
خطے میں جنگی کشیدگی اور پٹرولیم بحران کے خدشات:پاکستان میں بلوچستان اور پنجاب میں تعلیمی ادارے بند، سرکاری اخراجات میں بڑی کٹوتیاں
محکمہ اسکول ایجوکیشن کے سیکریٹری لعل جان جعفر نے اس فیصلے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ خطے میں غیر یقینی صورتحال کے پیش نظر یہ اقدام بطور احتیاط اٹھایا گیا ہے
ناصف اعوان.پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز کے ساتھ
خطے میں پیدا ہونے والی جنگی صورتحال اور عالمی سطح پر پٹرولیم مصنوعات کی ترسیل میں ممکنہ رکاوٹوں کے خدشات کے باعث پاکستان کے مختلف صوبوں نے ہنگامی نوعیت کے اقدامات شروع کر دیے ہیں۔ حکومت بلوچستان اور حکومت پنجاب نے احتیاطی تدابیر کے طور پر تعلیمی اداروں کو عارضی طور پر بند کرنے اور سرکاری اخراجات میں کمی کے اہم فیصلے کیے ہیں، جبکہ خیبرپختونخوا حکومت نے بھی فیول بچت کے اقدامات متعارف کرا دیے ہیں۔
بلوچستان میں تعلیمی ادارے 23 مارچ تک بند
حکومت بلوچستان کے محکمہ اسکول ایجوکیشن اور محکمہ ہائر ایجوکیشن کی جانب سے جاری کیے گئے نوٹیفکیشنز کے مطابق صوبے کے تمام سرکاری اور نجی تعلیمی اداروں کو 23 مارچ تک بند رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
محکمہ اسکول ایجوکیشن کے سیکریٹری لعل جان جعفر نے اس فیصلے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ خطے میں غیر یقینی صورتحال کے پیش نظر یہ اقدام بطور احتیاط اٹھایا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس فیصلے کا مقصد کسی بھی ممکنہ ہنگامی صورتحال کے لیے انتظامی تیاری کو یقینی بنانا اور عوام کو ٹرانسپورٹ سے متعلق ممکنہ مشکلات سے بچانا ہے۔
نوٹیفکیشن کے مطابق تعلیمی ادارے بند رہنے کے باوجود بعض اہم سرگرمیاں جاری رہیں گی، جن میں:
اسکولوں میں داخلہ مہم
اسکولوں کی ڈیجیٹل مردم شماری
طے شدہ امتحانات
یہ تمام سرگرمیاں اپنے مقررہ شیڈول کے مطابق جاری رکھی جائیں گی۔
کالجز اور یونیورسٹیاں بھی بند رکھنے کا حکم
محکمہ کالجز، ہائر اور ٹیکنیکل ایجوکیشن بلوچستان نے بھی الگ نوٹیفکیشن جاری کرتے ہوئے صوبے کے تمام ڈگری کالجز، ٹیکنیکل کالجز اور پبلک سیکٹر یونیورسٹیوں کو 10 مارچ سے 23 مارچ تک بند رکھنے کی ہدایت جاری کر دی ہے۔
نوٹیفکیشن کے مطابق اس دوران:
تدریسی سرگرمیاں
تعلیمی پروگرامز
انتظامی سرگرمیاں
عارضی طور پر معطل رہیں گی۔
عالمی صورتحال اور تیل کی قیمتوں میں اضافہ
واضح رہے کہ ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے حالیہ حملوں کے بعد مشرق وسطیٰ میں پیدا ہونے والی کشیدگی نے عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں شدید اتار چڑھاؤ پیدا کر دیا ہے۔ عالمی سطح پر تیل کی ترسیل میں ممکنہ رکاوٹوں کے خدشات کے باعث پاکستان میں بھی پٹرولیم مصنوعات مہنگی ہو گئی ہیں۔
حکومت پاکستان نے حالیہ فیصلے کے تحت پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں فی لیٹر 55 روپے تک اضافہ کر دیا ہے جس کے بعد ملک میں پٹرولیم بحران کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔
پنجاب میں بھی تعلیمی ادارے بند، آن لائن تعلیم کا فیصلہ
دوسری جانب وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے خطے میں جنگی صورتحال کے ممکنہ معاشی اثرات کے پیش نظر صوبے بھر میں 10 مارچ سے 31 مارچ تک تمام اسکول، کالج اور یونیورسٹیاں بند رکھنے کا اعلان کیا ہے۔
تاہم اس دوران تعلیمی سلسلہ مکمل طور پر معطل نہیں ہوگا بلکہ:
تعلیمی ادارے آن لائن کلاسز کا انعقاد کر سکیں گے
امتحانات شیڈول کے مطابق ہی ہوں گے
سرکاری فیول پر پابندیاں اور اخراجات میں کمی
پنجاب حکومت نے پٹرولیم بحران سے نمٹنے کے لیے سرکاری اخراجات کم کرنے کے لیے بھی اہم فیصلے کیے ہیں۔
فیصلوں کے مطابق:
صوبائی وزراء کے لیے سرکاری فیول کی فراہمی عارضی طور پر بند کر دی گئی ہے
سرکاری افسران کی گاڑیوں کے لیے پٹرول اور ڈیزل الاونس میں فوری طور پر 50 فیصد کمی کر دی گئی ہے
سرکاری دفاتر میں ورک فرام ہوم
حکومت پنجاب نے سرکاری دفاتر میں بھی توانائی اور فیول بچت کے اقدامات متعارف کرائے ہیں۔
اس سلسلے میں:
سرکاری دفاتر میں ورک فرام ہوم پالیسی نافذ کی گئی ہے
صرف ضروری عملہ دفاتر میں حاضر ہوگا
سرکاری اجلاس آن لائن اور ٹیلی کانفرنس کے ذریعے منعقد ہوں گے
شہریوں کو سرکاری خدمات کی فراہمی جاری رکھنے کے لیے ای بزنس سسٹم اور مریم کی دستک ایپ کے تحت خدمات فراہم کی جاتی رہیں گی۔
وزیراعلیٰ پنجاب کی ہدایت کے مطابق ورک فرام ہوم کے دوران صرف اضافی سپورٹ اسٹاف کی آمدورفت محدود کی جا رہی ہے جبکہ دفاتر میں سرکاری کام جاری رہے گا۔
نجی شعبے کے لیے بھی ہدایات
پنجاب حکومت نے نجی شعبے کے لیے بھی ایڈوائزری جاری کرنے کا فیصلہ کیا ہے جس میں تجویز دی جائے گی کہ:
غیر ضروری تقریبات سے گریز کیا جائے
ورک فرام ہوم پالیسی اپنائی جائے
صرف ضروری اسٹاف کو دفاتر بلایا جائے
ٹرانسپورٹ کرایوں کی نگرانی
حکومت پنجاب نے تمام اضلاع میں ٹرانسپورٹ کرایوں کی سخت نگرانی کا بھی فیصلہ کیا ہے۔ حکام کے مطابق زائد یا ناجائز کرائے وصول کرنے والوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔
خیبرپختونخوا میں فیول بچت اقدامات
ادھر خیبرپختونخوا حکومت نے بھی فیول بچانے کے لیے اہم اقدامات کا اعلان کیا ہے۔
وزیراعلیٰ کے معاون خصوصی برائے اطلاعات شفیع جان کے مطابق صوبائی کابینہ نے فیول کنزرویشن اینڈ رسپانسبل گورننس انیشی ایٹو کی منظوری دے دی ہے۔
ان اقدامات کے تحت:
دو ماہ کے لیے فیول بچت پالیسی نافذ کی جائے گی
سرکاری میٹنگز 100 فیصد آن لائن کی جائیں گی
سرکاری گاڑیوں کے فیول الاونس میں مزید 25 فیصد کمی کی منظوری دی گئی ہے
انہوں نے بتایا کہ کووڈ کے دوران پہلے سے نافذ 25 فیصد کمی کے ساتھ مجموعی طور پر اب فیول الاونس میں 50 فیصد کٹوتی ہو چکی ہے۔
قانون نافذ کرنے والے ادارے مستثنیٰ
خیبرپختونخوا حکومت نے واضح کیا ہے کہ:
پولیس
ریسکیو سروسز
دیگر قانون نافذ کرنے والے ادارے
فیول کٹوتی کے اقدامات سے مستثنیٰ ہوں گے تاکہ سکیورٹی اور ہنگامی خدمات متاثر نہ ہوں۔
تعلیمی اداروں کے لیے مزید تجاویز
صوبائی حکومت نے تعلیمی اداروں میں فیول کے استعمال کو کم کرنے کے لیے جمعے کے روز تعلیمی ادارے بند رکھنے کی تجویز بھی زیر غور لائی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ورچوئل کلاسز کو ترجیح دینے کی ہدایت بھی کی گئی ہے۔
ماہرین کی تشویش
معاشی ماہرین کے مطابق اگر مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی طویل ہو گئی تو اس کے اثرات عالمی معیشت کے ساتھ ساتھ پاکستان پر بھی پڑ سکتے ہیں، جس کے باعث توانائی کے بحران اور مہنگائی میں مزید اضافے کا خدشہ موجود ہے۔
حکومتی حلقوں کا کہنا ہے کہ موجودہ اقدامات احتیاطی نوعیت کے ہیں اور صورتحال کے مطابق آئندہ مزید فیصلے بھی کیے جا سکتے ہیں۔



