
خود پسند حکمران تنازعات کو پیدا ہونے سے پہلے روکنے کی راہ پر
اگر حکمران خود پسند اور مطلق العنان ہوں، تو ان کے اقتدار کے لیے خطرہ بن سکنے والے کسی بھی طرح کے حالات پر قابو پانا ان کے لیے آسان بھی ہو جائے گا
کیتھرین شائر
اب تک ایسے کسی امکان کا عملی استعمال عام تو نہیں ہوا، لیکن عین ممکن ہے کہ خلیج فارس اور مشرق وسطیٰ کی خود پسند اور مطلق العنان حکومتیں ایسی کسی امکان کو بروئے کار لانے والی دنیا کی اولین حکومتیں بن جائیں۔
ایسی کسی بھی پیش گوئی کی اہم بات یہ ہے کہ کسی بھی سماجی بدامنی، عوامی احتجاج یا بڑے تنازعے کا قبل از وقت پتا چلا کر اسے اس کے پیدا ہونے سے پہلے ہی ختم کر دیا جائے۔ اس مقصد کے لیے کسی بھی معاشرے کے عمومی حقائق اور عوامی رجحانات کے ساتھ ساتھ اے آئی کو استعمال کرتے ہوئے یہ اندازہ لگایا جاتا ہے کہ کب کوئی صورت حال ممکنہ طور پر قابو سے باہر ہو کر بحران بن سکتی ہے۔
یوں اگر حکمران خود پسند اور مطلق العنان ہوں، تو ان کے اقتدار کے لیے خطرہ بن سکنے والے کسی بھی طرح کے حالات پر قابو پانا ان کے لیے آسان بھی ہو جائے گا اور یوں وہ اپنی حکمرانی کے تسلسل کو یقینی بنانے میں بھی کامیاب ہو جائیں گے۔

عرب اسپرنگ کی بنیاد بننے والے تیونس کے حالات
ماہرین اس نئے امکانی راستے کی مثال دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ تصور کیجیے کہ آپ دسمبر 2010ء میں ہیں، اور تیونس میں ایک خود پسند حکومت ہے جبکہ اپنے حالات سے تنگ آکر وہاں ایک پھل فروش شہری نے ابھی تک خود کو آگ بھی نہیں لگائی۔ اگر اس دور میں تیونس کے حکمران بن علی کو یہ علم ہوتا کہ یہ ایک واقعہ پھیل کر پورے ملک کو اپنی گرفت میں لے لے گا، پھر ان کا اقتدار بھی ختم ہو جائے گا اور یہی واقعات پورے خطے میں ان بڑی سیاسی اور حکومتی تبدیلیوں کا باعث بنیں گے، جنہیں اب اجتماعی طور پر ”عرب اسپرنگ‘‘ کہا جاتا ہے۔
اگر بن علی کی حکومت کو علم ہوتا کہ ایک پھل فروش کی خود سوزی ان کے اقتدار کو ختم کر دے گی، تو وہ ریاستی طاقت کا استعمال کرتے ہوئے اس انسانی موت کے بعد ملک گیر مظاہروں کو روکنے کے لیے ہر ممکن اقدام کرتے، اور وہ بھی قبل از وقت۔ لیکن ”عرب اسپرنگ‘‘ کو دنیا نے اس لیے دیکھا کہ بن علی کے پاس کسی ‘کنفلکٹ فورکاسٹ‘ کے لیے کوئی وسائل یا امکانات دستیاب ہی نہیں تھے۔

موجودہ عرب حکمرانوں کو دستیاب جدید امکانات
اختلاف رائے کو کچل دینے اور سماجی تنازعات کو کھڑا ہونے سے پہلے ہی روک دینے کے جو امکانات تیونس کے حکمران بن علی کے پاس نہیں تھے، وہ آج مشرق وسطیٰ میں کئی خود پسند حکومتوں اور ان کے رہنماؤں کو دستیاب ہیں، کم از کم کسی حد تک تو بہرحال۔
مختلف معاشروں میں نئے تنازعات کے پیدا ہونے کے امکانات کو اب تک بہت سے ماہرین اے آئی اور وسیع تر ڈیٹا کے تجزیوں کی مدد سے اسٹڈی کر چکے ہیں۔کلیدی طور پر اس مطالعے کا مقصد ”مستقبل کے خطرات کی پیش گوئی‘‘ ہے، جس کے لیے انسانی مہارت، مصنوعی ذہانت، ڈیٹا، مشین لرننگ اور کئی طرح کے کمپیوٹنگ ماڈلز کو ملا کر استعمال کیا جاتا ہے۔
اس شعبے میں کام کرنے والے ماہرین کے لیے ایک بڑا خدشہ یہ بھی ہے کہ اس نئے امکان کو استعمال کر کے جتنے فائدے حاصل کیے جا سکتے ہیں، اتنا ہی یہ خطرہ بھی ہے کہ اسی راہ پر چل کر خود پسند اور آمرانہ سوچ کے حامل حکمران اسے اپنے اپنے ذاتی سیاسی مقاصد کے لیے غلط استعمال بھی کر سکتے ہیں۔

‘کنفلکٹ فورکاسٹ‘ نامی تنظیم کے بانی کی تشویش
مستقبل کے ممکنہ تنازعات کی پیش گوئیاں کرنے سے متعلق ‘کنفلکٹ فورکاسٹ‘ (ConflictForecast) نامی تنظیم کے بانیوں میں سے ایک اور برطانیہ کی کیمبرج یونیورسٹی کے اقتصادیات اور ڈیٹا سائنس کے پروفیسر کرسٹوفر راؤہ کہتے ہیں کہ اس طرح کی ٹیکنالوجیز کا غلط استعمال عین ممکن ہے۔
انہوں نے ڈی ڈبلیو کو بتایا، ”بالکل، ہمیں تشویش ہے کہ برے عناصر اور شخصیات اسی ڈیٹا کو غلط استعمال کر سکتے ہیں۔ اس لیے ہم اپنی طرف سے تحقیقی مقاصد کے لیے مثلاﹰ عوامی مظاہروں سے متعلق جو پیش گوئیاں کرتے ہیں، ان کے نتائج اور ڈیٹا کو شائع نہیں کیا جاتا۔ ہمارا ماڈل ذرا سی تبدیلی کے ساتھ عوامی مظاہروں کی پیش گوئی کے لیے بھی آسانی سے استعمال میں لایا جا سکتا ہے۔‘‘
پروفیسر کرسٹوفر راؤہ نے بتایا، ”ہم بھی ذرا سے ترمیم کے ساتھ احتجاجی مظاہروں کی قبل از وقت پیش گوئی کر سکتے ہیں۔ لیکن احتجاج کرنا چونکہ انسانوں کا ایک صحت مند جمہوری حق بھی ہے، اس لیے ہم اپنا ڈیٹا شائع نہیں کرتے۔ خاص طور پر اس وجہ سے کہ اسی ڈیٹا کو کوئی بھی خود پسند رہنما یا ڈکٹیٹر عام شہریوں پر ممکنہ کریک ڈاؤن کے لیے بھی استعمال کر سکتا ہے۔‘‘

مشرق وسطیٰ کے حکمران سب سے آگے کیسے اور کیوں؟
‘کنفلکٹ فورکاسٹ‘ پر کام کرنے والے ماہرین میں سے بہت سے اس امکان کے قائل ہیں کہ ٹیکنالوجی کے مزید کچھ ترقی کر جانے کے بعد مشرق وسطیٰ کے خود پسند اور مطلق العنان حکمران اپنے اپنے معاشروں میں اختلافی آوازوں کو دبانے کے لیے اے آئی کو استعمال کرنے اور اس راہ پر چلنے والے اولین ممکنہ عناصر ہو سکتے ہیں۔
خطے کے عرب حکمرانوں کے پاس سیاسی طاقت بھی ہے اور ان میں سے بہت سے علاقائی سطح پر جدید ترین ٹیکنالوجی کو اپنانے کی دوڑ کا حصہ بھی بن چکے ہیں۔
برطانیہ کی مانچسٹر یونیورسٹی کے محقق عرش بیت اللہ خانی کے مطابق، ”روایتی طور پر مشرق وسطیٰ کی خود پسند اور آمرانہ رویوں کی حامل حکومتیں برسوں سے عوامی نگرانی، سنسرشپ اور اپنے مقاصد کے حصول کے لیے طاقت کے نپے تلے استعمال پر انحصار کرتی رہی ہیں۔‘‘
ان کے مطابق ایسی مطلق العنان حکومتوں کو اب بھی جو ٹیکنالوجیز دستیاب ہیں، ان کے استعمال کی اہلیت کو آرٹیفیشل انٹیلیجنس، چہرے کو شناخت کرنے کے ڈیجیٹل امکانات اور پھر ڈیٹا کے تجزیوں کے ساتھ کئی گنا بڑھایا جا سکتا ہے۔ یوں یہی عرب رہنما ممکنہ طور پر ایسے حکمران بن سکتے ہیں، جو ‘کنفلکٹ فورکاسٹ‘ کو عملاﹰ سب سے پہلے بروئے کار لانا شروع کر دیں۔
ماہرین اس سلسلے میں مثالیں دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، ایران، مصر اور بحرین خاص طور پر خطے کے ایسے ممالک ہیں، جہاں حکمرانوں کی طرف سے اپوزیشن کی تحریکوں سے متعلق پہلے ہی سے ‘ایڈوانسڈ کمپیوٹنگ‘‘ کی جا رہی ہے۔



