
تہران — ایران نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی جانب سے پیش کی جانے والی قراردادوں پر سخت ردعمل دیتے ہوئے انہیں خطے میں کشیدگی بڑھانے کی کوشش قرار دیا ہے، جبکہ روس اور چین سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے چارٹر کے اصولوں کا تحفظ یقینی بنائیں۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے پیر کے روز اپنے روسی ہم منصب سرگئی لاوروف کے ساتھ ٹیلی فونک گفتگو میں خطے کی تازہ صورتحال، سیکیورٹی چیلنجز اور ایران کے خلاف مبینہ امریکی-اسرائیلی فوجی کارروائیوں پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔
سلامتی کونسل میں قرارداد پر ایران کا ردعمل
گفتگو کے دوران عباس عراقچی نے امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی جانب سے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں قرارداد پیش کرنے کے اقدام کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یہ اقدام حقائق کو مسخ کرنے اور ایران پر دباؤ ڈالنے کی کوشش ہے۔ انہوں نے کہا کہ 11 مارچ کی قرارداد میں اصل جارحین کو نظر انداز کرتے ہوئے ایران کو مورد الزام ٹھہرایا گیا، جو کہ بین الاقوامی انصاف کے اصولوں کے منافی ہے۔
انہوں نے بحرین سمیت بعض ممالک کے کردار پر بھی افسوس کا اظہار کیا اور کہا کہ یہ ممالک امریکی پالیسی کے مطابق چلتے ہوئے سلامتی کونسل کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔
روس اور چین سے اپیل
ایرانی وزیر خارجہ نے روس اور چین سمیت سلامتی کونسل کے دیگر ارکان پر زور دیا کہ وہ امریکہ کو اقوام متحدہ کے پلیٹ فارم کا غلط استعمال کرنے سے روکیں۔ انہوں نے کہا کہ عالمی برادری کی ذمہ داری ہے کہ وہ بین الاقوامی قوانین کی پاسداری کو یقینی بنائے اور خطے میں مزید کشیدگی کو روکے۔
توانائی انفراسٹرکچر پر حملوں کی وارننگ
عباس عراقچی نے ایران کے توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر ممکنہ حملوں کو “جنگی جرم” اور “نسل کشی” قرار دیتے ہوئے خبردار کیا کہ اگر ایسی کوئی کارروائی کی گئی تو ایران کا ردعمل تیز، سخت اور فیصلہ کن ہوگا۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ ایران اپنی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کا ہر قیمت پر دفاع کرے گا۔
آبنائے ہرمز کی صورتحال
ایرانی وزیر خارجہ نے آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کی سیکیورٹی سے متعلق خدشات پر بھی بات کی اور امریکہ و اسرائیل پر الزام عائد کیا کہ ان کی “جارحانہ پالیسیوں” نے اس اہم سمندری راستے کو غیر محفوظ بنا دیا ہے۔ انہوں نے ایران کے خلاف عائد کیے جانے والے الزامات کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا کہ اصل ذمہ داری ان قوتوں پر عائد ہوتی ہے جو خطے میں کشیدگی کو ہوا دے رہی ہیں۔
روس کا مؤقف
اپنی جانب سے سرگئی لاوروف نے ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی مبینہ کارروائیوں کی مذمت کی اور کہا کہ روس بین الاقوامی قانون کی بالادستی کے لیے پرعزم ہے۔ انہوں نے کہا کہ ماسکو اور تہران کے درمیان تعلقات مضبوط ہیں اور روس عالمی فورمز پر قانون کی حکمرانی کے تحفظ کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گا۔
پس منظر: بڑھتی ہوئی کشیدگی
یہ سفارتی سرگرمیاں ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہیں جب خطے میں کشیدگی عروج پر ہے۔ 28 فروری کو آیت اللہ سید علی خامنہ ای سے وابستہ اعلیٰ فوجی کمانڈرز اور شہریوں کی ہلاکت کے بعد ایران نے امریکہ اور اسرائیل پر بڑے پیمانے پر حملوں کا الزام عائد کیا۔
ایران کے مطابق، ان حملوں میں ملک بھر میں فوجی اور سویلین تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا، جس سے جانی نقصان اور بنیادی ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچا۔
ایران کا جوابی اقدام
اس کے جواب میں ایرانی مسلح افواج نے مبینہ طور پر خطے میں امریکی اور اسرائیلی اڈوں کو میزائلوں اور ڈرون حملوں کا نشانہ بنایا۔ ایران کا کہنا ہے کہ یہ اقدامات دفاعی نوعیت کے تھے اور ملک کی خودمختاری کے تحفظ کے لیے کیے گئے۔
عالمی خدشات میں اضافہ
تجزیہ کاروں کے مطابق، ایران، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ عالمی سطح پر بھی سنگین اثرات مرتب کر سکتی ہے۔ خاص طور پر توانائی کی فراہمی، عالمی تجارت اور سیکیورٹی صورتحال پر اس کے اثرات نمایاں ہو سکتے ہیں۔
اگر سفارتی کوششیں ناکام رہتی ہیں تو یہ بحران مزید شدت اختیار کر سکتا ہے، جس سے خطہ ایک بڑے تصادم کے دہانے پر پہنچ سکتا ہے۔



