
ایجنسیاں
نائروبی — کینیا کی پارلیمنٹ میں پیش کی گئی ایک انٹیلیجنس رپورٹ کے مطابق، ایک ہزار سے زائد کینیائی شہریوں نے روسی فوج کے لیے یوکرین جنگ میں حصہ لینے کے لیے شمولیت اختیار کی ہے۔ ان رپورٹوں میں بتایا گیا ہے کہ ان میں سے بیشتر کو دھوکہ دے کر فوجی معاہدوں پر دستخط کروائے گئے، اور انہیں وعدوں کے مطابق نہ صرف پُرکشش مالی فوائد حاصل کرنے کا کہا گیا بلکہ انہیں بعد میں یوکرین کے خلاف لڑنے کے لیے بھیجا گیا۔
یہ انکشافات اس ماہ کے اوائل میں اے ایف پی کی جانب سے کی گئی تحقیقات میں سامنے آئے، جس کے مطابق روس نے افریقی ممالک کے مردوں کو نوکریوں کے وعدوں کے ذریعے اپنے فوجی صفوں میں بھرتی کیا۔ ان میں سے بیشتر افراد کو جنگ کے میدان میں یوکرین کے خلاف لڑنے پر مجبور کیا گیا۔ روس کے لیے یہ بھرتی کا عمل اس وقت انتہائی ضروری ہو گیا جب اسے یوکرین میں اپنی فوجی پوزیشنوں پر بھاری جانی نقصان کا سامنا ہوا۔
کینیا کے شہری روسی فوج میں شامل کیسے ہوئے؟
رکن پارلیمان کیمانی آئیچونگ واہ نے کینیا کے قانون سازوں کو بتایا کہ ’’کینیائی شہری ترکی کے شہر استنبول، ابو ظہبی اور متحدہ عرب امارات کے راستے سیاحتی ویزوں پر روس روانہ ہوتے ہیں، جہاں انہیں روسی فوج میں شمولیت کے لیے راغب کیا جاتا ہے۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ ’’یہ افراد ابتدائی طور پر ملازمت کے وعدوں کے تحت ان ممالک میں آتے ہیں، لیکن پھر انہیں یوکرین کے خلاف جنگ میں حصہ لینے کے لیے مجبور کیا جاتا ہے۔‘‘
کینیائی پارلیمنٹ نے یہ انکشاف کیا ہے کہ روسی فوج میں بھرتی ہونے والوں کی تعداد میں اضافے کے باوجود کینیا کے حکام نے اس مسئلے پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ حکومت نے عوامی طور پر اپنے شہریوں کو ’’توپ کا چارہ‘‘ بنانے کی مذمت کی ہے، اور ان افراد کو واپس لانے کے لیے فوری اقدامات کی ضرورت پر زور دیا ہے۔
دیگر افریقی ممالک کی شمولیت
کینیائی شہریوں کی روسی فوج میں بھرتی کی رپورٹ صرف کینیا تک محدود نہیں ہے۔ یوگینڈا اور جنوبی افریقہ جیسے دیگر افریقی ممالک بھی روس کے لیے جوانوں کی بھرتی کے ذرائع بن چکے ہیں۔ روسی حکومت نے ان ممالک کے نوجوانوں کو پُرکشش پیشکشیں کیں، جن میں نہ صرف اچھے مالی فوائد بلکہ سروس کے دوران دیگر فوائد شامل تھے۔ تاہم، حقیقت میں ان افراد کو یوکرین جنگ میں لڑنے کے لیے بھیجا جا رہا ہے، جہاں انہیں شدید خطرات کا سامنا ہے۔
کینیا کی حکومت کا ردعمل
کینیا کے وزیر خارجہ موسالیا موداوادی اگلے ماہ روس کے دورے پر جا رہے ہیں تاکہ اس مسئلے پر بات چیت کر سکیں۔ وزارت خارجہ نے اس بات پر سختی سے تنقید کی ہے کہ روسی حکام نے ان افریقی ممالک کے شہریوں کو جنگ میں شرکت کے لیے دھوکے سے راغب کیا ہے، اور اس بات پر زور دیا کہ کینیائی شہریوں کو اس تنازعے میں ’’توپ کا چارہ‘‘ نہیں بنایا جانا چاہیے۔
کینیا کی حکومت نے اعلان کیا ہے کہ وہ اپنے شہریوں کو جنگ کے محاذ پر بھیجنے والے افراد کے خلاف کارروائی کرے گی اور ان کی واپسی کے لیے عالمی سطح پر دباؤ ڈالے گی۔ وزیر خارجہ موسالیا موداوادی کا کہنا ہے کہ ’’ہماری حکومت اس معاملے کو سنجیدگی سے لے رہی ہے، اور اس پر فوری طور پر اقدامات کیے جائیں گے تاکہ ہمارے شہریوں کو اس غیر اخلاقی صورتحال سے بچایا جا سکے۔‘‘
یوکرین جنگ اور روسی فوج کی صورتحال
روس کو یوکرین میں فوجی محاذ پر شدید مشکلات کا سامنا ہے، جہاں اسے اپنے مقاصد حاصل کرنے میں مشکلات آ رہی ہیں اور جانی نقصان مسلسل بڑھ رہا ہے۔ روسی فوج نے جنگ کے آغاز سے ہی یوکرین میں اپنی فوجی پوزیشنز کو مستحکم کرنے کی کوشش کی، لیکن یوکرین کی مزاحمت اور عالمی برادری کی حمایت نے روس کے منصوبوں کو بڑا دھچکا پہنچایا ہے۔ اس جنگ میں ہونے والے بھاری جانی نقصان کے باعث، روس نے اپنی فوجی صفوں میں اضافے کے لیے افریقی ممالک میں بھرتی مہم شروع کی۔
روسی حکام نے اس جنگ میں مزید سپاہیوں کی ضرورت کو پورا کرنے کے لیے افریقی ممالک کے شہریوں کو بھرتی کرنا شروع کیا، تاکہ جنگ کے محاذ پر مزید فوجی بھیجے جا سکیں۔ تاہم، اس بھرتی کے طریقے نے عالمی سطح پر تنقید کا سامنا کیا ہے، کیونکہ ان افراد کو دھوکے سے فوجی معاہدوں پر دستخط کروائے گئے اور انہیں جنگ کے میدان میں بھیجا گیا۔
عالمی ردعمل اور تشویش
عالمی سطح پر اس معاملے پر تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے، کیونکہ روس کے اس اقدام نے نہ صرف انسانی حقوق کے حوالے سے سوالات اٹھائے ہیں، بلکہ عالمی قوانین اور اخلاقی اصولوں کی بھی خلاف ورزی کی گئی ہے۔ مختلف عالمی تنظیموں اور انسانی حقوق کے گروپوں نے روس کی اس فوجی بھرتی مہم کو غیر قانونی اور غیر اخلاقی قرار دیا ہے، اور اس بات پر زور دیا ہے کہ ایسی پالیسیوں کو فوری طور پر روکنا چاہیے۔
نتیجہ:
کینیا اور دیگر افریقی ممالک سے روس کی فوج میں بھرتی کیے جانے والے شہریوں کا معاملہ ایک سنگین مسئلہ بن چکا ہے، جس پر عالمی سطح پر تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ روس کی جانب سے نوجوانوں کو دھوکہ دے کر جنگ میں بھیجنے کا عمل نہ صرف بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہے بلکہ انسانی حقوق کے لیے بھی سنگین خطرہ ہے۔ کینیائی حکومت اور دیگر افریقی ممالک نے اس معاملے کی روک تھام کے لیے عالمی سطح پر اقدامات اٹھانے کا عندیہ دیا ہے۔ اس کے علاوہ، روسی حکام کو اس بھرتی مہم پر عالمی برادری کی طرف سے شدید دباؤ کا سامنا ہو سکتا ہے، جس کے نتیجے میں ممکنہ طور پر روس کو اس پالیسی کو واپس لینے پر مجبور کیا جائے گا۔



