صحتتازہ ترین

برطانیہ: مردانہ کمزوری کے نام پر ہارمونز تھیراپی کا کاروبار

یہ رجحان اب برطانیہ میں ریاستی  نیشنل ہیلتھ سروس (این ایچ ایس) پر بھی اثر ڈال رہا ہے، کیونکہ بہت سے لوگ مفت علاج کے لیے وہاں رجوع کر رہے ہیں۔

اے ایف پی

سوشل میڈیا پر پروموشنل اشتہارات ٹیسٹوسٹیرون تھیراپی کے غیر ضروری مہنگے علاج کی جانب مردوں کو کیسے راغب کر رہے ہیں؟ ماہرین کے مطابق غیر ضروری تھیراپی فائدے کے بجائے نقصان کا سبب بن سکتی ہے۔

ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ مردوں کے ہارمونز کی سطح ان کے روزہ مرہ زندگی کے طرز عمل کی وجہ سے عارضی طور پر کم یا زیادہ ہو سکتی ہے، مگر بہت سے مردوں کو کسی حقیقی طبی ضرورت کے بغیر ہی ٹی آر ٹی تجویز کی جا رہی ہے۔ یہ رجحان اب برطانیہ میں ریاستی  نیشنل ہیلتھ سروس (این ایچ ایس) پر بھی اثر ڈال رہا ہے، کیونکہ بہت سے لوگ مفت علاج کے لیے وہاں رجوع کر رہے ہیں۔

برطانیہ میں کچھ کلینکس ہارمون کی نارمل سطح والے مردوں کو بھی ٹی آر ٹی مہیا کر رہے ہیں
برطانیہ میں کچھ کلینکس ہارمون کی نارمل سطح والے مردوں کو بھی ٹی آر ٹی مہیا کر رہے ہیںتصویر: Reuters/S. Swaty

ہارمونل تھیراپی کے ماہر چنا جےسینا نے کہا کہ وہ مردوں کی ایک بڑھتی ہوئی تعداد کو این ایچ ایس کے ماہرین سے رجوع کرتے دیکھ کر پریشان ہیں، کیونکہ اس سے دیگر مریضوں کا علاج متاثر ہو رہا ہے۔ ان کے بقول ٹی آر ٹی واقعی صرف ان مردوں کے لیے ضروری ہے، جو ہائپوگونادیزم کا شکار ہوں، یا وہ مرد جو بلوغت تک نہیں پہنچے یا رہے یا ٹیسٹیکل کینسر کا شکار ہوئے ہوں۔

لیکن کچھ کلینکس ہارمون کی نارمل سطح والے مردوں کو بھی ٹی آر ٹی مہیا کر رہے ہیں، جس سے بانجھ پن، خون گاڑھا ہونا اور دل کی بیماریوں کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔ جےسینا کے مطابق برطانیہ میں ”سینکڑوں ہزاروں‘‘ مردوں نے پرائیویٹ طور پر مہنگی ٹی آر ٹی تھیراپیز کروائیں اور زیادہ تر کو واقعی اس کی ضرورت نہیں تھی۔

آسٹریلیا میں مقیم اسی شعبے کی ایک ماہر ایسوبیلے اسمتھ نے انسٹاگرام ویڈیوز کے ذریعے ٹی آر ٹی سے متعلق دعووں کی تردید کی اور کہا کہ اشتہارات میں بتایا جاتا ہے کہ 40 سال سے کم عمر کے چار میں سے ایک مرد میں ٹیسٹوسٹیرون کی کمی ہے، جو بالکل درست نہیں۔ اسمتھ کے مطابق یہ ”درحقیقت پرفارمنس بڑھانے والی دوا‘‘ ہے۔

یہ رجحان”مینوسفیئر‘‘ کلچر سے بھی جڑا ہوا ہے، جو طویل زندگی میں پٹھوں کی نمائش اور عمر میں پر توجہ دیتا ہے۔ مشہور مگر متنازعہ سوشل میڈیا انفلوئنسر اینڈریو ٹیٹ نے اپنے ”ہائی ٹی‘‘ کے بارے میں دعویٰ  کرتے ہوئے ”کم ٹی‘‘ والے مردوں کو تنقید کا نشانہ بنایا۔

مردوں میں ٹیسٹوسٹیرون بڑھانے کے لیے استعمال ہونے والا ایک انجیکشن
مردوں میں ٹیسٹوسٹیرون بڑھانے کے لیے استعمال ہونے والا ایک انجیکشنتصویر: dpa/PA

پرائیویٹ کلینکس سوشل میڈیا پر خون کے ٹیسٹ کروانے کی ترغیب دے کر اشتہارات کے قوانین کو چکمہ دیتے ہیں، جیسے کہ ہارلے اسٹریٹ کلینک کا ٹی آر ٹی سے متعلق ایک اشتہار کہتا ہے، ”اگر آپ تھکے ہوئے، فوکس نہیں کر پاتے یا ورزش کے بعد زیادہ دیر تک ریکوری نہیں کر پا رہے تو یہ وقت ہے کہ اپنے ٹیسٹوسٹیرون کی سطح چیک کروائیں۔‘‘

ہر مریض کلینک کے لیے اوسطاً  تقریباﹰ دو ہزار ڈالر تک کا سالانہ منافع لاتا ہے۔ اس سلسلے میں انسٹاگرام اور میٹا پر پروموشنز کے ذریعے نوجوان مردوں کو ہدف بنایا جاتا ہے۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button