پاکستاناہم خبریں

پاکستان اور افغانستان کے درمیان سرحدی جھڑپیں شدت اختیار کر گئیں، کابل اور جلال آباد میں دھماکوں کی آوازیں

سرحدی علاقوں میں شروع ہونے والی لڑائی کے اثرات افغانستان کے مختلف صوبوں تک پھیل گئے ہیں، جبکہ شہری آبادی خوف و ہراس کا شکار ہے۔

سید عاطف ندیم-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز, اے ایف پی کے ساتھ

پاکستان اور افغانستان کی افواج کے درمیان سرحدی علاقوں میں منگل کے روز مزید جھڑپوں کی اطلاعات سامنے آئی ہیں، جبکہ غیر ملکی خبر رساں ادارے اے ایف پی نے کابل میں موجود اپنے نمائندوں کے حوالے سے بتایا ہے کہ دارالحکومت میں متعدد دھماکوں اور فائرنگ کی آوازیں سنی گئیں۔

رپورٹس کے مطابق کابل میں دھماکوں کے ساتھ ساتھ طیارہ شکن ہتھیاروں کے استعمال اور شدید فائرنگ کی آوازیں بھی سنائی دیتی رہیں۔ افغانستان کی وزارت دفاع کا کہنا ہے کہ پاکستانی فوج کے خلاف لڑائی تاحال جاری ہے اور سرحدی علاقوں میں کشیدگی برقرار ہے۔

جلال آباد اور طورخم کے اطراف صورتحال کشیدہ

کابل اور سرحد کے درمیان واقع شہر جلال آباد میں موجود اے ایف پی سے وابستہ صحافیوں نے بھی دھماکوں اور مختلف نوعیت کے ہتھیاروں کی فائرنگ کی اطلاع دی ہے۔ جلال آباد سے تقریباً 50 کلومیٹر دور واقع سرحدی گزرگاہ طورخم کے مکینوں نے خبر رساں ادارے کو بتایا کہ کئی روز سے وقفے وقفے سے جھڑپیں جاری ہیں، جس کے باعث معمولات زندگی شدید متاثر ہوئے ہیں۔

سرحدی علاقوں میں شروع ہونے والی لڑائی کے اثرات افغانستان کے مختلف صوبوں تک پھیل گئے ہیں، جبکہ شہری آبادی خوف و ہراس کا شکار ہے۔

کشیدگی کا آغاز اور متضاد دعوے

دونوں ممالک کے درمیان حالیہ کشیدگی کا آغاز جمعرات کے روز اس وقت ہوا جب افغانستان نے پاکستان کی جانب سے کیے گئے فضائی حملوں کے جواب میں سرحدی علاقوں میں کارروائی شروع کی۔ اسلام آباد کا مؤقف ہے کہ فروری میں کیے گئے فضائی حملوں میں دہشت گردوں کو نشانہ بنایا گیا تھا۔

دوسری جانب افغان حکومت کے نائب ترجمان حمداللہ فطرت نے دعویٰ کیا ہے کہ تازہ ترین ہلاکتوں میں تین بچے بھی شامل ہیں جو پیر کے روز ’پاکستانی فوج کی کارروائی‘ کا نشانہ بنے۔ افغان حکام کے مطابق جمعرات سے اب تک کم از کم 39 شہری ہلاک ہو چکے ہیں۔ تاہم ان اعداد و شمار پر پاکستان کی جانب سے تاحال کوئی باضابطہ تبصرہ سامنے نہیں آیا۔

باہمی الزامات اور سفارتی تناؤ

اسلام آباد کی جانب سے مسلسل یہ مؤقف اختیار کیا جاتا رہا ہے کہ افغانستان کی سرزمین پاکستان میں حملے کرنے والے عسکریت پسندوں کے لیے استعمال ہو رہی ہے اور کابل حکومت ان کے خلاف مؤثر کارروائی کرنے میں ناکام ہے۔ تاہم افغانستان میں قائم طالبان حکومت ان الزامات کی تردید کرتی آئی ہے۔

حالیہ جھڑپوں کے بعد دونوں ممالک کے درمیان سفارتی تناؤ میں مزید اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ اکتوبر میں بھی سرحدی علاقوں میں جھڑپوں کے واقعات پیش آئے تھے، جس کے بعد سے زمینی راستے بڑی حد تک بند رہے اور سرحدی تجارت اور آمد و رفت متاثر ہوئی۔

انسانی اور معاشی اثرات

مسلسل جھڑپوں کے باعث سرحدی علاقوں میں رہنے والے شہری شدید مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔ تعلیمی ادارے، بازار اور کاروباری مراکز متاثر ہو رہے ہیں جبکہ متعدد خاندان محفوظ علاقوں کی جانب نقل مکانی پر مجبور ہو چکے ہیں۔

ماہرین کے مطابق اگر کشیدگی میں کمی نہ آئی تو اس کے اثرات نہ صرف سرحدی علاقوں بلکہ دونوں ممالک کے مجموعی معاشی اور علاقائی استحکام پر بھی پڑ سکتے ہیں۔ علاقائی امن و سلامتی کے لیے سفارتی سطح پر فوری اقدامات کی ضرورت پر زور دیا جا رہا ہے۔

تاحال دونوں ممالک کی جانب سے کسی بڑے پیمانے کی باضابطہ جنگ کا اعلان نہیں کیا گیا، تاہم سرحدی صورتحال بدستور کشیدہ ہے اور خطے کی نظریں آئندہ پیش رفت پر مرکوز ہیں۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button