
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی صوبے کے پہلے سائبر کرائم انویسٹی گیشن یونٹ کے قیام کی منظوری، تمام گاڑیوں کے لیے ای ٹیگنگ لازمی قرار
پنجاب میں سائبر کرائم کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی اپنائی جائے گی۔
سید عاطف ندیم-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز کے ساتھ
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے صوبے میں سائبر سیکیورٹی اور انسدادِ جرائم کے نظام کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے بڑے اور اہم فیصلوں کی منظوری دے دی۔ پیر کے روز منعقدہ ایک خصوصی اجلاس میں انہوں نے پنجاب کے پہلے سائبر کرائم انویسٹی گیشن یونٹ (CCIU) کے قیام، صوبہ بھر میں تمام گاڑیوں بشمول موٹر سائیکلوں کے لیے ای ٹیگنگ کو لازمی قرار دینے، اور جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے نگرانی کے نظام کو مؤثر بنانے کے احکامات جاری کیے۔
سرکاری پریس ریلیز کے مطابق اجلاس میں "ڈیجیٹل دہشت گردی” کے بڑھتے ہوئے خطرات، سائبر نیٹ ورکس کے منظم استعمال اور جرائم پیشہ عناصر کی جدید حکمتِ عملیوں کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ وزیراعلیٰ نے واضح کیا کہ بدلتے ہوئے سیکیورٹی چیلنجز کے پیش نظر ریاستی نگرانی کے نظام کو مزید تیز اور مؤثر بنانا ناگزیر ہو چکا ہے۔
صوبے کا پہلا سائبر کرائم انویسٹی گیشن یونٹ
وزیراعلیٰ نے پنجاب سائبر کرائم انویسٹی گیشن یونٹ (CCIU) کے قیام کی باقاعدہ منظوری دیتے ہوئے اس کے سربراہ کی تقرری کی بھی منظوری دی۔ اس یونٹ کا مقصد سائبر جرائم، آن لائن فراڈ، ڈیجیٹل دہشت گردی، سوشل میڈیا کے ذریعے نفرت انگیز مواد کی تشہیر اور دیگر ٹیکنالوجی سے جڑے جرائم کی روک تھام ہے۔
انہوں نے ہدایت کی کہ یہ یونٹ جدید ڈیجیٹل فرانزک لیبارٹری، ڈیٹا اینالیٹکس سسٹم اور ماہر آئی ٹی افسران سے لیس ہو تاکہ جرائم کی فوری نشاندہی اور تفتیش ممکن ہو سکے۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ پنجاب میں سائبر کرائم کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی اپنائی جائے گی۔
خواتین کے لیے خصوصی پروٹیکشن سیل
سائبر کرائم سے متاثرہ خواتین کے تحفظ کے لیے خصوصی پروٹیکشن سیل کے قیام کی بھی منظوری دی گئی۔ اس سیل میں خواتین افسران اور ماہرین کو تعینات کیا جائے گا تاکہ ہراسگی، بلیک میلنگ، شناخت کی چوری اور آن لائن تشدد جیسے واقعات سے متاثرہ خواتین کو فوری قانونی اور نفسیاتی معاونت فراہم کی جا سکے۔
ضلعی سطح پر سائبر کرائم مراکز
وزیراعلیٰ نے پنجاب بھر میں ضلعی سطح کے سائبر کرائم مراکز قائم کرنے کی منظوری دیتے ہوئے کہا کہ جرائم پیشہ گروہوں کے لیے صوبے میں کوئی "محفوظ راستہ” باقی نہیں رہنے دیا جائے گا۔ انہوں نے ہدایت کی کہ ہر ضلع میں تربیت یافتہ عملہ اور جدید مانیٹرنگ سسٹم فراہم کیا جائے تاکہ مقامی سطح پر فوری کارروائی ممکن ہو۔
تمام گاڑیوں کے لیے ای ٹیگنگ لازمی
اجلاس کے دوران ایک اہم فیصلہ کرتے ہوئے وزیراعلیٰ مریم نواز نے موٹر سائیکلوں سمیت صوبے میں رجسٹرڈ تمام گاڑیوں کے لیے ای ٹیگنگ لازمی قرار دے دی۔ حکام کے مطابق اس اقدام کا مقصد گاڑیوں کی نقل و حرکت کی مؤثر نگرانی، چوری شدہ گاڑیوں کی فوری نشاندہی، اور جرائم میں استعمال ہونے والی گاڑیوں کا سراغ لگانا ہے۔
ای ٹیگنگ سسٹم کے ذریعے مرکزی کنٹرول روم سے گاڑیوں کی آمد و رفت کی نگرانی ممکن ہوگی، جبکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ریئل ٹائم ڈیٹا بھی دستیاب ہوگا۔
"مائیکرو سیکیورٹی آئرن شیلڈ” کا قیام
وزیراعلیٰ نے سات روز کے اندر "مائیکرو سیکیورٹی آئرن شیلڈ” کے قیام کی ہدایت بھی جاری کی، جس کے تحت حساس مقامات، داخلی و خارجی راستوں اور غیر روایتی انٹری پوائنٹس پر سخت نگرانی کو یقینی بنایا جائے گا۔
انہوں نے غیر روایتی راستوں کے ذریعے نقل و حرکت روکنے، داخلی پوائنٹس پر سرچ لائٹس نصب کرنے اور ڈرون نگرانی کو فعال بنانے کی بھی ہدایت دی۔ مزید برآں، چیک پوسٹوں پر چھتوں کی نگرانی کے خصوصی نظام کی تنصیب اور جدید ڈرون دفاعی نظام کی خریداری کا حکم دیا گیا۔
ڈرون کے غیر مجاز استعمال پر پابندی
اجلاس میں ڈرون کے غیر مجاز استعمال کو ریگولیٹ کرنے اور اس پر سخت پابندی عائد کرنے پر بھی زور دیا گیا۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ جدید ٹیکنالوجی کا استعمال صرف ریاستی اور قانونی مقاصد کے لیے ہونا چاہیے، اور کسی بھی غیر قانونی سرگرمی کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔
کومبنگ آپریشن اور پولیس کی جدید تربیت
وزیراعلیٰ پنجاب نے دہشت گردوں اور جرائم پیشہ عناصر کی نشاندہی کے لیے کومبنگ آپریشن جاری رکھنے کی ہدایت دیتے ہوئے رائٹ مینجمنٹ پولیس کو جدید آلات سے لیس کرنے اور اہلکاروں کی تربیت کو مزید بہتر بنانے پر بھی زور دیا۔
انہوں نے کہا:
"ہمیں دہشت گردی کے خاتمے کے لیے متحد اور متحرک رہنا چاہیے۔ ہم خوش فہمی کے متحمل نہیں ہو سکتے کیونکہ سب کو چوکنا رہنا چاہیے۔”
انہوں نے مزید کہا:
"جنگ کی نوعیت بدل گئی ہے، اور ہمیں اس کے مطابق خود کو ڈھالنا اور تیاری کرنی چاہیے۔”
اجلاس کے اختتام پر متعلقہ محکموں کو فوری عملدرآمد کی ہدایت جاری کی گئی اور واضح کیا گیا کہ عوام کے جان و مال کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام بروئے کار لایا جائے گا۔ صوبائی حکومت کے ان فیصلوں کو پنجاب میں جدید اور مربوط سیکیورٹی نظام کی جانب ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔



