
سید عاطف ندیم-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز
گذشتہ ماہ ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کے فضائی حملوں سے تمام دنیا میں اہم ہوائی گذرگاہوں میں خلل آیا، کئی ایئرلائنز نے اپنی پروازوں کا رخ تبدیل یا انہیں بالکل منسوخ کر دیا۔ ابتدائی چند دنوں تک تنازعہ جاری رہنے کے باعث شرقِ اوسط کی زیادہ تر فضائی حدود بند رہیں اور وہاں کے چند ہی ایئرپورٹس سے صرف محدود تعداد میں پروازیں روانہ ہوئیں۔
پاکستان کی دبئی، دوحہ، ابوظہبی، مسقط، شارجہ اور دیگر مقامات کے لیے سینکڑوں پروازیں اس ماہ کے شروع میں منسوخ کر دی گئیں۔
پاکستان میں ملکی ایئرلائنز کی تعداد پانچ ہے: پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائنز (پی آئی اے)، ایئر بلیو، سیرین ایئر، ایئر سیال، اور فلائی جناح۔ اس کے علاوہ کئی بڑی بین الاقوامی مسافر بردار کمپنیاں بشمول امارات، قطر ایئرویز، سعودیہ، تھائی ایئرویز اور ترک ایئرلائنز کی پروازیں یہاں سے آتی جاتی ہیں۔
ترجمان پی اے اے سیف اللہ خان نے عرب نیوز کو بتایا، "یہ مسائل ایئرلائنز کے لیے کافی چیلنجز کا باعث بنے ہیں جس میں وسیع تر ایوی ایشن سیکٹر کو مبینہ طور پر ابتدائی مرحلے میں تقریباً 20 بلین روپے (72 ملین ڈالر) کے تخمینے کے نقصانات کا سامنا ہے۔”
تاہم خان نے واضح کیا کہ پاکستانی ایئرپورٹس اور فضائی حدود سول ایوی ایشن کے لیے کھلے، محفوظ اور عموماً فعال ہیں۔
انہوں نے وضاحت کی، "فلائٹ آپریشنز اور منسوخی کے فیصلے صرف انفرادی ایئرلائنز کے اپنے حفاظتی جائزوں اور آپریشنل ضروریات کی بنیاد پر ہوتے ہیں۔”
ایوی ایشن کے ایک آزاد ماہر افسر ملک نے کہا، موجودہ تنازع سے "دنیا کی ایک مصروف ترین ہوائی گذرگاہ” کے کام میں خلل پیدا کیا ہے اور یہ کہ پاکستان براہِ راست اس کے "راستے” میں ہے۔ پاکستان سے منسلک 500 سے زائد پروازیں منسوخ ہو چکی ہیں۔
تاہم ترجمان پی آئی اے عبداللہ حفیظ نے کہا کہ پاکستانی ایئرلائنز نے گذشتہ ماہ جنگ شروع ہونے کے بعد سے تقریباً 350 پروازیں منسوخ کیں۔
کیا پی آئی اے موجودہ علاقائی صورتِ حال سے پیدا ہونے والے خطرات کو کم کرنے کے لیے اقدامات کر رہی ہے، اس کے جواب میں ترجمان نے کہا: "آپ کچھ زیادہ نہیں کر سکتے۔ تحفظ کو نظرانداز کر کے کاروبار نہیں ہو سکتا۔”
انہوں نے کہا، "پیسوں کی واپسی، مسافروں کی دوبارہ رہائش اور بیکار ہوائی جہاز۔ حتیٰ کہ فعال پروازیں بھی اتنی مؤثر نہیں رہتیں۔ زیادہ ایندھن اور جنگ کے خطرے سے منسلک بیمہ کے بڑھتے ہوئے اخراجات کے ساتھ وہ طویل راستے اختیار کرنے پر مجبور ہو جاتی ہیں۔”
انہوں نے خبردار کیا، "اگر تنازع برقرار اور ایندھن کی قیمتیں زیادہ رہیں تو ایئرلائنز کو چند ہفتوں کے اندر مسلسل مالی دباؤ کا سامنا ہو سکتا ہے۔”
‘خلیج پر بہت زیادہ انحصار’
ملک کے مطابق ایران جنگ سے ایک ہوائی راہداری پر پاکستان کا حد سے زیادہ انحصار بے نقاب ہو گیا ہے۔
انہوں نے مشاہدہ کیا، "پاکستان کا ایوی ایشن ماڈل خلیج پر بہت زیادہ انحصار کرتا ہے۔ دبئی، دوحہ، ابوظہبی اور جدہ کے لیے پاکستان کے اعلیٰ حجم والے راستے بین الاقوامی ٹریفک کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں جہاں مزدور، مذہبی سیاح اور عام پاکستانی معمول کے دوروں پر جاتے ہیں۔ جب وہ درہم برہم ہوتے ہیں تو نظام میں خم نہیں آتا، یہ ٹوٹ جاتا ہے۔”
ملک نے کہا، بیرون ملک مقیم پاکستانی جن کی بدولت بین الاقوامی سفر کی طلب برقرار رہتی ہے، وہ خلیجی خطے میں عدم استحکام سے متأثر ہوتے ہیں جہاں پاکستانی شہریوں کی ایک بڑی تعداد آباد ہے۔
"حتیٰ کہ جب پروازیں دوبارہ شروع ہو جائیں تو پس و پیش برقرار رہتی ہے،” انہوں نے کہا۔ "سفر میں تاخیر، ارادے منسوخ اور طلب کم ہو جاتی ہے۔ مسافر پروازوں میں کمی سے مال برداری کے اخراجات بھی بڑھ جاتے ہیں۔”
پی آئی اے کے سابق سی ای او ارشد ملک نے پاکستان پر زور دیا کہ وہ فیول ہیجنگ کا طریقہ اختیار کرے اور یہ نوٹ کیا کہ اخراجات کا تقریباً 40-45 فیصد ایندھن کے خرچ پر مشتمل ہوتا ہے۔
ارشد نے کہا، "اب جوں جوں ایندھن کی قیمت بڑھ رہی ہے اور اگر ہمیں طویل راستے اختیار کرنا پڑیں تو کئی مسائل کا سامنا ہوتا ہے جو ہمارے لیے ایک بڑا نقصان بن جاتا ہے۔”
انہوں نے حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ خلیجی ہوائی کمپنیوں خاص طور پر امارات اور قطر ایئرویز کو تقریباً تین ماہ کے لیے زیادہ اور لچکدار فلائٹ سلاٹس فراہم کرے کیونکہ تنازعہ ختم ہونے کے آثار نہیں ہیں۔
پی آئی اے کے سابق سی ای او نے "اضافہ شدہ سلاٹس” کے تصور کی وضاحت کرتے ہوئے کہا، وہ ایئر لائنز دبئی جیسے مقامات سے کام کرنے کے بجائے اپنے طیارے پاکستانی ایئرپورٹس پر لا کر یہاں سے یورپ اور اس سے آگے کے لیے پروازیں چلا سکتی ہیں۔
انہوں نے کہا، "ہم امریکہ نہیں جاتے، افریقہ نہیں جاتے اس لیے ان منتخب سلاٹس کو مرکزی طور پر ایئرلائنز کے ساتھ کیا جائے۔”
انہوں نے کہا، اس اقدام سے پاکستان کی ایوی ایشن کو اپنے لینڈنگ، پارکنگ اور ایندھن کے اخراجات پورا کرنے میں مدد ملے گی اور اندرونِ ملک ہوٹلنگ کی صنعت بھی فروغ پائے گی۔


