یورپتازہ ترین

روسی ڈرونز میں جرمن پرزوں کی موجودگی: پابندیوں کے باوجود سپلائی چین پر سوالات

ویب سائٹ کے مطابق اب تک روسی ہتھیاروں میں “میڈ اِن جرمنی” کے زمرے میں 137 پرزے درج کیے گئے ہیں،

رپورٹ وائس آف جرمنی اردو نیوز

یوکرینی شہروں پر حملوں میں استعمال ہونے والے روسی ڈرونز میں جرمن ساختہ الیکٹرانک پرزوں کی موجودگی کا انکشاف سامنے آیا ہے، جس کے بعد یورپی برآمدی کنٹرول اور پابندیوں کے نظام پر نئے سوالات اٹھنے لگے ہیں۔ جرمن میڈیا کی حالیہ رپورٹس میں خاص طور پر “جیران-5” حملہ آور ڈرون کا ذکر کیا گیا ہے، جو دراصل ایرانی ساختہ Shahed-136 ڈرون کا روسی ورژن سمجھا جاتا ہے۔

جرمن میڈیا کی تحقیقات

جرمن ٹی وی چینل n-tv اور دیگر میڈیا اداروں نے رپورٹ کیا کہ “جیران-5” ڈرون میں جرمن کمپنی Infineon Technologies کے تیار کردہ ٹرانزسٹرز پائے گئے۔ یہ معلومات یوکرین کی فوجی انٹیلی جنس کی ویب سائٹ “وار اینڈ سینکشنز” پر شائع کی گئیں، جسے Defence Intelligence of Ukraine (ایچ یو آر) چلاتی ہے۔

اس پورٹل پر روسی فوجی سازوسامان میں دریافت ہونے والے غیر ملکی پرزوں کی تفصیلی فہرست موجود ہے۔ ویب سائٹ کے مطابق اب تک روسی ہتھیاروں میں “میڈ اِن جرمنی” کے زمرے میں 137 پرزے درج کیے گئے ہیں، جن میں سے نصف سے زائد ڈرونز میں دریافت ہوئے، جبکہ باقی راکٹوں، ریڈار آلات، فوجی گاڑیوں اور ہیلی کاپٹروں میں استعمال ہو رہے تھے۔

غیر ملکی پرزوں کا بدلتا تناسب

ایچ یو آر کے ایک نمائندے نے بتایا کہ 2023 میں بعض Shahed-136 ڈرونز میں امریکی پرزوں کا تناسب 80 فیصد تک تھا، تاہم اب تقریباً 60 فیصد پرزے چین سے آ رہے ہیں۔ اس کے باوجود، روسی صنعت کار مبینہ طور پر جرمن معیار کے اجزاء کو چینی متبادل سے مکمل طور پر تبدیل کرنے میں ہچکچاہٹ کا مظاہرہ کر رہے ہیں، کیونکہ چینی پرزوں کو نسبتاً کم معیار کا سمجھا جاتا ہے۔

سپلائی چین کو چھپانے کے الزامات

ایچ یو آر کے مطابق، ماسکو مبینہ طور پر جرمنی میں قائم فرضی کمپنیوں کے ذریعے براہِ راست جرمن ساختہ ٹرانزسٹرز آرڈر کرتا ہے، تاکہ اصل سپلائی چین کو مخفی رکھا جا سکے۔ بعد ازاں یہ پرزے یا تو روس اسمگل کیے جاتے ہیں یا تیسرے ممالک کے ذریعے منتقل کیے جاتے ہیں۔

جرمن پابندیوں کے امور کے ماہر وکٹر ونکلر کے مطابق 2022 کے بعد ترکی، متحدہ عرب امارات، چین یا وسطی ایشیائی ریاستوں کے ذریعے بالواسطہ ترسیل میں کمی آئی ہے۔ ان کے بقول اب ممکنہ طور پر براہِ راست غیر قانونی روابط کے ذریعے سامان روس پہنچایا جا رہا ہے، جس میں جرمنی میں قائم بعض مجرمانہ عناصر یا فرضی کمپنیاں ملوث ہو سکتی ہیں۔

کمپنیوں کا ردعمل

Infineon Technologies نے اپنے بیان میں کہا کہ اس نے 2022 میں روس کو تمام ترسیل روک دی تھی۔ تاہم کمپنی نے اعتراف کیا کہ مصنوعات کی پوری مدتِ استعمال کے دوران ان کی دوبارہ فروخت کو کنٹرول کرنا مشکل ہوتا ہے، خصوصاً جب کمپنی سالانہ تقریباً 30 ارب چپس تیار کرتی ہو۔

کمپنی کے مطابق اگر انہیں قابلِ اعتماد شواہد ملتے ہیں کہ کوئی کاروباری شراکت دار روس سے تجارت کر رہا ہے تو وہ فوری طور پر سپلائی روک دیتے ہیں اور وضاحت طلب کرتے ہیں۔

دوسری جانب ٹیکنالوجی گروپ Robert Bosch GmbH نے کہا کہ اس کے روس کے ساتھ کوئی فعال کاروباری تعلقات نہیں ہیں اور دنیا بھر میں اس کے ملازمین کو روس یا بیلاروس کے ساتھ تجارت سے روک دیا گیا ہے۔

بوش نے واضح کیا کہ جیران-3 ڈرون میں جس فیول پمپ کا ذکر کیا گیا وہ اس کی تیار کردہ مصنوعات میں شامل نہیں اور ممکن ہے وہ جعلی ہو۔ تاہم Shahed-136 ڈرون میں استعمال ہونے والے پُش بٹن سوئچ کے بارے میں کمپنی نے تصدیق کی کہ وہ اس کی عام تجارتی مصنوعات میں سے ہو سکتے ہیں، جیسے ایمرجنسی اسٹاپ سوئچز، جو بڑی مقدار میں عالمی منڈی میں فروخت کیے جاتے ہیں۔

کمپنی نے یہ بھی تسلیم کیا کہ ڈسٹری بیوٹرز کے ذریعے چھوٹے آرڈرز دینا ممکن ہوتا ہے اور ان کے حتمی استعمال کا مکمل سراغ لگانا مشکل ہے۔

سویلین مصنوعات کا ممکنہ استعمال

ماہرین کا کہنا ہے کہ خالصتاً سویلین مصنوعات، جیسے واشنگ مشینیں، فریج یا کاریں بھی درآمد کی جا سکتی ہیں اور بعد ازاں ان کے الیکٹرانک پرزے نکال کر فوجی سازوسامان میں نصب کیے جا سکتے ہیں۔ اس عمل سے برآمدی پابندیوں کی نگرانی مزید پیچیدہ ہو جاتی ہے۔

وسیع تر اثرات

یہ انکشافات ایسے وقت سامنے آئے ہیں جب یورپی یونین اور اس کے اتحادی روس پر عائد پابندیوں کو مزید سخت کرنے پر غور کر رہے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا موجودہ برآمدی کنٹرول سسٹم جدید اور پیچیدہ عالمی سپلائی چین کے تناظر میں مؤثر ثابت ہو سکتا ہے، یا اس کے لیے نگرانی اور شفافیت کے مزید سخت اقدامات درکار ہوں گے؟

فی الحال جرمن حکام اور متعلقہ کمپنیاں کسی بھی براہِ راست ملوث ہونے کی تردید کر رہی ہیں، تاہم یہ معاملہ عالمی تجارتی نظام، پابندیوں کے نفاذ اور جنگی ٹیکنالوجی کی سپلائی چین کے حوالے سے ایک اہم بحث کو جنم دے رہا ہے۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button