بین الاقوامیاہم خبریں

شمالی کوریا کا بطور ایٹمی طاقت مقام ناقابل تنسیخ، کم جونگ ان

'ایٹمی ہتھیاروں سے لیس ایک ریاست کے طور پر اپنی حیثیت کو مستقل بنیادوں پر مضبوط تر‘‘ بنائے گا

روئٹرز، اے پی اور اے ایف پی کے ساتھ

شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ ان نے ملکی جوہری پروگرام کی رفتار تیز تر کر دی اور جنوبی کوریا کو ’سب سے زیادہ جارح ملک‘ قرار دیتے ہوئے نئی دھمکی بھی دی ہے۔ ان کے مطابق پیونگ یانگ کا جوہری پروگرام ’ناقابل تنسیخ‘ ہے۔

ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ پیونگ یانگ حکومت شمالی کوریا کی ”جوہری ہتھیاروں سے مسلح ایک ریاست کے طور پر حیثیت کو آئندہ مزید مضبوط‘‘ بنائے گی۔

جزیرہ نما کوریا، جو عشروں سے منقسم ہے اور جہاں شمالی اور جنوبی دونوں کوریائی ریاستوں کے مابین کئی دہائیوں سے شدید رقابت پائی جاتی ہے، وہاں ماضی کی کوریائی جنگ کے بعد سے آج تک کوئی باقاعدہ امن معاہدہ طے نہیں پا سکا۔

اس پس منظر میں کم جونگ ان نے پیونگ یانگ میں اس کمیونسٹ ریاست کے سپریم پیپلز اسمبلی کہلانے والے قانون ساز ادارے کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ شمالی کوریا نہ صرف ”ایٹمی ہتھیاروں سے لیس ایک ریاست کے طور پر اپنی حیثیت کو مستقل بنیادوں پر مضبوط تر‘‘ بنائے گا بلکہ جنوبی کوریا کے ساتھ آئندہ بھی ”سب سے زیادہ جارحیت کرنے والی دشمن ریاست‘‘ کا برتاؤ کرتا رہے گا۔

ملکی پارلیمان کے اجلاس کی مناسبت سے منعقدہ ایک تقریب میں کم جونگ ان اور دیگر شرکاء
ملکی پارلیمان کے اجلاس کی مناسبت سے منعقدہ ایک تقریب میں کم جونگ ان اور دیگر شرکاءتصویر: KCNA/REUTERS

‘ایٹمی طاقت کے طور پر ناقابل تنسیخ حیثیت‘

شمالی کوریا کے ریاستی خبر رساں اداروں نے کم جونگ ان کے خطاب کی تفصیلات جاری کرتے ہوئے لکھا، ”قوم کے وقار، اس کے قومی مفادات کے تحفظ اور اس کی حتمی فتح کی ضمانت صرف اس کی بہت مضبوط طاقت کے ساتھ ہی دی جا سکتی ہے۔ اس لیے پیونگ یانگ ایک ایٹمی طاقت کے طور پر اپنی قطعی ناقابل تنسیخ حیثیت کو آئندہ بھی مضبوط تر بناتا رہے گا۔‘‘

شمالی کوریائی رہنما نے اپنا یہ خطاب سپریم پیپلز اسمبلی کے جس اجلاس سے کیا، اس میں قانون ساز اراکین نے سال 2026ء کے لیے سالانہ ریاستی بجٹ کی منظوری بھی دے دی۔

اس بجٹ میں ملکی دفاعی اخراجات میں مزید اضافہ کر دیا گیا ہے اور ریاستی دفاعی بجٹ اب مجموعی سالانہ بجٹ کے 15.8 فیصد کے برابر بنتا ہے۔

کم جونگ ان کی سیاسی سوچ کے بارے میں یہ بات بھی اہم ہے کہ انہوں نے آج تک امریکہ کی طرف سے اس دباؤ کو قبول نہیں کیا، جس کے تحت واشنگٹن کی کوشش رہی ہے کہ پیونگ یانگ سلامتی کی ضمانتوں کے بدلے اپنے جوہری ہتھیار ترک کر دے۔

پیونگ یانگ میں سپریم پیپلز اسمبلی کے اجلاس کی ایک تصویر، پس منظر میں کم جونگ ان کے والد اور داد کے بہت بڑے بڑے مجسمے
پیونگ یانگ میں سپریم پیپلز اسمبلی کے اجلاس کی ایک تصویر، پس منظر میں کم جونگ ان کے والد اور داد کے بہت بڑے بڑے مجسمےتصویر: KCNA via KNS/AFP

ایران سے سیکھا جانے والا سبق

اپنے خطاب میں کم جونگ ان نے امریکہ پر یہ الزام لگایا کہ وہ ”عالمگیر دہشت گردی اور جارحیت‘‘ کا مرتکب ہو رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جس طرح امریکہ اور اسرائیل نے مل کر ایران کے خلاف جنگ شروع کی، وہ اس بات کا ثبوت ہے کہ اس جنگ میں بین الاقوامی ضوابط کی نفی کی گئی۔

ان کے الفاظ میں، ”دنیا میں نظر آنے والے موجودہ حقائق ہمیں واضح طور پر دکھا رہے ہیں کہ کہ کسی ریاست کے وجود، اس کی بقا اور امن کی اصل ضمانت کیا ہے۔‘‘

شمالی کوریائی لیڈر نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا نام لیے بغیر کہا کہ ان کے مخالفین ”یہ انتخاب خود کر سکتے ہیں کہ وہ تصادم چاہتے ہیں یا پرامن بقائے باہمی۔ ہم ان دونوں میں سے کسی بھی انتخاب کا جواب دینے کے لیے تیار ہیں۔‘‘

اس بارے میں جنوبی کوریائی دارالحکومت سیول میں قائم شمالی کوریائی علوم کی یونیورسٹی کے ریسرچر یانگ مو جن کہتے ہیں، ”موجودہ حالات نے پیونگ یانگ کے اس دیرینہ موقف کو تقویت دی ہے کہ جوہری ہتھیار ناگزیر ہیں۔‘‘

کم جونگ ان اور ان کی بیٹی کم جو اے کی گزشتہ ماہ ایک فوجی پریڈ کے موقع پر پیونگ یانگ میں لی گئی ایک تصویر
کم جونگ ان اور ان کی بیٹی کم جو اے کی گزشتہ ماہ ایک فوجی پریڈ کے موقع پر پیونگ یانگ میں لی گئی ایک تصویرتصویر: KCNA/KNS/AFP

کم ایک بار پھر سربراہ مملکت منتخب

شمالی کوریائی سپریم پیپلز اسمبلی کا اجلاس دو روز تک جاری رہنے کے بعد کل پیر 23 مارچ کو ختم ہو گیا تھا۔ اس اجلاس میں کم جونگ ان کو ایک بار پھر کمیونسٹ کوریا کے ریاستی امور کے کمیشن کا سربراہ منتخب کر لیا گیا تھا۔ اس اسٹیٹ افیئرز کمیشن کا سربراہ ہی سربراہ مملکت ہوتا ہے۔

اس کے علاوہ اسی پارلیمانی اجلاس میں ملک کے ترمیم شدہ آئین کی منظوری بھی دے دی گئی۔ ابھی تک یہ واضح نہیں کہ ملک کے گزشتہ دستور اور نئے ترمیم شدہ آئین میں کیا فرق ہے۔

تاہم آئینی ماہرین کا اندازہ ہے کہ نئے ترمیم شدہ آئین میں غالباﹰ جنوبی کوریا کے ساتھ مشترکہ قومیت کا حوالہ خارج کر دیا گیا ہے اور ساتھ ہی جنوبی کوریا کو شمالی کوریا کا مستقل اور سب سے بڑا دشمن بھی قرار دے دیا گیا ہے۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button