پاکستانانٹرٹینمینٹ

پاکستانی افواج کی سرحد پار کارروائیاں، قندھار میں دہشت گردوں کے ٹھکانے اور تکنیکی تنصیبات تباہ: ذرائع

ذرائع کے مطابق حملے میں مذکورہ تکنیکی سہولت اور اس میں موجود آلات کو مؤثر انداز میں تباہ کر دیا گیا جس سے دہشت گرد نیٹ ورکس کی عملی صلاحیت کو نمایاں نقصان پہنچا ہے

سید عاطف ندیم-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز،سیکورٹی ذرائع کے ساتھ
سسیکیورٹی ذرائع کے مطابق 14 اور 15 مارچ کی درمیانی شب پاکستان کی مسلح افواج نے ایک منظم اور ہدفی کارروائی کے دوران افغانستان کے اندر دہشت گردوں کے مبینہ ٹھکانوں اور ان کی معاونت کرنے والے انفراسٹرکچر کو کامیابی سے نشانہ بنایا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ کارروائیاں “آپریشن غضب للحق” کے تحت کی گئیں جن کا مقصد پاکستان کے خلاف سرگرم دہشت گرد عناصر کی صلاحیت کو ختم کرنا ہے۔

سیکیورٹی ذرائع کے مطابق کارروائیوں کے دوران قندھار میں واقع ایک اہم مقام کو نشانہ بنایا گیا جہاں دہشت گرد عناصر کے لیے تکنیکی معاونت کا بنیادی ڈھانچہ اور آلات ذخیرہ کیے جاتے تھے۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس مقام کو افغان طالبان اور ان سے وابستہ دہشت گرد عناصر پاکستانی شہریوں اور سیکیورٹی فورسز کے خلاف کارروائیوں کے لیے استعمال کر رہے تھے۔
ذرائع کے مطابق حملے میں مذکورہ تکنیکی سہولت اور اس میں موجود آلات کو مؤثر انداز میں تباہ کر دیا گیا جس سے دہشت گرد نیٹ ورکس کی عملی صلاحیت کو نمایاں نقصان پہنچا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس کارروائی کا مقصد پاکستان کے اندر دہشت گردی کی کارروائیوں کی منصوبہ بندی اور ان کی معاونت کرنے والے نیٹ ورکس کو غیر مؤثر بنانا تھا۔
اسی سلسلے میں ایک اور کارروائی کے دوران پاکستانی افواج نے قندھار کے علاقے میں موجود ایک سرنگ کو بھی کامیابی سے نشانہ بنایا۔ سیکیورٹی ذرائع کے مطابق اس سرنگ کو دہشت گرد عناصر کی جانب سے تکنیکی آلات، اسلحہ اور دیگر ساز و سامان کو محفوظ رکھنے اور منتقل کرنے کے لیے استعمال کیا جا رہا تھا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ سرنگ کو نشانہ بنانے کے نتیجے میں وہاں موجود تکنیکی آلات اور عسکری سازوسامان کو شدید نقصان پہنچا ہے جس سے دہشت گردوں کے نیٹ ورک کی سرگرمیوں پر بڑا اثر پڑنے کا امکان ہے۔

سیکیورٹی حکام کے مطابق یہ کارروائیاں انتہائی درست معلومات اور انٹیلی جنس رپورٹس کی بنیاد پر کی گئیں۔ کارروائی کے دوران صرف مخصوص اہداف کو نشانہ بنایا گیا تاکہ دہشت گردوں کی معاونت کرنے والے انفراسٹرکچر کو نقصان پہنچایا جا سکے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان کی مسلح افواج دہشت گردی کے خلاف اپنی کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں اور “آپریشن غضب للحق” کے تحت کارروائیاں اس وقت تک جاری رہیں گی جب تک مقررہ آپریشنل مقاصد حاصل نہیں ہو جاتے۔
دفاعی ماہرین کے مطابق حالیہ کارروائیاں اس بات کا واضح اشارہ ہیں کہ پاکستان دہشت گردی کے خطرے کو ختم کرنے کے لیے پیشگی اور ہدفی اقدامات کرنے کی حکمت عملی اختیار کر رہا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ سرحد پار موجود ایسے ٹھکانوں کو نشانہ بنانا دہشت گرد نیٹ ورکس کی منصوبہ بندی اور کارروائیوں کو متاثر کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔
سیکیورٹی ذرائع نے مزید بتایا کہ پاکستانی افواج سرحدی علاقوں میں مکمل طور پر چوکنا اور مستعد ہیں اور کسی بھی ممکنہ خطرے سے نمٹنے کے لیے تیار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ملک کے اندر امن و استحکام کو یقینی بنانے اور معصوم شہریوں کے تحفظ کے لیے دہشت گرد عناصر کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی۔
حکام کا کہنا ہے کہ پاکستان خطے میں امن اور استحکام کا خواہاں ہے، تاہم دہشت گردی کے خلاف جنگ میں قومی سلامتی اور شہریوں کے تحفظ کو ہر حال میں ترجیح دی جائے گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی تاکہ ملک کو درپیش سیکیورٹی خطرات کا مؤثر انداز میں خاتمہ کیا جا سکے۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button