرہ خواتین کو ہی مورد الزام ٹھہرانے کی سماجی سوچ کو چیلنج کر دیا۔
ساڑھے تین ماہ تک جاری رہنے والی سماعت کے دوران روزانہ خواتین کی بڑی تعداد عدالت کے باہر ان کے حق میں جمع ہوتی رہی۔ میڈیا نے ان کی جرأت، ملزم کے وکلا کی جانب سے اختیار کی جانے والی تحقیر آمیز چالوں اور مقدمے کی ہولناک تفصیلات کو نمایاں طور پر کوریج دی۔ مقدمے کی سماعت کے دوران یہ بھی سامنے آیا کہ مرکزی ملزم نے اپنی دو بہوؤں کی خفیہ ویڈیوز بھی بنائیں اور اپنی بیٹی کی نیم برہنہ تصاویر بھی محفوظ کیں تاہم اس بارے میں تفتیش جاری ہے۔
ڈومینیک پیلیکو کو فرانس میں ریپ کی زیادہ سے زیادہ سزا یعنی 20 سال قید کا حکم سنایا گیا جبکہ تمام 50 شریک ملزمان کو بھی طویل سزائیں سنائی گئیں۔
آپ بیتی کتابی شکل میں
گیزل پیلیکو کی عمر اب 73 برس ہے اور وہ قانونی طور پر اپنا پیدائشی نام گیزل گویو استعمال کرتی ہیں۔ انہوں نے اپنی یادداشتیں A Hymn to Life: Shame Must Change Sides کے عنوان سے شائع کی ہیں، جو صحافی یوڈتھ پیرینوں کے تعاون سے لکھی گئیں اور بیک وقت 22 زبانوں میں کتابی شکل میں جاری کی گئی ہیں۔

اس کتاب میں وہ اپنے بچپن، چھوٹی عمر میں اپنی والدہ کی وفات، شادی، تین بچوں کی پرورش اور پیشہ وارانہ کامیابیوں کا ذکر کرتی ہیں۔ وہ لکھتی ہیں کہ انہیں کبھی محسوس نہیں ہوا تھا کہ ان کی کامیابی ان کے شوہر کے لیے کوئی مسئلہ تھی۔ مگر بعد میں انہیں معلوم ہوا کہ وہی شخص انہیں بے ہوش کر کے مسلسل کئی برسوں تک جنسی تشدد کا نشانہ بناتا یا بنواتا رہا، جس سے انہیں یادداشت کی کمزوری، شدید تھکن اور طبی پیچیدگیوں کا سامنا بھی کرنا پڑا۔
وہ اعتراف کرتی ہیں کہ انہوں نے طویل عرصے تک خوشگوار ازدواجی زندگی کی یادوں کو تھامے رکھا، حتیٰ کہ جیل میں شوہر کو کپڑے بھی بھجواتی رہیں۔ ان کے بقول یہ عادت اور پروا کرنے کا امتزاج تھا مگر سب سے بڑھ کر وہ یہ سمجھنا چاہتی تھیں کہ ایسا کیوں ہوا؟ ایک ایسا سوال جس پر ان کے بچے ان سے ناراض بھی رہے۔
اس مقدمے اور عالمی توجہ نے ان کے خاندانی تعلقات پر بھی گہرا اثر ڈالا۔ تاہم گیزل خود کو اس آزمائش میں فاتح سمجھتی ہیں۔ وہ لکھتی ہیں، ”میں مری نہیں۔ میں اب بھی دوسروں پر اعتماد کر سکتی ہوں۔‘‘ پانچ برس بعد وہ اپنی زندگی اور خوشی دوبارہ حاصل کر چکی ہیں اور ایک نئی محبت بھی پا چکی ہیں۔



