
سید عاطف ندیم،مدثر احمد،وائس آف جرمنی اردو نیوز
واشنگٹن ڈی سی: وزیراعظم پاکستان شہباز شریف سے یونائیٹڈ اسٹیٹس انٹرنیشنل ڈیولپمنٹ فنانس کارپوریشن کے سی ای او بنجمن بلیکنے ملاقات کی، جس میں پاکستان اور امریکہ کے درمیان اقتصادی شراکت داری کو مزید وسعت دینے اور سرمایہ کاری کے مواقع بڑھانے پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔
ملاقات میں U.S. International Development Finance Corporation (ڈی ایف سی) کے سرمایہ کاری کے سربراہ کونور کولمین اور ایجنسی کی سینئر قیادت بھی شریک تھی۔ پاکستانی وفد میں اعلیٰ سرکاری حکام شامل تھے۔
پاک امریکہ معاشی شراکت داری پر زور
وزیراعظم شہباز شریف نے گفتگو کرتے ہوئے پاکستان اور امریکہ کے درمیان بڑھتی ہوئی معاشی شراکت داری کو سراہا اور نجی شعبے کے درمیان مشترکہ منصوبوں کے فروغ میں ڈی ایف سی کے کردار کو اہم قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ دوطرفہ اقتصادی تعاون نہ صرف روزگار کے نئے مواقع پیدا کرتا ہے بلکہ صنعتی و پیداواری صلاحیت میں اضافے کا بھی سبب بنتا ہے۔
وزیراعظم نے اس بات پر زور دیا کہ حکومت پاکستان معیشت کو مستحکم بنیادوں پر استوار کرنے کے لیے اصلاحاتی اقدامات پر عمل پیرا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حالیہ مہینوں میں میکرو اکنامک اشاریوں میں بہتری، زرمبادلہ کے ذخائر میں استحکام اور سرمایہ کاری کے ماحول کو بہتر بنانے کے لیے کی جانے والی اصلاحات بین الاقوامی سرمایہ کاروں کے اعتماد میں اضافے کا باعث بنی ہیں۔
سرمایہ کاری کے نئے مواقع
وزیراعظم نے ڈی ایف سی کو توانائی، کانوں اور معدنیات، زراعت اور آئی ٹی کے شعبوں میں اپنی فنانسنگ میں اضافہ کرنے کی دعوت دی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان ان شعبوں میں وسیع مواقع رکھتا ہے اور بیرونی سرمایہ کاری کے لیے سازگار ماحول فراہم کر رہا ہے۔
وزیراعظم نے ڈی ایف سی کے پاکستان میں ایک ارب ڈالر سے زائد کے موجودہ پورٹ فولیو کو سراہتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کی اقتصادی ترجیحات میں ہم آہنگی موجود ہے، جس سے بزنس ٹو بزنس (B2B) روابط بڑھانے اور مشترکہ منصوبوں کے قیام کے لیے سازگار مواقع پیدا ہوئے ہیں۔
انہوں نے ڈی ایف سی کی قیادت کو اپریل میں اسلام آباد میں منعقد ہونے والی آئندہ معدنیات کانفرنس میں شرکت کی دعوت بھی دی، تاکہ پاکستان کے معدنی وسائل میں سرمایہ کاری کے امکانات کو قریب سے دیکھا جا سکے۔
ڈی ایف سی کی دلچسپی اور مستقبل کے منصوبے
سی ای او بنجمن بلیک نے وزیراعظم کو ایجنسی کے اسٹریٹجک اقدامات، ترجیحات اور پاکستان میں جاری و مجوزہ منصوبوں کے بارے میں بریفنگ دی۔ انہوں نے پاکستان میں ڈی ایف سی کی موجودگی اور سرمایہ کاری کے حجم میں مزید اضافے میں دلچسپی ظاہر کی۔
انہوں نے کہا کہ ڈی ایف سی اپنی حالیہ دوبارہ اجازت (ری آتھورائزیشن) کے بعد شراکت دار ممالک میں اقتصادی ترقی کی حمایت کے لیے مزید مضبوط پوزیشن میں ہے اور پاکستان جیسے اہم ملک میں سرمایہ کاری کے مواقع کو وسعت دینا ایجنسی کی ترجیحات میں شامل ہے۔
پاکستان کے دورے کی دعوت
وزیراعظم شہباز شریف نے بنجمن بلیک کو جلد از جلد پاکستان کا دورہ کرنے کی دعوت دیتے ہوئے کہا کہ براہِ راست دورہ اور متعلقہ حکام و کاروباری برادری سے ملاقاتیں سرمایہ کاری کے نئے امکانات کو عملی جامہ پہنانے میں معاون ثابت ہوں گی۔
تجزیہ کاروں کے مطابق یہ ملاقات پاکستان اور امریکہ کے درمیان اقتصادی تعلقات کے فروغ، نجی شعبے کے اشتراک اور طویل المدتی سرمایہ کاری کے لیے مثبت پیش رفت قرار دی جا رہی ہے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ توانائی، معدنیات اور آئی ٹی جیسے شعبوں میں غیر ملکی سرمایہ کاری پاکستان کی پائیدار معاشی ترقی میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔




