مشرق وسطیٰتازہ ترین

لبنان کو اپنے سویلین انفراسٹرکچر پر اسرائیلی حملوں کا خطرہ

یوسف رجی نے صحافیوں کو بتایا، ''ایسے اشارے موجود ہیں کہ تہران کے ساتھ موجودہ تناؤ میں مزید شدت آئی، تو اسرائیل لبنان پر بھرپور حملے کر سکتا ہے

ڈی پی اے اور اے ایف پی کے ساتھ

لبنانی حکومت نے کہا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں پائے جانے والے موجودہ حالات کے تناظر میں اور ایران اور اسرائیل کے مابین کشیدگی میں مزید اضافے کی صورت میں اسٹریٹیجک لبنانی انفراسٹرکچر پر اسرائیلی حملوں کا خطرہ ہے۔

لبنان کی سفارتی کوششوں کا مقصد

نیوز ایجنسی اے ایف پی نے لکھا ہے کہ لبنانی وزیر خارجہ یوسف رجی نے یہ بیان ایک ایسے وقت پر دیا جب مشرق وسطیٰ میں ایران کے ‌خلاف ممکنہ حملوں کے لیے امریکہ خطے میں اپنی متنوع عسکری طاقت مسلسل جمع کرتا جا رہا ہے اور ساتھ ہی واشنگٹن کی طرف سے یہ اشارے بھی دیے جا چکے ہیں کہ وہ تہران کے خلاف دیرپا حد تک جاری رہنے والی فوجی مہم کے لیے بھی تیار ہے۔

یوسف رجی نے صحافیوں کو بتایا، ”ایسے اشارے موجود ہیں کہ تہران کے ساتھ موجودہ تناؤ میں مزید شدت آئی، تو اسرائیل لبنان پر بھرپور حملے کر سکتا ہے، اور اس دوران اسٹریٹیجک انفراسٹرکچر جیسے ہوائی اڈوں تک پر حملے بھی ممکن ہیں۔‘‘

لبنانی وزیر خارجہ یوسف رجی، دائیں، شامی وزیر خارجہ اسعد الشیبانی کے ساتھ، فائل فوٹو
لبنانی وزیر خارجہ یوسف رجی، دائیں، شامی وزیر خارجہ اسعد الشیبانی کے ساتھ، فائل فوٹوتصویر: Hassan Ammar/AP Photo/picture alliance

ساتھ ہی یوسف رجی نے کہا، ”ہم اس وقت ایسی سفارتی کوششیں کر رہے ہیں کہ اگر کسی تصادم کی صورت میں جوابی حملے بھی ہوئے، تو بھی اسرائیل لبنانی سویلین انفراسٹرکچر کو نشانہ نہ بنائے۔‘‘

اس کے علاوہ یوسف رجی نے یہ بھی کہا، ”لبنان کی قومی قیادت کا موقف یہ ہے کہ اس جنگ کا ہم سے کوئی تعلق ہی نہیں۔‘‘

لبنان سے امریکی سفارتی عملے کا انخلا

امریکہ نے ابھی کل پیر 23 فروری کے روز ہی بیروت میں اپنے سفارت خانے کے تمام غیر ہنگامی عملے کو یہ ہدایت کر دی تھی کہ وہ لبنان سے نکل جائے۔ امریکی دفتر خارجہ نے لبنان میں امریکی سفارتی عملے کو یہ ہدایت اسی تناظر میں کی تھی کہ خطے میں موجودہ صورت حال بگڑ کر ممکنہ فوجی تصادم کی صورت اختیار کر سکتی ہے۔

بیروت میں حزب اللہ کے کارکنوں کا ایک ہجوم ایک اسرائیلی فضائی حملے میں مارے جانے والے اپنے دو رہنماؤں کی میتوں کو تدفین کے لیے لے جاتے ہوئے، فائل فوٹو
بیروت میں حزب اللہ کے کارکنوں کا ایک ہجوم ایک اسرائیلی فضائی حملے میں مارے جانے والے اپنے دو رہنماؤں کی میتوں کو تدفین کے لیے لے جاتے ہوئے، فائل فوٹوتصویر: Hussein Malla/AP Photo/picture alliance

لبنان کو خطرہ ہے کہ اسے اسرائیل اور ایران کے مابین کسی بھی عسکری تصادم کے نتائج کا سامنا ایسی صورت میں کرنا پڑ سکتا ہے کہ اس دوطرفہ تنازعے میں لبنان کی ایران نواز شیعہ ملیشیا حزب اللہ بھی شامل ہو جائے۔

اسرائیل نے ابھی گزشتہ جمعے کے روز بھی مشرقی لبنان میں حزب اللہ کے مبینہ کمانڈ سینٹرز اور جنوبی لبنان میں فلسطینی عسکریت پسند تنظیم حماس کے مبینہ ٹھکانوں پر ہلاکت خیز فضائی حملے کیے تھے۔

اسی دوران لبنانی حکومت نے ملک کی ایران نواز ملیشیا حزب اللہ سے واضح طور پر منگل کے روز یہ مطالبہ بھی کر دیا کہ وہ ایران اور اسرائیل کے مابین کسی بھی مسلح تنازعے میں تہران کی حمایت کرتےہوئے شریک ہونے سے باز رہے۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button