مشرق وسطیٰتازہ ترین

جنگ کی تباہ کاریاں شدت اختیار کر گئیں، 82 ہزار سے زائد شہری عمارتیں متاثر ، ایرانی ہلال احمر

حملوں میں 281 طبی مراکز، ہسپتال اور فارمیسیاں بھی تباہ یا جزوی طور پر ناکارہ ہو چکی ہیں، جس سے صحت کے نظام پر شدید دباؤ بڑھ گیا ہے

تہران:ایران میں جاری جنگی صورتحال کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر تباہی کی اطلاعات سامنے آئی ہیں، جہاں ایرانی ہلال احمر ایرانی ہلال احمر نے انکشاف کیا ہے کہ 28 فروری سے اب تک ہونے والے حملوں میں 82 ہزار سے زائد شہری عمارتیں تباہ یا شدید متاثر ہو چکی ہیں۔
ادارے کے سربراہ پیرحسین کولیوند نے منگل کے روز میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ متاثرہ عمارتوں میں تقریباً 62 ہزار رہائشی مکانات شامل ہیں، جس کے باعث لاکھوں افراد بے گھر ہونے کے خطرے سے دوچار ہیں۔ ان کے مطابق جنگ نے شہری انفراسٹرکچر کو بری طرح متاثر کیا ہے اور بنیادی سہولیات کی فراہمی شدید متاثر ہو رہی ہے۔
کولیوند نے مزید بتایا کہ حملوں میں 281 طبی مراکز، ہسپتال اور فارمیسیاں بھی تباہ یا جزوی طور پر ناکارہ ہو چکی ہیں، جس سے صحت کے نظام پر شدید دباؤ بڑھ گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسے وقت میں جب زخمیوں اور مریضوں کو فوری طبی امداد کی اشد ضرورت ہوتی ہے، طبی سہولیات کو نشانہ بنانا انسانی بحران کو مزید سنگین بنا رہا ہے۔
تعلیمی شعبہ بھی اس تباہی سے محفوظ نہیں رہا۔ ایرانی ہلال احمر کے مطابق 498 اسکول یا تو براہِ راست حملوں کا نشانہ بنے یا ان کے قریب دھماکوں کے باعث متاثر ہوئے، جس سے لاکھوں طلبہ کی تعلیم متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔

ادارے کے سربراہ نے امدادی سرگرمیوں کو بھی نشانہ بنائے جانے پر تشویش کا اظہار کیا۔ ان کے مطابق میزائل حملوں میں 17 امدادی مراکز مکمل طور پر تباہ ہو گئے جبکہ 12 ریسکیو گاڑیاں بھی نقصان کا شکار ہوئیں، جس سے امدادی کارروائیوں میں شدید رکاوٹیں پیدا ہو رہی ہیں۔
انہوں نے جنوبی شہر لار میں پیش آنے والے ایک واقعے کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ ایک ایمبولینس زخمیوں کو منتقل کر رہی تھی کہ اسی دوران اسے نشانہ بنایا گیا۔ ان کے الفاظ میں، “ایمبولینس مکمل طور پر تباہ ہو گئی اور کچھ بھی باقی نہ بچا”، جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ جنگی کارروائیاں کس حد تک انسانی اصولوں کو متاثر کر رہی ہیں۔
ماہرین کے مطابق شہری آبادی، طبی مراکز اور امدادی اداروں کو نشانہ بنانا بین الاقوامی انسانی قوانین کی سنگین خلاف ورزی تصور کیا جاتا ہے، اور اس طرح کے اقدامات سے نہ صرف جانی نقصان بڑھتا ہے بلکہ انسانی بحران بھی شدت اختیار کر جاتا ہے۔
یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب عالمی سطح پر جنگ بندی اور مذاکرات کی کوششیں جاری ہیں، تاہم زمینی حقائق اس کے برعکس ایک سنگین انسانی المیے کی عکاسی کر رہے ہیں۔ ایران میں جاری تباہی نہ صرف مقامی آبادی بلکہ پورے خطے کے استحکام کے لیے ایک بڑا چیلنج بن چکی ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر فوری طور پر جنگ بندی نہ ہوئی تو انسانی بحران مزید گہرا ہو سکتا ہے، جس کے اثرات خطے سے باہر بھی محسوس کیے جائیں گے۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button