اہم خبریںبین الاقوامی

ایران تنازعہ شدت اختیار کر گیا: پینٹاگون نے تین امریکی فوجیوں کی ہلاکت کی تصدیق کر دی

“ایرانی بحری جہاز اب خلیج عمان کے پانیوں میں ڈوبنے کے قریب ہے۔”پینٹاگون

واشنگٹن / تہران / تل ابیب — امریکہ اور ایران کے درمیان جاری عسکری کشیدگی ایک نئے اور خطرناک مرحلے میں داخل ہو گئی ہے۔ پینٹاگون نے تصدیق کی ہے کہ ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں کے دوران تین امریکی فوجی ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے ہیں۔ یہ اس حالیہ تنازعے میں امریکہ کی پہلی باقاعدہ فوجی ہلاکتیں ہیں۔

امریکی حکام کے مطابق یہ ہلاکتیں ایران کے خلاف جاری مشترکہ امریکی۔اسرائیلی عسکری مہم کے دوران پیش آئیں، جسے امریکی ذرائع “آپریشن ایپک فیوری” قرار دے رہے ہیں۔


ایران کی جوابی کارروائیاں تیز

امریکی اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران نے اتوار یکم مارچ کو تصدیق کی کہ اس کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای ایک اسرائیلی حملے میں دیگر اعلیٰ ایرانی عہدیداروں کے ساتھ مارے گئے۔

خامنہ ای کی ہلاکت کی تصدیق کے فوراً بعد ایران نے اسرائیل اور خطے میں موجود امریکی فوجی تنصیبات پر راکٹ اور بیلسٹک میزائل حملے تیز کر دیے۔ ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق یہ حملے “فیصلہ کن اور انتقامی مرحلے” کا حصہ ہیں۔

علاقائی مبصرین کے مطابق ان حملوں کے بعد مشرق وسطیٰ میں مکمل جنگ کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔


خلیج عمان میں ایرانی بحری جہاز کو نشانہ بنانے کا دعویٰ

امریکی فوج کی سینٹرل کمانڈ، United States Central Command (سینٹ کام)، نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک بیان میں کہا کہ ایران کے خلاف ابتدائی فضائی کارروائیوں کے دوران ایک ایرانی بحری جہاز کو خلیج عمان میں نشانہ بنایا گیا۔

بیان میں کہا گیا:

“ایرانی بحری جہاز اب خلیج عمان کے پانیوں میں ڈوبنے کے قریب ہے۔”

تاہم مختلف بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق اس دعوے کی آزاد اور غیر جانب دار ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی۔


یو ایس ایس ونسٹن چرچل سے میزائل فائرنگ

امریکی بحریہ کے جنگی جہاز USS Winston S. Churchill سے ایران کے خلاف آپریشن “ایپک فیوری” کے دوران میزائل فائر کیے جانے کی ویڈیوز اور تصاویر بھی جاری کی گئی ہیں۔

فوجی ذرائع کے مطابق یہ حملے ایرانی عسکری تنصیبات، میزائل لانچنگ سائٹس اور بحری اثاثوں کو نشانہ بنانے کے لیے کیے گئے۔ تاہم ایران نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے متعدد امریکی اور اسرائیلی اہداف کو کامیابی سے نشانہ بنایا ہے اور “دشمن کو بھاری نقصان پہنچایا ہے۔”


امریکی فوجی ہلاکتیں: تفصیلات جاری نہیں

پینٹاگون نے ہلاک ہونے والے فوجیوں کے نام اور تعیناتی کے مقام کی تفصیلات فوری طور پر جاری نہیں کیں، البتہ یہ تصدیق کی کہ متعدد اہلکار زخمی بھی ہوئے ہیں اور ان میں سے بعض کی حالت تشویشناک ہے۔

امریکی دفاعی حکام کا کہنا ہے کہ:

  • خطے میں امریکی افواج ہائی الرٹ پر ہیں

  • اضافی دفاعی نظام تعینات کیے جا رہے ہیں

  • اتحادی ممالک سے قریبی رابطہ جاری ہے


اسرائیل کا مؤقف

اسرائیلی حکام نے ایران کے خلاف کارروائیوں کو “دفاعی اقدام” قرار دیا ہے۔ تل ابیب کا کہنا ہے کہ ایرانی قیادت کی جانب سے اسرائیل کے خلاف براہ راست اور بالواسطہ خطرات میں اضافہ ہو چکا تھا، جس کے باعث پیشگی حملے ناگزیر ہو گئے۔

ایران نے اس مؤقف کو مسترد کرتے ہوئے اسے “کھلی جارحیت” قرار دیا ہے۔


علاقائی اور عالمی ردعمل

خامنہ ای کی ہلاکت اور امریکی فوجی ہلاکتوں کے بعد عالمی سطح پر تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔ اقوام متحدہ اور یورپی ممالک نے فوری جنگ بندی اور سفارتی حل کی اپیل کی ہے۔

علاقائی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ:

  • خلیج فارس میں توانائی کی سپلائی متاثر ہو سکتی ہے

  • عالمی تیل کی قیمتوں میں شدید اتار چڑھاؤ آ سکتا ہے

  • خطے میں موجود امریکی اڈے ممکنہ اہداف بن سکتے ہیں


صورتحال انتہائی نازک

ایران کی جانب سے اسرائیل اور امریکی اہداف پر میزائل حملوں میں تیزی اور امریکہ کی طرف سے بحری و فضائی کارروائیوں کے بعد خطہ ایک مکمل علاقائی جنگ کے دہانے پر کھڑا دکھائی دیتا ہے۔

امریکی اور ایرانی قیادت کی جانب سے سخت بیانات کا تبادلہ جاری ہے جبکہ زمینی صورتحال تیزی سے بدل رہی ہے۔ عالمی برادری کی نظریں اب اس بات پر مرکوز ہیں کہ آیا سفارتی کوششیں اس بڑھتی ہوئی کشیدگی کو کم کرنے میں کامیاب ہو سکیں گی یا نہیں۔

موجودہ حالات میں مشرق وسطیٰ کی سیکیورٹی صورتحال کو حالیہ برسوں کی سب سے سنگین اور غیر یقینی صورتحال قرار دیا جا رہا ہے۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button