
سید عاطف ندیم،مدثر احمد وائس آف جرمنی اردو نیوز
واشنگٹن: وزیرِ اعظم پاکستان شہباز شریف نے واشنگٹن میں منعقدہ بورڈ آف پیس کے افتتاحی اجلاس کے موقع پر عالمی رہنماؤں سے غیر رسمی اور خوشگوار ملاقاتیں کیں۔ یہ ملاقاتیں ایسے وقت میں ہوئیں جب وزیرِ اعظم امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی دعوت پر بورڈ آف پیس کے افتتاحی اجلاس میں شرکت کے لیے امریکا میں موجود ہیں۔
سفارتی ذرائع کے مطابق ان ملاقاتوں میں عالمی و علاقائی امور، باہمی تعاون، اقتصادی شراکت داری اور امن و استحکام سے متعلق معاملات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ ملاقاتوں کا ماحول دوستانہ اور غیر رسمی تھا جس میں رہنماؤں کے درمیان گرمجوشی اور مسکراہٹوں کا تبادلہ دیکھنے میں آیا۔
بحرین کے فرمانروا سے ملاقات
وزیرِ اعظم شہباز شریف کی بحرین کے فرمانروا حماد بن عیسی الخلیفہ سے غیر رسمی ملاقات ہوئی۔ دونوں رہنماؤں نے پاکستان اور بحرین کے برادرانہ تعلقات پر اطمینان کا اظہار کیا اور اقتصادی، دفاعی اور افرادی قوت کے شعبوں میں تعاون کو مزید فروغ دینے پر گفتگو کی۔
ذرائع کے مطابق ملاقات میں مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال، بالخصوص غزہ میں قیامِ امن کی کوششوں پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔
آذربائیجان، ازبکستان اور قازقستان کے صدور سے تبادلہ خیال
وزیرِ اعظم نے آذربائیجان کے صدر الحام الیو، ازبکستان کے صدر شوقات مرزیواو اور قازقستان کے صدرقاسم جمارت ٹوکیوسے بھی علیحدہ علیحدہ غیر رسمی ملاقاتیں کیں۔
ان ملاقاتوں میں وسطی ایشیائی خطے میں علاقائی روابط، تجارت، توانائی کے منصوبوں اور ٹرانزٹ تعاون کے امکانات پر گفتگو ہوئی۔ رہنماؤں نے باہمی دلچسپی کے امور پر قریبی رابطے جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔
سفارتی مبصرین کے مطابق پاکستان کی وسطی ایشیائی ریاستوں کے ساتھ بڑھتی ہوئی قربت علاقائی معاشی انضمام اور رابطہ کاری کے وژن کا حصہ ہے۔
انڈونیشیا کے صدر سے ملاقات
وزیرِ اعظم شہباز شریف کی انڈونیشیا کے صدر پروبووو سبیانتو سے بھی خوشگوار ملاقات ہوئی۔ دونوں رہنماؤں نے مسلم دنیا کو درپیش چیلنجز، اقتصادی تعاون اور کثیرالجہتی فورمز پر مشترکہ مؤقف اختیار کرنے کی اہمیت پر گفتگو کی۔
ذرائع کے مطابق ملاقات میں اسلامی ممالک کے درمیان اتحاد و یکجہتی کے فروغ اور عالمی سطح پر مشترکہ آواز بلند کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا گیا۔
بورڈ آف پیس میں پاکستان کی شمولیت کی اہمیت
وزیرِ اعظم شہباز شریف کی بورڈ آف پیس کے افتتاحی اجلاس میں شرکت کو پاکستان کی فعال سفارتی حکمتِ عملی کا تسلسل قرار دیا جا رہا ہے۔ حکومتی مؤقف کے مطابق پاکستان کی اس فورم میں شمولیت غزہ میں امن کے قیام، تعمیرِ نو کی کوششوں اور عالمی امن کے لیے پاکستان کے عزم کی عکاسی کرتی ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بورڈ آف پیس جیسے عالمی پلیٹ فارم پر پاکستان کی موجودگی نہ صرف اس کی سفارتی سرگرمیوں کو تقویت دیتی ہے بلکہ اسے عالمی سطح پر ایک ذمہ دار اور امن دوست ریاست کے طور پر اجاگر کرتی ہے۔
غیر رسمی سفارتکاری کی اہمیت
بین الاقوامی تعلقات کے ماہرین کے مطابق عالمی کانفرنسوں کے موقع پر ہونے والی غیر رسمی ملاقاتیں مستقبل کی باضابطہ سفارتی پیش رفت کے لیے بنیاد فراہم کرتی ہیں۔ رہنماؤں کے درمیان ذاتی ہم آہنگی اور براہِ راست مکالمہ باہمی اعتماد میں اضافے کا سبب بنتا ہے، جو بعد ازاں عملی تعاون کی صورت اختیار کر سکتا ہے۔
واشنگٹن میں جاری سفارتی سرگرمیوں کے دوران وزیرِ اعظم شہباز شریف کی عالمی رہنماؤں سے ملاقاتوں کو پاکستان کی متحرک خارجہ پالیسی اور عالمی امور میں فعال کردار کا مظہر قرار دیا جا رہا ہے۔ مبصرین کے مطابق یہ روابط مستقبل میں اقتصادی، تجارتی اور سفارتی تعاون کے نئے دروازے کھول سکتے ہیں۔







