
تفتان: مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے اثرات اب پاکستان تک پہنچنے لگے ہیں۔ پاکستان اور ایران کے درمیان سرحدی آمدورفت محدود ہونے کے باعث بلوچستان کے سرحدی علاقوں میں غیر رسمی اور جزوی طور پر رسمی تجارت تقریباً رک گئی ہے، جس کے نتیجے میں اشیائے خوردونوش کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ مقامی افراد کے مطابق کئی بنیادی اشیا کی قیمتیں تقریباً دوگنا تک بڑھ چکی ہیں۔
پاکستان اور ایران کے درمیان تقریباً 909 کلومیٹر طویل سرحد موجود ہے۔ اس سرحد کے دونوں جانب واقع شہروں اور قصبوں کے رہائشی کئی دہائیوں سے ایک دوسرے کے ساتھ تجارت کرتے رہے ہیں۔ اس تجارت میں خوراک، سبزیاں، پھل، ایندھن اور دیگر روزمرہ استعمال کی اشیا شامل ہوتی ہیں، جن پر سرحدی علاقوں کی معیشت کا بڑا انحصار ہے۔
تاہم مشرقِ وسطیٰ کی حالیہ کشیدہ صورتحال اور سیکیورٹی خدشات کے باعث سرحدی راستوں پر آمدورفت محدود ہونے سے یہ سلسلہ شدید متاثر ہوا ہے۔
قیمتوں میں نمایاں اضافہ
بلوچستان کے سرحدی شہر تفتان کے ایک سبزی فروش کمال خان نے بتایا کہ سرحدی بندش نے مقامی منڈیوں کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ ان کے مطابق:
“ایران میں جنگی صورتحال کی وجہ سے راستے بند ہیں۔ جو سبزیاں اور دیگر اشیا مجھے پہلے فی کلوگرام 200 سے 250 روپے تک مل جاتی تھیں، اب وہی چیزیں 250 سے 400 روپے تک پہنچ گئی ہیں۔”
انہوں نے مزید کہا کہ اس اچانک مہنگائی نے عام لوگوں کی مشکلات بڑھا دی ہیں، خصوصاً ان خاندانوں کے لیے جو پہلے ہی محدود آمدنی میں گزارا کر رہے تھے۔
کمال خان کے مطابق،
“اس بندش کی وجہ سے قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے اور یہاں کے بہت سے غریب لوگوں کی قوتِ خرید متاثر ہوئی ہے۔”
تاجروں کو بھاری نقصان
سرحدی تجارت سے وابستہ تاجروں کا کہنا ہے کہ صورتحال نے ان کے کاروبار کو شدید دھچکا پہنچایا ہے۔ مقامی تاجر کامران خان نے بتایا کہ سرحدی بندش کے باعث نہ صرف سامان کی فراہمی متاثر ہوئی ہے بلکہ تاجروں کو مالی نقصان بھی برداشت کرنا پڑ رہا ہے۔
انہوں نے کہا:
“تنازعات اور اس کے نتیجے میں سرحد کی بندش سے ہمارے کاروبار کو بہت زیادہ نقصان ہوا ہے۔ تفتان میں گھریلو استعمال کی کئی اشیا نایاب ہو رہی ہیں۔ ہمیں لاکھوں روپے کا نقصان برداشت کرنا پڑ رہا ہے۔”
کامران خان کے مطابق تفتان کے راستے ایران سے آنے والی ایل پی جی کی سپلائی بھی متاثر ہوئی ہے، جس کے اثرات اب پورے پاکستان میں محسوس کیے جا رہے ہیں۔
ایندھن کی فراہمی متاثر
تفتان اور دیگر سرحدی علاقوں کے ذریعے ایران سے بڑی مقدار میں ایل پی جی پاکستان آتی ہے۔ مقامی تاجروں کے مطابق سرحدی بندش کے باعث اس سپلائی میں رکاوٹ پیدا ہوئی ہے جس سے ملک کے مختلف حصوں میں گیس کی قلت پیدا ہونے کا خدشہ بڑھ گیا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر سرحدی تجارت طویل عرصے تک معطل رہی تو نہ صرف بلوچستان بلکہ ملک کے دیگر علاقوں میں بھی ایندھن اور خوراک کی قیمتوں پر دباؤ بڑھ سکتا ہے۔
سرحدی علاقوں کی معیشت پر اثرات
اقتصادی ماہرین کے مطابق بلوچستان کے سرحدی علاقے، خصوصاً تفتان، پنجگور، چاغی اور گوادر کے کچھ حصے، کئی برسوں سے ایران کے ساتھ چھوٹے پیمانے کی تجارت پر انحصار کرتے ہیں۔ اس تجارت سے ہزاروں خاندانوں کا روزگار وابستہ ہے۔
سرحدی راستوں کی بندش سے نہ صرف سامان کی ترسیل متاثر ہوتی ہے بلکہ مزدوروں، ٹرانسپورٹ ڈرائیوروں اور چھوٹے تاجروں کی آمدنی بھی کم ہو جاتی ہے۔
عوامی مشکلات میں اضافہ
مقامی رہائشیوں کا کہنا ہے کہ قیمتوں میں اضافے نے عام لوگوں کی زندگی مزید مشکل بنا دی ہے۔ ایک شہری کے مطابق:
“پہلے بھی یہاں مہنگائی تھی لیکن اب بنیادی خوراک خریدنا بھی مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ اگر سرحد جلد نہ کھلی تو حالات مزید خراب ہو سکتے ہیں۔”
ماہرین کی رائے
معاشی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ سرحدی تجارت بند ہونے سے نہ صرف مقامی مارکیٹیں متاثر ہوتی ہیں بلکہ ملکی سپلائی چین پر بھی دباؤ پڑتا ہے۔ ان کے مطابق اگر علاقائی کشیدگی طویل عرصے تک جاری رہی تو پاکستان اور ایران کے درمیان تجارتی روابط کو بحال کرنے کے لیے سفارتی سطح پر اقدامات ضروری ہوں گے۔
ان کا کہنا ہے کہ سرحدی تجارت سرحدی علاقوں کی معیشت کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے اور اس کی بندش سے ہزاروں خاندان متاثر ہو سکتے ہیں۔
نتیجہ
مشرقِ وسطیٰ کی کشیدہ صورتحال کے اثرات اب براہ راست پاکستان کے سرحدی علاقوں میں محسوس کیے جا رہے ہیں۔ سرحدی تجارت کی بندش سے جہاں تاجروں کو بھاری مالی نقصان ہو رہا ہے، وہیں عام شہری بھی مہنگائی اور اشیائے ضروریہ کی قلت کا سامنا کر رہے ہیں۔ مقامی آبادی اور تاجر حکومت سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ صورتحال کو بہتر بنانے اور سرحدی تجارت بحال کرنے کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں تاکہ معاشی سرگرمیاں دوبارہ شروع ہو سکیں اور عوام کو ریلیف مل سکے۔



