
خطرات سے جنگ تک — ایک جامع ٹائم لائن اور تجزیہ (2025–2026)……سید عاطف ندیم-پاکستان
13 جون 2025 کو اسرائیل نے ایران کی جوہری اور فوجی تنصیبات کے خلاف بڑے پیمانے پر فضائی حملے شروع کیے۔
مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر آگ کی لپیٹ میں ہے۔ 28 فروری 2026 کی رات جب امریکہ اور اسرائیل نے ایران کے خلاف مربوط فضائی حملوں کا آغاز کیا تو یہ صرف ایک عسکری کارروائی نہیں تھی بلکہ کئی برسوں سے جمع ہوتے جغرافیائی، نظریاتی اور اسٹریٹجک تنازعات کا دھماکہ تھا۔ چند گھنٹوں میں تہران، نتنز، فردو اور اصفہان کے نام عالمی سرخیوں میں آگئے، خلیجی ریاستوں میں سائرن بجنے لگے، عالمی منڈیوں میں تیل کی قیمتیں اچھل گئیں اور سفارتی محاذ پر ہلچل مچ گئی۔
یہ جنگ اچانک نہیں ہوئی۔ اس کی جڑیں کم از کم 2025 کی اُس 12 روزہ جنگ میں پیوست ہیں جس میں اسرائیل اور ایران آمنے سامنے آئے تھے، اور اُس کے بعد امریکہ اور ایران کے درمیان ہونے والے جوہری مذاکرات میں جو ناکامی پر منتج ہوئے۔ اس مضمون میں ہم تفصیل سے دیکھیں گے کہ کس طرح خطرات بڑھتے بڑھتے کھلی جنگ تک پہنچے۔
13 جون 2025 کو اسرائیل نے ایران کی جوہری اور فوجی تنصیبات کے خلاف بڑے پیمانے پر فضائی حملے شروع کیے۔ اس وقت ایران اور امریکہ کے درمیان جوہری مذاکرات جاری تھے۔ اسرائیل کا مؤقف تھا کہ ایران خفیہ طور پر جوہری ہتھیار بنانے کے قریب پہنچ چکا ہے اور اسے روکنا ضروری ہے۔
تل ابیب نے دعویٰ کیا کہ ان حملوں کا مقصد ایران کی جوہری تنصیبات، میزائل پروگرام اور پاسدارانِ انقلاب کے عسکری ڈھانچے کو کمزور کرنا ہے۔ ایران نے ان الزامات کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ اس کا جوہری پروگرام پرامن مقاصد کے لیے ہے اور وہ بین الاقوامی قوانین کے تحت افزودگی کا حق رکھتا ہے۔
چند ہی گھنٹوں بعد ایران نے اسرائیل کے مختلف شہروں پر بیلسٹک میزائلوں اور ڈرونز کے ذریعے حملے کیے۔ تل ابیب، حیفا اور دیگر شہروں میں سائرن گونج اٹھے۔ اسرائیلی فضائی دفاعی نظام نے متعدد میزائلوں کو روکنے کا دعویٰ کیا، تاہم کئی حملوں نے شہری انفراسٹرکچر کو نقصان پہنچایا۔
کچھ دنوں بعد واشنگٹن نے بھی جنگ میں حصہ لیا۔ اس وقت کے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا کہ امریکہ نے نتنز، فردو اور اصفہان میں ایرانی جوہری تنصیبات کو نشانہ بنایا ہے۔
ٹرمپ نے کہا کہ ایران کا جوہری پروگرام "شدید نقصان” سے دوچار ہوا ہے، تاہم تہران نے اس دعوے کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ تنصیبات محفوظ ہیں اور نقصان محدود ہے۔
چند ہفتوں کی کشیدگی کے بعد امریکہ کی ثالثی میں جنگ بندی ہوئی، مگر اعتماد ٹوٹ چکا تھا۔ واشنگٹن اور تہران کے درمیان جاری جوہری مذاکرات عملاً ختم ہوگئے۔
مغربی ممالک ایران پر جوہری ہتھیار حاصل کرنے کا الزام لگاتے رہے، جبکہ ایران پابندیوں کے خاتمے کے لیے سفارتی راستہ تلاش کرتا رہا۔
2025 کے اواخر میں ایران شدید معاشی بحران کا شکار ہوگیا۔ مہنگائی میں بے قابو اضافہ، جنگی اخراجات اور پابندیوں کے دباؤ نے عوام کو سڑکوں پر لا کھڑا کیا۔
ہزاروں افراد احتجاج میں مارے گئے یا گرفتار ہوئے۔ کئی دنوں تک مواصلاتی بلیک آؤٹ رہا۔ پروازیں منسوخ ہوئیں اور ملک میں غیر یقینی کیفیت چھا گئی۔
ایران کے سپریم لیڈر علی خامنئی نے ان مظاہروں کا الزام امریکہ پر عائد کیا، جبکہ ٹرمپ نے ایرانی عوام کو احتجاج جاری رکھنے کی ترغیب دی اور کہا کہ "مدد جاری ہے”۔
فروری 2026 میں ایران اور امریکہ کے درمیان عمان کی ثالثی اور جنیوا کی میزبانی میں مذاکرات کے تین دور ہوئے۔ ان مذاکرات کے ساتھ ہی امریکہ نے خطے میں اپنی فوجی موجودگی بڑھا دی۔
واشنگٹن کا مطالبہ تھا کہ ایران نہ صرف اپنے جوہری پروگرام کو محدود کرے بلکہ میزائل پروگرام اور خطے میں مسلح گروہوں کی حمایت بھی کم کرے۔ ایران نے اسے "ضرورت سے زیادہ مطالبات” قرار دیا۔
19 فروری کو صدر ٹرمپ نے ایران کو 15 دن کی مہلت دی کہ وہ معاہدہ کرے یا نتائج کے لیے تیار رہے۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے جواب دیا کہ ایران دباؤ میں نہیں آئے گا اور افزودگی اس کا قانونی حق ہے۔
27 فروری کو عمان نے کہا کہ ایران نے کبھی بھی افزودہ یورینیم ذخیرہ کرنے پر اتفاق نہیں کیا۔ سفارتی سطح پر الجھن اور بداعتمادی مزید بڑھ گئی۔
ایک دن بعد، 28 فروری کو، اسرائیل اور امریکہ نے ایران پر بڑے پیمانے پر مربوط حملے شروع کر دیے۔ تہران کے کئی علاقوں میں دھماکے ہوئے، دھواں اٹھتا دیکھا گیا، اور سرکاری میڈیا نے متعدد تنصیبات کو نشانہ بنائے جانے کی تصدیق کی۔
جنوبی ایران کے شہر مناب میں ایک پرائمری اسکول پر حملہ ہوا جس میں بڑی تعداد میں شہری ہلاک اور زخمی ہوئے۔ اس واقعے نے عالمی سطح پر غم و غصہ پیدا کیا۔
ایران نے اعلان کیا کہ وہ امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنائے گا۔ قطر، کویت، بحرین، متحدہ عرب امارات اور عراق میں امریکی تنصیبات کو میزائل حملوں کا سامنا کرنا پڑا۔
خلیجی ریاستوں نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے بیشتر میزائل روک لیے، مگر خطے میں خوف کی فضا چھا گئی۔ دبئی اور دوحہ میں دھماکوں کی آوازیں سنائی دیں۔
کویت اور بحرین میں سائرن بجنے لگے۔ قطر نے اپنے فضائی دفاعی نظام کو ہائی الرٹ پر رکھا۔ تیل کی تنصیبات اور بندرگاہوں کی سکیورٹی بڑھا دی گئی۔
عالمی منڈیوں میں تیل کی قیمتوں میں فوری اضافہ ہوا۔ سرمایہ کاروں نے محفوظ اثاثوں کی طرف رخ کیا۔ عالمی اسٹاک مارکیٹس میں شدید اتار چڑھاؤ دیکھا گیا۔
اسی دوران ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کے انتقال کی خبر سامنے آئی۔ اگرچہ سرکاری سطح پر ابتدائی طور پر خاموشی رہی، لیکن قیادت کی منتقلی کے حوالے سے غیر یقینی صورتحال نے بحران کو مزید پیچیدہ بنا دیا۔
ایرانی اسٹیبلشمنٹ کے اندر طاقت کے مراکز کے درمیان توازن اور جانشینی کا سوال عالمی تجزیہ کاروں کی توجہ کا مرکز بن گیا۔
یورپی یونین نے فوری جنگ بندی کا مطالبہ کیا۔ روس اور چین نے امریکہ اور اسرائیل کے حملوں کی مذمت کی، جبکہ امریکہ نے کہا کہ یہ "پیشگی دفاع” تھا۔
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں ہنگامی اجلاس بلایا گیا، مگر مستقل اراکین کے اختلافات کے باعث کوئی متفقہ قرارداد منظور نہ ہو سکی۔
خلیج میں کشیدگی کے باعث سپلائی خدشات بڑھے۔آبنائے ہرمز کی بندش کے خدشات۔متعدد ایئرلائنز نے پروازیں معطل کیں۔ سرمایہ کاروں کا اعتماد متزلزل۔ صرف جوہری اور فوجی اہداف تک محدود۔لبنان، شام اور عراق کے محاذ کھل سکتے ہیں۔ بڑے پیمانے کی جنگ۔ بین الاقوامی دباؤ کے تحت جنگ بندی۔
نتیجہ
فروری–مارچ 2026 کا ویک اینڈ مشرقِ وسطیٰ کی تاریخ کا ایک اہم موڑ ثابت ہوا۔ 2025 کی 12 روزہ جنگ سے لے کر ناکام مذاکرات، معاشی بحران، سیاسی دھمکیوں اور بالآخر مربوط فضائی حملوں تک، ہر قدم نے اس بحران کو مزید گہرا کیا۔
یہ تنازعہ صرف ایران، اسرائیل اور امریکہ تک محدود نہیں رہا بلکہ پورا خطہ اس کی لپیٹ میں آگیا۔ عالمی منڈیاں، سفارتی اتحاد اور علاقائی طاقت کا توازن سب متاثر ہوئے ہیں۔
اب سوال یہ ہے کہ کیا یہ جنگ محدود رہے گی یا ایک وسیع تر عالمی تصادم میں بدل جائے گی۔ آنے والے دن اس بحران کی سمت کا تعین کریں گے، مگر ایک بات واضح ہے: خطرات آہستہ آہستہ نہیں بلکہ تیزی سے بڑھتے ہیں، اور جب سفارت کاری ناکام ہو جائے تو جنگ کا دروازہ کھل جاتا ہے۔



