
روئٹرز، اے پی اور اے ایف پی کے ساتھ
اس دوطرفہ آزاد تجاری معاہدے کا اعلان یورپی کمیشن کی سربراہ ارزولا فان ڈئر لاین اور آسٹریلیا کے وزیر اعظم انتھونی البانیزی نے آسٹریلوی دارالحکومت کینبرا میں ہونے والی ایک تقریب میں کیا۔
یہ معاہدہ ایسا تازہ ترین تجارتی معاہدہ ہے، جو یورپی یونین نے اپنے تجارت کے شعبے کو عالمی سطح پر زیادہ سے زیادہ متنوع بنانے کے لیے کیا ہے، خاص طور پر اس پس منظر میں کہ یورپ کو تجارتی شعبے میں امریکہ اور چین کی طرف سے کئی طرح کے چیلنجز کا سامنا ہے۔

سلامتی اور دفاع کے شعبوں میں بھی پارٹنرشپ
کینبرا میں ہونے والی تقریب میں یورپی کمیشن کی صدر فان ڈئر لاین اور آسٹریلوی وزیر اعظم البانیزی نے اس بارے میں بھی اتفاق کیا کہ برسلز اور کینبرا آپس میں سلامتی اور دفاع کے شعبوں میں بھی ایک دوسرے کے ساتھ شراکت داری کریں گے۔
یورپی یونین کے کمیشن کی صدر فان ڈئر لاین نے وزیر اعظم البانیزی کے ساتھ ملاقات کے بعد کہا، ”یہ درست ہے کہ یورپی یونین اور آسٹریلیا ایک دوسرے سے جغرافیائی طور پر بہت دور ہیں، لیکن اس حوالے سے تو ہم ایک دوسرے کے انتہائی قریب ہیں کہ ہم مل کر دنیا کو کس طرح دیکھ رہے ہیں۔‘‘
اس یورپی خاتون رہنما نے کہا، ”اب بڑی فعال اور متحرک نوعیت کی شراکت داری کے ساتھ ہم سلامتی، دفاع اور تجارتی شعبوں میں بھی ایک دوسرے کے مزید قریب تر آتے جا رہے ہیں۔‘‘

اس موقع پر آسٹریلوی وزیر اعظم البانیزی نے یورپی یونین کے ساتھ آزاد تجارتی معاہدے سے متعلق اتفاق رائے کو اپنے ملک کے لیے ”ایک انتہائی بامعنی لمحہ‘‘ قرار دیا۔
اگر دو طرفہ تجارت کو دیکھا جائے، تو یورپی یونین آسٹریلیا کی تیسری سب سے بڑی ٹریڈ پارٹنر ہے جبکہ آسٹریلیا میں اگر غیر ملکی سرمایہ کاری کی بات کی جائے، تو یورپی یونین وہاں سرمایہ کاری کرنے والے دوسرا سب سے بڑا ملک یا بلاک ہے۔
آزاد تجارتی معاہدے میں ہے کیا؟
یورپی یونین اور آسٹریلیا کے مابین اس آزاد تجارتی معاہدے کے تحت آسٹریلیا بھیجی جانے والی یورپی برآمدی مصنوعات پر 99 فیصد سے زائد تک ٹیرفس ختم کر دیے جائیں گے۔

اس طرح یورپی برآمدی اداروں کو تقریباﹰ ایک بلین یورو (1.16 بلین امریکی ڈالر) کے برابر تک صرف محصولات کی مد میں ہی بچت ہو سکے گی۔
اس کے علاوہ وائن، پھلوں، سبزیوں اور چاکلیٹس پر آسٹریلین ٹیرفس پہلے ہی دن سے صفر فیصد ہو جائیں گے جبکہ مختلف اقسام کے پنیر پر یہ ٹیرفس تین سال کے عرصے کے دوران بالکل ختم کر دیے جائیں گے۔
آئندہ جو یورپی کاریں آسٹریلیا برآمد کی جائیں گی، ان میں سے زیادہ تر پر عائد کیا جانے والا آسٹریلین لگژری کار ٹیکس کم کر دیا جائے گا جبکہ تقریباﹰ تین چوتھائی الیکٹرک گاڑیوں پر یہی لگژری کار ٹیکس سرے سے ختم کر دیا جائے گا۔

آسٹریلیا کو اس معاہدے سے ہونے والے فوائد میں بہت نمایاں بیف کی وہ برآمدات ہیں، جو یورپی یونین پہنچتی ہیں اور جن کی سالانہ مالیت کئی بلین یورو بنتی ہے۔
سیاسی اور مذاکراتی سطح پر یہ یورپی آسٹریلوی آزاد تجارتی معاہدہ اپنی جملہ تفصیلات کے ساتھ اب طے تو پا گیا ہے، تاہم ابھی اس کی دستاویز پر باقاعدہ دستخط نہیں ہوئے۔
اس معاہدے کی دستاویز پر باقاعدہ دستخط اس کی آسٹریلوی پارلیمان اور یورپی کونسل دونوں کی طرف سے لازمی منظوری کے بعد کیے جائیں گے۔



