پاکستاناہم خبریں

حساس سفارتی عمل میں خاموشی ضروری، میڈیا قیاس آرائیوں سے گریز کرے، دفتر خارجہ

دفتر خارجہ کے مطابق پاکستان اپنی دیرینہ خارجہ پالیسی کے تحت ہمیشہ تنازعات کے پرامن حل کا حامی رہا ہے اور اسی پالیسی کے تسلسل میں مشرقِ وسطیٰ اور خلیجِ فارس میں جاری تنازع کے خاتمے کے لیے سفارتی رابطوں کو ترجیح دے رہا ہے

سید عاطف ندیم-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز کےساتھ
پاکستان کے دفتر خارجہ نے مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی اور ممکنہ سفارتی پیش رفت کے تناظر میں میڈیا کو احتیاط برتنے کا مشورہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ مذاکراتی عمل کے دوران بعض معاملات کو خاموشی اور صوابدید کے ساتھ آگے بڑھانا ناگزیر ہوتا ہے۔
ترجمان دفتر خارجہ طاہر اندرابی نے اپنے بیان میں واضح کیا کہ سفارت کاری ایک نہایت حساس اور پیچیدہ عمل ہے، جس میں قبل از وقت معلومات یا غیر مصدقہ خبروں کی تشہیر نہ صرف پیش رفت کو متاثر کر سکتی ہے بلکہ فریقین کے درمیان اعتماد کو بھی نقصان پہنچا سکتی ہے۔ انہوں نے میڈیا پر زور دیا کہ وہ ذمہ داری کا مظاہرہ کرے اور قیاس آرائیوں سے گریز کرتے ہوئے سرکاری بیانات اور حتمی فیصلوں کا انتظار کرے۔
دفتر خارجہ کے مطابق پاکستان اپنی دیرینہ خارجہ پالیسی کے تحت ہمیشہ تنازعات کے پرامن حل کا حامی رہا ہے اور اسی پالیسی کے تسلسل میں مشرقِ وسطیٰ اور خلیجِ فارس میں جاری تنازع کے خاتمے کے لیے سفارتی رابطوں کو ترجیح دے رہا ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ پاکستان تمام متعلقہ فریقین کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے اور خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے مثبت کردار ادا کر رہا ہے۔
یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب حالیہ دنوں میں وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے امریکہ اور ایران کے درمیان ممکنہ مذاکرات کی میزبانی کی پیشکش کے بعد مختلف میڈیا رپورٹس اور قیاس آرائیاں گردش کر رہی ہیں۔ بعض اطلاعات میں اسلام آباد میں ممکنہ مذاکرات یا پسِ پردہ رابطوں کا ذکر کیا گیا، تاہم سرکاری سطح پر ان میں سے کئی دعوؤں کی تصدیق نہیں کی گئی۔
سفارتی ماہرین کے مطابق بین الاقوامی تنازعات کے حل میں “خاموش سفارت کاری” (Quiet Diplomacy) ایک اہم حکمت عملی سمجھی جاتی ہے، جس کے تحت حساس معاملات کو میڈیا کی نظروں سے دور رکھ کر اعتماد سازی، لچکدار مؤقف اور پیش رفت کے امکانات کو بڑھایا جاتا ہے۔ اس طریقہ کار کو ماضی میں بھی کئی اہم عالمی تنازعات کے حل میں استعمال کیا جا چکا ہے۔
دفتر خارجہ کے بیان میں اس امر پر بھی زور دیا گیا کہ پاکستان خطے میں امن و استحکام کے قیام کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گا اور تمام اقدامات بین الاقوامی قوانین اور سفارتی اصولوں کے مطابق کیے جائیں گے۔ ترجمان نے کہا کہ پاکستان کا بنیادی مقصد کشیدگی میں کمی، مکالمے کا فروغ اور ایک پائیدار حل کی تلاش ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتحال میں میڈیا کا کردار نہایت اہم ہے، کیونکہ غیر مصدقہ اطلاعات نہ صرف عوامی سطح پر بے چینی پیدا کر سکتی ہیں بلکہ سفارتی عمل کو بھی پیچیدہ بنا سکتی ہیں۔ اسی لیے حکومت کی جانب سے میڈیا کو محتاط رہنے کی ہدایت کو ایک ضروری قدم قرار دیا جا رہا ہے۔
موجودہ علاقائی حالات میں جب مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی مسلسل بڑھ رہی ہے، پاکستان کی جانب سے سفارتی توازن اور محتاط حکمت عملی اپنانا اس کے ذمہ دارانہ کردار کی عکاسی کرتا ہے، جبکہ خاموشی کے ساتھ جاری سفارتی کوششیں مستقبل میں کسی بڑی پیش رفت کی بنیاد بھی بن سکتی ہیں۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button