
سید عاطف ندیم,مدثر احمد،وائس آف جرمنی اردو نیوز
واشنگٹن — وزیر اعظم پاکستان شہباز شریف نے جمعرات کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی قیادت میں واشنگٹن میں منعقدہ بورڈ آف پیس کے افتتاحی اجلاس میں غزہ میں جنگ بندی کی خلاف ورزیوں کے خاتمے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ یہ مسئلہ غزہ میں دیرپا امن کے قیام کے لیے "انتہائی اہم” ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ فلسطینی عوام نے طویل عرصے سے غیر قانونی قبضے اور بے پناہ مصائب کا سامنا کیا ہے، اور دیرپا امن کے لیے جنگ بندی کی خلاف ورزیوں کا خاتمہ بہت ضروری ہے۔
غزہ میں جنگ بندی کی خلاف ورزیوں کا خاتمہ: وزیر اعظم شہباز کا موقف
وزیر اعظم شہباز شریف نے اپنے خطاب میں کہا کہ فلسطین کے عوام کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق اپنی سرزمین اور اپنے مستقبل پر مکمل کنٹرول کا حق حاصل ہونا چاہیے۔ "فلسطینیوں کے حق خود ارادیت کی حمایت میں ہمیں مل کر کام کرنا چاہیے تاکہ ایک آزاد، خودمختار، اور ملحقہ فلسطینی ریاست کا قیام ممکن ہو سکے۔”
وزیر اعظم شہباز نے کہا کہ اس وقت غزہ میں جنگ بندی کی خلاف ورزیاں مسلسل ہو رہی ہیں، جس کی وجہ سے نہ صرف انسانی بحران مزید گہرا ہو رہا ہے بلکہ تعمیر نو کی کوششوں میں بھی مشکلات پیش آ رہی ہیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ یہ جنگ زدہ پٹی میں دیرپا امن کے لیے ایک سنگ میل ثابت ہو گا اگر عالمی برادری ان خلاف ورزیوں کو روکنے میں کامیاب ہو جائے۔
وزیر اعظم شہباز شریف کی ٹرمپ کی قیادت کو سراہا
اپنے خطاب میں وزیر اعظم نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی قیادت کی بھرپور تعریف کی اور کہا کہ "ہمیں امید ہے کہ آپ کی بصیرت اور متحرک قیادت کے تحت مسئلہ فلسطین کا منصفانہ اور دیرپا حل ممکن ہو گا۔” وزیر اعظم نے ٹرمپ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ "آج کا دن تاریخ میں ایک سنگ میل بنے گا، کیونکہ آپ کی انتھک حمایت اور عظیم کاوشوں کی بدولت غزہ میں دیرپا امن کا حصول ممکن ہو گا۔”
وزیر اعظم نے ٹرمپ کی امن کے قیام کے لیے کی جانے والی کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ "آپ کی جرات مندانہ سفارت کاری نے دنیا بھر میں تنازعات کے پرامن حل کو آگے بڑھایا ہے۔” وزیر اعظم نے بھارت اور پاکستان کے درمیان جنگ بندی کے حصول میں ٹرمپ کی مداخلت کو بھی یاد کیا، جس نے لاکھوں جانوں کو بچانے میں اہم کردار ادا کیا۔ "آپ واقعی جنوبی ایشیا کے نجات دہندہ ہیں، کیونکہ آپ کی بروقت مداخلت سے پاکستان اور بھارت کے درمیان ممکنہ جنگ کو روکا گیا، اور اس سے لاکھوں جانیں بچ گئیں۔”
ٹرمپ کی طرف سے وزیر اعظم شہباز اور چیف آف ڈیفنس فورسز کی تعریف
وزیر اعظم شہباز شریف کی تقریر کے بعد، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ان کی اور پاکستان کے چیف آف ڈیفنس فورسز (سی ڈی ایف) فیلڈ مارشل عاصم منیر کی تعریف کی۔ ٹرمپ نے کہا کہ وہ ہمیشہ اپنے ملک میں امیدواروں کی توثیق کرتے ہیں، لیکن اب وہ غیر ملکی رہنماؤں کی بھی توثیق کر رہے ہیں، اور ان رہنماؤں میں وزیر اعظم شہباز شریف کا نام بھی شامل ہے۔
ٹرمپ نے کہا، "وزیر اعظم شہباز شریف — مجھے یہ آدمی پسند ہے — پاکستان کا۔ جب میں ان سے اور آپ کے فیلڈ مارشل، عظیم جنرل، عظیم فیلڈ مارشل، عظیم آدمی سے واقف ہوا تو کچھ لڑائیاں ہو رہی تھیں۔ مجھے وزیر اعظم سے ملنا پڑا اور انہوں نے ہمارے چیف آف اسٹاف سوزی وائلز کے سامنے کہا کہ ‘آپ جانتے ہیں کہ یہ کوئی نہیں جانتا، لیکن مجھے یقین ہے کہ جب صدر ٹرمپ نے ہمارے اور ہندوستان کے درمیان جنگ کو روکا تو 25 ملین جانیں بچائیں۔'”
ٹرمپ نے کہا کہ وہ وزیر اعظم شہباز شریف کے اس بیان کو "خوبصورت” سمجھتے ہیں اور انہوں نے وزیر اعظم کے ساتھ اپنے تعلقات کو خوشگوار قرار دیا۔
پاکستان اور بھارت کے درمیان مئی 2025 میں ہونے والی جنگ بندی کی اہمیت
ٹرمپ نے مئی 2025 میں پاکستان اور بھارت کے درمیان چار روزہ تنازعہ کا ذکر کیا اور بتایا کہ اس دوران کئی طیارے مار گرائے گئے تھے۔ "یہ پاکستان اور بھارت تھے، اور میں ان دونوں سے فون پر ملا۔ اور میں انہیں تھوڑا بہت جانتا تھا۔ میں وزیر اعظم مودی کو بہت اچھی طرح جانتا ہوں، اور میں نے پاکستان کو تھوڑی سی تجارت کے ذریعے جانا تھا۔ وہ بہت اچھا سودا کرنے کی کوشش کر رہے تھے، اور میں ان سے تھوڑا سا ناراض ہو گیا۔”
ٹرمپ نے اس بات کا ذکر کیا کہ دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی بڑھ رہی تھی، اور اس دوران امریکہ کی مداخلت نے دونوں ممالک کے درمیان جنگ کے خطرات کو کم کیا۔ "میں نے انہیں فون کیا اور کہا کہ اگر آپ یہ مسئلہ حل نہیں کرتے تو میں آپ کے ساتھ تجارتی سودے نہیں کروں گا۔ اور وہ دونوں اچانک نرم ہو گئے، اور ہمیں ایک اچھا سودا کرنے کی اجازت دی۔”
غزہ میں امن کے لیے عالمی سطح پر مشترکہ کوششوں کی ضرورت
وزیر اعظم شہباز شریف نے غزہ میں دیرپا امن کے قیام کے لیے عالمی سطح پر مشترکہ کوششوں کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان ہمیشہ فلسطینی عوام کے حق خود ارادیت کی حمایت کرتا ہے اور وہ اس بات کے حامی ہیں کہ فلسطین کو اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق ایک آزاد، خودمختار ریاست کا درجہ حاصل ہو۔
انہوں نے اس بات کی امید ظاہر کی کہ بورڈ آف پیس کی قیادت میں ہونے والی کوششوں سے غزہ میں امن قائم کرنے کے لیے عالمی برادری کی مدد حاصل ہو گی۔ وزیر اعظم نے کہا کہ پاکستان غزہ کی تعمیر نو اور اس کے عوام کی زندگیوں کے تحفظ کے لیے اپنی حمایت فراہم کرنے کے لیے تیار ہے۔
نتیجہ
وزیر اعظم شہباز شریف کا واشنگٹن میں بورڈ آف پیس کے اجلاس میں خطاب اور ان کی طرف سے غزہ میں جنگ بندی کی خلاف ورزیوں کے خاتمے کی ضرورت پر زور دینا اس بات کا غماز ہے کہ پاکستان عالمی سطح پر امن کے قیام کے لیے اپنی ذمہ داریوں کو سمجھتا ہے اور اس ضمن میں اہم کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی قیادت کو سراہتے ہوئے وزیر اعظم نے امید ظاہر کی کہ غزہ میں دیرپا امن کے قیام کے لیے عالمی برادری کے تعاون سے ممکنہ حل تلاش کیا جا سکے گا۔






