
سید عاطف ندیم-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز، سیکورٹی زرائع کے ساتھ
پاکستانی سیکیورٹی ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ حالیہ دہشتگردی کے واقعات میں افغان سرزمین کے مبینہ استعمال کے ناقابلِ تردید شواہد منظرِ عام پر آئے ہیں، جن کے بعد سرحد پار دہشتگرد نیٹ ورکس اور ان کی سہولت کاری سے متعلق خدشات مزید گہرے ہوگئے ہیں۔ تازہ ترین واقعہ 16 فروری 2026 کو خیبر پختونخوا کے ضلع باجوڑ میں پیش آیا، جہاں ملنگی پوسٹ پر ہونے والے خودکش حملے میں 11 سیکیورٹی اہلکاروں سمیت دو شہری جان کی بازی ہار گئے۔
باجوڑ ملنگی پوسٹ پر خودکش حملہ
سیکیورٹی حکام کے مطابق حملہ آور کی شناخت احمد عرف قاری عبداللہ ابوذر کے نام سے ہوئی، جسے ایک افغان شہری قرار دیا جا رہا ہے اور جس کا تعلق افغانستان کے صوبہ بلخ سے بتایا گیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ ابتدائی تحقیقات اور بائیومیٹرک شواہد سے اس کی غیر ملکی شہریت کی تصدیق ہوئی ہے۔
ذرائع کے مطابق حملہ آور مبینہ طور پر افغان طالبان کی اسپیشل فورسز کا حصہ رہ چکا تھا اور بعد ازاں شدت پسند تنظیموں سے منسلک ہو گیا۔ دھماکہ اس وقت کیا گیا جب سیکیورٹی اہلکار معمول کی ڈیوٹی پر تعینات تھے۔ دھماکے کے نتیجے میں پوسٹ کو شدید نقصان پہنچا جبکہ زخمیوں کو فوری طور پر قریبی طبی مراکز منتقل کیا گیا۔
اسلام آباد کے علاقے ترلائی میں حملہ
اس سے قبل 6 فروری 2026 کو وفاقی دارالحکومت کے نواحی علاقے ترلائی، اسلام آباد میں بھی ایک خودکش حملہ پیش آیا تھا۔ تحقیقاتی اداروں کے مطابق اس حملے میں ملوث بمبار نے مبینہ طور پر افغانستان میں تربیت حاصل کی تھی۔ سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ اس کے تربیتی روابط سرحد پار موجود شدت پسند عناصر سے ملتے ہیں۔
سرحد پار روابط اور محفوظ پناہ گاہوں کا الزام
پاکستانی ماہرینِ سیکیورٹی کا مؤقف ہے کہ حالیہ مہینوں میں ہونے والے دہشتگردی کے متعدد واقعات کے تانے بانے سرحد پار افغانستان سے ملتے ہیں۔ ان کے مطابق شدت پسند تنظیموں کو افغانستان میں محفوظ پناہ گاہیں میسر ہیں جہاں انہیں تربیت، مالی معاونت اور منصوبہ بندی کی سہولت فراہم کی جاتی ہے۔
حکام کا دعویٰ ہے کہ پاکستان میں دہشتگردی کے واقعات میں 70 فیصد سے زائد حملہ آوروں کا تعلق افغانستان سے جوڑا گیا ہے، تاہم اس دعوے کی آزاد ذرائع سے تصدیق تاحال سامنے نہیں آئی۔ سیکیورٹی ادارے اس حوالے سے مزید شواہد اکٹھے کرنے میں مصروف ہیں۔
افغان طالبان رجیم پر الزامات
پاکستانی حکام اور دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ افغان طالبان کی حکومت دہشتگرد تنظیموں کے خلاف مؤثر کارروائی کرنے میں ناکام رہی ہے۔ ان کے مطابق بعض شدت پسند گروہوں کو نہ صرف افغانستان میں محفوظ ٹھکانے میسر ہیں بلکہ انہیں مبینہ طور پر سہولت کاری بھی حاصل ہے۔
دوسری جانب افغان حکام ماضی میں ان الزامات کی تردید کرتے رہے ہیں اور مؤقف اختیار کرتے ہیں کہ وہ اپنی سرزمین کسی بھی ملک کے خلاف استعمال نہیں ہونے دیں گے۔
امن و استحکام پر اثرات
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ سرحد پار دہشتگردی کے یہ الزامات دونوں ہمسایہ ممالک کے تعلقات پر منفی اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔ پاکستان پہلے ہی سرحدی نگرانی سخت کرنے، باڑ لگانے اور انٹیلیجنس شیئرنگ کے نظام کو بہتر بنانے جیسے اقدامات کر چکا ہے، تاہم حالیہ واقعات کے بعد مزید سخت پالیسی فیصلوں کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔
سیکیورٹی ماہرین کے مطابق خطے میں پائیدار امن کے لیے دونوں ممالک کے درمیان مؤثر تعاون، انٹیلیجنس شیئرنگ اور دہشتگرد نیٹ ورکس کے خلاف مشترکہ حکمتِ عملی ناگزیر ہے۔ بصورتِ دیگر سرحد پار سرگرم شدت پسند عناصر نہ صرف پاکستان بلکہ پورے خطے کے امن و استحکام کے لیے مستقل خطرہ بن سکتے ہیں۔
(یہ رپورٹ سیکیورٹی ذرائع اور ابتدائی تحقیقات پر مبنی ہے۔ بعض دعوؤں کی آزادانہ تصدیق تاحال ممکن نہیں ہو سکی۔)



