
کویت میں دوستانہ فائرنگ کا واقعہ: فضائی دفاع نے غلطی سے تین امریکی F-15 طیارے مار گرائے، سینٹ کام کی تصدیق
کویت نے واقعے کا اعتراف کرتے ہوئے کہا ہے کہ تحقیقات جاری ہیں تاکہ معلوم کیا جا سکے کہ شناختی نظام میں یہ سنگین غلطی کیسے ہوئی۔
کویت سٹی:
مشرقِ وسطیٰ میں ایران، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان جاری کشیدگی کے دوران ایک غیر معمولی اور سنگین واقعہ پیش آیا ہے، جس میں کویت کے فضائی دفاعی نظام نے فعال لڑائی کے دوران غلطی سے تین امریکی F-15 لڑاکا طیاروں کو مار گرایا۔ امریکی سینٹرل کمانڈ United States Central Command (سینٹ کام) نے اس واقعے کو "واضح دوستانہ فائرنگ” (friendly fire) قرار دیتے ہوئے تصدیق کی ہے کہ یہ واقعہ ایران کے ساتھ جاری تنازع کے دوران پیش آیا۔
عملے کے ارکان بحفاظت نکال لیے گئے
سینٹ کام کے مطابق، تینوں طیاروں میں سوار عملے کے کل چھ ارکان کو بروقت ایجیکٹ کر کے بحفاظت نکال لیا گیا۔ تمام اہلکار مستحکم حالت میں ہیں اور انہیں طبی امداد فراہم کی گئی ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب خطے میں شدید فضائی جھڑپیں جاری تھیں، جن میں ایرانی طیاروں، بیلسٹک میزائلوں اور ڈرون حملوں کی اطلاعات شامل تھیں۔ اسی افراتفری کے دوران کویتی فضائی دفاعی نظام نے امریکی لڑاکا طیاروں کو دشمن سمجھ کر نشانہ بنایا۔
کویت نے واقعے کا اعتراف کرتے ہوئے کہا ہے کہ تحقیقات جاری ہیں تاکہ معلوم کیا جا سکے کہ شناختی نظام میں یہ سنگین غلطی کیسے ہوئی۔
ویڈیو شواہد اور مقام کی تصدیق
بین الاقوامی خبر رساں ادارے Reuters نے آن لائن گردش کرنے والی ویڈیو کی تصدیق کی ہے، جس میں ایک امریکی جنگی طیارہ پیر کی صبح کویت کے الجہرہ علاقے کے اوپر آسمان سے گرتا ہوا دکھائی دیتا ہے، جبکہ ایک پائلٹ کو پیراشوٹ کے ذریعے نیچے اترتے دیکھا جا سکتا ہے۔
مقام کی جغرافیائی تصدیق کے بعد واضح ہوا کہ یہ فوٹیج کویت کے الجہرہ ضلع میں فلمائی گئی تھی۔
ایرانی دعویٰ اور علاقائی تناظر
ایران کے سرکاری میڈیا نے قبل ازیں پاسدارانِ انقلاب کا حوالہ دیتے ہوئے دعویٰ کیا تھا کہ ایرانی مسلح افواج نے کویت میں گر کر تباہ ہونے والے امریکی طیارے کو نشانہ بنایا۔ تاہم سینٹ کام نے واضح کیا ہے کہ یہ واقعہ کویتی فضائی دفاع کی جانب سے غلط شناخت کے نتیجے میں پیش آیا۔
یہ واقعہ ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب ہفتے کے روز امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملوں کے بعد تہران نے خطے میں موجود امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنانے کی دھمکی دی تھی۔ ایران کی جانب سے خلیجی ریاستوں میں متعدد ڈرون اور میزائل حملے کیے گئے، جس سے خطے کے شہری اور تجارتی مراکز بھی خطرے میں آ گئے۔
سفارت خانے کے قریب دھواں، سکیورٹی الرٹ جاری
ایک الگ واقعے میں کویت سٹی میں امریکی سفارت خانے کے احاطے سے دھواں اٹھتا ہوا دیکھا گیا۔ عینی شاہدین کے مطابق فائر ٹرک اور ایمبولینسیں موقع پر موجود تھیں۔ تاہم کویت میں امریکی سفارت خانے یا امریکی محکمہ خارجہ کی جانب سے اس واقعے پر فوری طور پر کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا گیا۔
کویت میں امریکی سفارت خانے نے امریکی شہریوں کو ہدایت جاری کی ہے کہ ملک میں میزائل اور ڈرون حملوں کا خطرہ برقرار ہے۔ شہریوں کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ سفارت خانے کا رخ نہ کریں، گھروں کی نچلی منزل پر کھڑکیوں سے دور رہیں اور غیر ضروری نقل و حرکت سے گریز کریں۔
مینا الاحمدی ریفائنری میں ملبہ گرنے سے زخمی
کویت کی نیشنل پیٹرولیم کمپنی کے مطابق گرنے والے ملبے کا کچھ حصہ مینا الاحمدی ریفائنری کے قریب گرا، جس سے دو کارکن معمولی زخمی ہوئے۔ دونوں کو ابتدائی طبی امداد دی گئی اور ان کی حالت خطرے سے باہر بتائی جا رہی ہے۔
مزید ڈرون حملے اور دفاعی کارروائیاں
سرکاری خبر رساں ایجنسی کے مطابق کویت کے فضائی دفاعی نظام نے رومیتھیا اور سلوا کے علاقوں کے قریب متعدد ڈرونز کو روک لیا۔ سول ڈیفنس حکام کے مطابق ان کارروائیوں کے دوران کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔
عینی شاہدین کے مطابق پیر کی صبح کویت، دبئی اور قطر کے دارالحکومت دوحہ میں زور دار دھماکوں اور سائرن کی آوازیں سنی گئیں، جس سے پورے خلیجی خطے میں خوف و ہراس پھیل گیا۔
خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی
ہفتے کے روز امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملوں کے بعد صورتحال تیزی سے بگڑتی جا رہی ہے۔ ایران نے واضح کیا ہے کہ وہ خطے میں امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنائے گا، اور حالیہ حملوں نے علاقائی ہوا بازی، توانائی کے بنیادی ڈھانچے اور تجارتی راستوں کو بھی متاثر کیا ہے۔
کویت میں پیش آنے والا دوستانہ فائرنگ کا واقعہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ شدید جنگی حالات میں غلط شناخت اور مواصلاتی خلل کس قدر سنگین نتائج پیدا کر سکتے ہیں۔
نتیجہ
کویت میں تین امریکی F-15 طیاروں کی غلطی سے تباہی خطے میں جاری بحران کی پیچیدگی کو مزید اجاگر کرتی ہے۔ اگرچہ عملے کے ارکان بحفاظت بچا لیے گئے، تاہم یہ واقعہ اتحادی افواج کے درمیان ہم آہنگی اور شناختی نظام کی خامیوں پر سوالات اٹھا رہا ہے۔
خطے میں جاری کشیدگی، ایرانی جوابی کارروائیاں، اور خلیجی ریاستوں میں دفاعی سرگرمیوں میں اضافہ اس بات کا اشارہ ہیں کہ مشرقِ وسطیٰ ایک وسیع تر تصادم کے دہانے پر کھڑا ہے، جس کے اثرات عالمی سلامتی اور معیشت تک پھیل سکتے ہیں۔



