
ٹرمپ کا غزہ کی تعمیر نو کے لیے 10 بلین ڈالر کا وعدہ، مسلم ممالک کی فوجی مدد اور پاکستان کی عدم شرکت
ہم غزہ کی مدد کریں گے۔ ہم اسے سیدھا کریں گے، ہم اسے کامیاب بنائیں گے اور ہم اس طرح کی چیزیں دوسرے مقامات پر بھی کریں گے
مدثر احمد – امریکہ،وائس آف جرمنی اردو نیوز کے ساتھ
واشنگٹن — امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعرات کو واشنگٹن میں بورڈ آف پیس کے افتتاحی اجلاس میں غزہ کی تعمیر نو اور امن سازی کے لیے 10 بلین ڈالر کی امداد فراہم کرنے کا اعلان کیا۔ اس موقع پر مختلف مسلم اکثریتی ممالک نے غزہ میں امن و استحکام کے قیام کے لیے اپنی فوجی مدد کی پیشکش کی۔ تاہم، پاکستان کا نام ان پانچ ممالک میں شامل نہیں تھا جنہوں نے انٹرنیشنل سٹیبلائزیشن فورس (ISF) کے لیے فوجی دستے بھیجے ہیں۔
غزہ کے لیے عالمی امداد اور فوجی فورسز کی پیشکش
ٹرمپ نے اپنے خطاب میں غزہ کی تعمیر نو کے لیے 10 بلین ڈالر کی امداد دینے کا وعدہ کیا اور اس کے ساتھ ساتھ 7 بلین ڈالر کی ابتدائی امدادی رقم جمع کرنے کا اعلان کیا، جس میں قطر، سعودی عرب، اور متحدہ عرب امارات نے ہر ایک کم از کم 1 بلین ڈالر دینے کا وعدہ کیا۔ وائٹ ہاؤس کے ترجمان کے مطابق، اس رقم میں ٹرمپ کی پیشکش کو چھوڑ کر 6.5 بلین ڈالر سے زائد کا وعدہ کیا گیا تھا۔
ٹرمپ نے اجلاس میں موجود شرکاء کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا، "ہم غزہ کی مدد کریں گے۔ ہم اسے سیدھا کریں گے، ہم اسے کامیاب بنائیں گے اور ہم اس طرح کی چیزیں دوسرے مقامات پر بھی کریں گے۔” انہوں نے کہا کہ غزہ میں امن قائم کرنے کی کوششیں عالمی سطح پر تعاون سے ہی ممکن ہوں گی۔
پاکستان کا موقف اور فوجی فورسز کی عدم شرکت
پاکستان نے فی الحال انٹرنیشنل سٹیبلائزیشن فورس (ISF) کے لیے اپنی فوجی مدد کی پیشکش نہیں کی۔ دفتر خارجہ کے ترجمان طاہر اندرابی نے کہا کہ پاکستان اس فورس کے مینڈیٹ پر فیصلے کا انتظار کر رہا ہے اور اس وقت تک کوئی فیصلہ نہیں کیا جا سکتا۔ "ہم نے اپنی سرخ لکیروں کا تعین کر لیا ہے اور ہم غیر مسلح یا غیر فوجی مینڈیٹ کا حصہ نہیں بنیں گے۔” اندرابی کا کہنا تھا کہ پاکستان امن قائم کرنے کے لیے تیار ہے، تاہم اسے غیر فوجی مینڈیٹ کے تحت کام کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔
انٹرنیشنل سٹیبلائزیشن فورس کے قیام کے لیے ممالک کی پیشکش
انٹرنیشنل سٹیبلائزیشن فورس میں شریک ہونے والے ممالک میں مراکش، انڈونیشیا، قازقستان اور کوسوو شامل ہیں۔ انڈونیشیا نے اپنی فوجی مدد کی پیشکش کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ غزہ کی تعمیر نو اور جنگ کے بعد کے انتظامات میں مدد کے لیے 8,000 فوجی بھیجے گا، جو کہ 20,000 کی مطلوبہ تعداد کا نصف ہے۔ انڈونیشیا کے صدر پرابوو سوبیانتو کی تعریف کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ انڈونیشیا نے اس فورس میں اپنی موجودگی کا عہد کیا ہے۔
فورس کے امریکی کمانڈر میجر جنرل جیسپر جیفرز کا بیان
امریکی کمانڈر میجر جنرل جیسپر جیفرز نے کہا کہ انڈونیشیا کے ایک افسر کو فورس کا نائب کمانڈر بنایا جائے گا۔ اس کے علاوہ، دیگر ممالک جیسے البانیہ اور کوسوو نے بھی اپنی فوجی مدد کی پیشکش کی ہے۔ ان ممالک کی مدد غزہ میں جنگ کے بعد کے انتظامات کے لیے کی جائے گی، جس میں امن و استحکام کی بحالی اور انفراسٹرکچر کی تعمیر شامل ہے۔
غزہ کی تعمیر نو اور انسانی امداد کے منصوبے
ٹرمپ نے مزید کہا کہ فیفا غزہ میں فٹ بال کے منصوبوں کے لیے 75 ملین ڈالر جمع کرے گا اور اقوام متحدہ انسانی امداد کے لیے 2 بلین ڈالر کی رقم فراہم کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ عالمی سطح پر مل کر غزہ میں پائیدار امن اور ہم آہنگی لانے کے خواب کو حقیقت بنایا جا سکتا ہے۔
حماس کے غیر مسلح کرنے کا وعدہ
اس اجلاس میں اسرائیل کے وزیر خارجہ گیڈون سار نے بھی شرکت کی اور حماس کو غیر مسلح کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے کہا کہ حماس کو کسی نہ کسی طریقے سے غیر مسلح کر دیا جائے گا، چاہے وہ پرامن طریقے سے ہو یا طاقت کے ذریعے۔ حماس کے ترجمان حازم قاسم نے کہا کہ کسی بھی بین الاقوامی فورس کو جنگ بندی کی نگرانی کرنی چاہیے اور اسرائیلی قبضے کو روکنا چاہیے۔
نتیجہ
ٹرمپ کی جانب سے غزہ کے لیے 10 بلین ڈالر کی امداد کا وعدہ اور عالمی سطح پر امن سازی کے لیے کیے گئے اقدامات نے دنیا بھر کی توجہ حاصل کی ہے۔ تاہم، پاکستان نے اس فورس میں حصہ نہ لینے کا فیصلہ کیا ہے اور دیگر ممالک کی طرف سے فوجی مدد کی پیشکش کے باوجود پاکستان کا موقف واضح ہے کہ وہ غیر فوجی مینڈیٹ کا حصہ نہیں بنے گا۔ غزہ میں امن اور استحکام کی بحالی کے لیے عالمی سطح پر تعاون کی ضرورت ہے، اور اس کے لیے عالمی طاقتوں اور اقوام متحدہ کی مدد ضروری ہو گی۔



