
سید عاطف ندیم,مدثر احمد وائس آف جرمنی اردو نیوز
اسلام آباد / نیویارک — پاکستان اور امریکہ نے باضابطہ طور پر ایک نیا اسٹریٹجک اقتصادی اقدام شروع کیا ہے جس کا مقصد نیویارک میں واقع روزویلٹ ہوٹل کی دوبارہ ترقی، تزئین و آرائش اور آپریشن کے حوالے سے تعاون کرنا ہے۔ وزارت خزانہ کی جانب سے جاری کیے گئے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ اس شراکت داری کا مقصد دونوں ممالک کے اقتصادی تعلقات کو مستحکم کرنا اور پاکستان کے سب سے قیمتی غیر ملکی اثاثوں میں سے ایک کی قدر میں اضافہ کرنا ہے۔
روزویلٹ ہوٹل کا اسٹریٹجک مقام اور اس کی اہمیت
روزویلٹ ہوٹل، جو امریکہ کے سابق صدر تھیوڈور روزویلٹ کے نام سے منسوب ہے، نیویارک کے وسطی حصے مین ہٹن میں واقع ہے اور اسے شہر کے سب سے قیمتی تجارتی زون میں شمار کیا جاتا ہے۔ یہ ہوٹل اہم مقامات جیسے کہ گرینڈ سینٹرل ٹرمینل، ٹائمز اسکوائر اور ففتھ ایونیو کے قریب واقع ہے، جو اس کی جغرافیائی اہمیت کو مزید بڑھاتا ہے۔ پاکستان نے اس ہوٹل کو 2000 میں حاصل کیا تھا، اور یہ ملک کے غیر ملکی اثاثوں میں سے ایک انتہائی قیمتی پراپرٹی سمجھا جاتا ہے۔
تاہم، بڑھتے ہوئے مالیاتی مشکلات اور نقصان کے باعث، یہ ہوٹل 2020 میں بند کر دیا گیا تھا اور مختصر عرصے کے لیے ایک مہاجر کیمپ کے طور پر بھی استعمال کیا گیا تھا۔ اب، دونوں ممالک اس ہوٹل کی دوبارہ تزئین و آرائش اور آپریشن کو فروغ دینے کے لیے ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کر رہے ہیں تاکہ اس کی قدر میں اضافہ کیا جا سکے اور اس کے طویل عرصے تک منافع بخش ہونے کی راہ ہموار کی جا سکے۔
اسٹریٹجک اقتصادی شراکت داری: مفاہمت نامے پر دستخط
وزارت خزانہ کی جانب سے جاری کیے گئے بیان میں کہا گیا کہ پاکستان اور امریکہ نے اس اسٹریٹجک اقتصادی اقدام کو باضابطہ طور پر شروع کرنے کے لیے ایک مفاہمت نامے (MOU) پر دستخط کیے ہیں۔ اس موقع پر جی ایس اے (جنرل سروسز ایڈمنسٹریشن) کے ایڈمنسٹریٹر ایڈورڈ سی فورسٹ اور پاکستان کے وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے دستخط کیے، جب کہ وزیر اعظم پاکستان شہباز شریف اور امریکی خصوصی ایلچی سٹیو وِٹکوف نے اس معاہدے کی گواہی دی۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ اس شراکت داری کا مقصد ہوٹل کی دوبارہ ترقی کے لیے تکنیکی، تجارتی اور اقتصادی پیرامیٹرز کا مشترکہ تجزیہ کرنا اور اس کے عمل کو ایک مضبوط، وقت کا پابند فریم ورک میں ترتیب دینا ہے۔ اس اقدام میں شفافیت، نظم و ضبط اور باہمی طور پر فائدہ مند پیش رفت کو یقینی بنانے کے لیے مشترکہ عزم کی عکاسی کی جائے گی۔
اس تعاون کا مقصد
اس اسٹریٹجک اقتصادی اقدام کا ایک بڑا مقصد روزویلٹ ہوٹل کی زیادہ سے زیادہ قیمت کو محفوظ بنانا ہے تاکہ پاکستان اور امریکہ کے اقتصادی تعلقات کو مزید مستحکم کیا جا سکے۔ دونوں حکومتوں نے اس منصوبے کو مکمل کرنے کے لیے ایک واضح فریم ورک قائم کیا ہے جس سے ادارہ جاتی ہم آہنگی کو فروغ ملے گا اور اس عمل کے خطرات کو کم کیا جائے گا۔
وزارت خزانہ کے بیان کے مطابق، اس شراکت داری کا مقصد نیویارک کی زوننگ اور میونسپل پروسیس کی پیچیدگیوں کو مدنظر رکھتے ہوئے، اس منصوبے کی کامیابی کو یقینی بنانا ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ اس تعاون کے ذریعے اس بات کو یقینی بنایا جائے گا کہ تمام اقدامات ایک مشترکہ فریم ورک کے تحت اور ریگولیٹری وضاحت کے مطابق کیے جائیں۔
جنرل سروسز ایڈمنسٹریشن (GSA) کا کردار
بیان میں یہ بھی کہا گیا کہ امریکہ کی جنرل سروسز ایڈمنسٹریشن (GSA) اس منصوبے کی نگرانی کرے گی۔ GSA بنیادی طور پر امریکی حکومتی ایجنسیوں کے لیے وفاقی جائیداد اور خریداری کا انتظام کرتی ہے۔ تاہم، اس منصوبے میں جی ایس اے کے کردار کے بارے میں فوری طور پر واضح نہیں ہو سکا کہ ایجنسی کس اتھارٹی کے تحت اس منصوبے کی سہولت فراہم کرے گی، کیونکہ GSA کے عوامی بیان کردہ مینڈیٹ میں عام طور پر غیر ملکی سرکاری اثاثوں کی تجارتی بحالی شامل نہیں ہوتی ہے۔
تاہم، امریکی حکام کے مطابق، اس شراکت داری میں GSA کا کردار اس بات کو یقینی بنائے گا کہ نیویارک کے معروف تجارتی مقام پر اس ہوٹل کی ترقی اور آپریشن کے عمل میں درپیش چیلنجز کو کامیابی کے ساتھ حل کیا جا سکے۔ اس تعاون سے دونوں ممالک کے تعلقات مزید مضبوط ہوں گے اور عالمی سطح پر اقتصادی شراکت داری کی ایک نئی مثال قائم ہو گی۔
پاکستان کی نجکاری کی حکمت عملی
پاکستان کی حکومت کی نجکاری کی حکمت عملی کے مطابق، اس ہوٹل کی دوبارہ ترقی کو ایک اہم مالیاتی منصوبہ سمجھا جا رہا ہے جس کا مقصد اس پراپرٹی کی زیادہ سے زیادہ قیمت کو محفوظ بنانا ہے۔ یہ پاکستان کے لیے ایک اہم موقع ہے جس سے نہ صرف اس کے غیر ملکی اثاثوں کی قدر میں اضافہ ہو گا بلکہ امریکہ کے ساتھ اس کی اقتصادی شراکت داری کو بھی مزید مستحکم کیا جا سکے گا۔
نتیجہ
پاکستان اور امریکہ کے درمیان اسٹریٹجک اقتصادی شراکت داری کا آغاز ایک نئے دور کا آغاز ہے، جس میں نیویارک میں روزویلٹ ہوٹل کی دوبارہ ترقی اور آپریشن کے حوالے سے اہم اقدامات کیے جائیں گے۔ دونوں ممالک نے اس شراکت داری کو آگے بڑھانے کے لیے ایک مفاہمت نامے پر دستخط کیے ہیں، جس سے ان کے اقتصادی تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کا امکان ہے۔ یہ شراکت داری پاکستان کے غیر ملکی اثاثوں کے لیے ایک نیا راستہ فراہم کرے گی اور امریکہ کے ساتھ اقتصادی تعلقات کو مزید مستحکم کرے گی۔



