
نیپال میں ریپر سے سیاستدان بننے والے بالن شاہ اب وزیرِ اعظم
یہ انتخابات گزشتہ سال ستمبر میں ہونے والے اینٹی کرپشن ''جنریشن زی‘‘ احتجاج کے نتیجے میں حکومت کے خاتمے کے بعد ہوئے ہیں۔ ان پرتشدد احتجاجی مظاہروں میں 76 افراد ہلاک ہوئے تھے۔
عاطف توقیر اے پی
حلف برداری کی تقریب میں شاہ نے اپنی مخصوص طرز کا سیاہ چست پاجامہ، اسی رنگ کی جیکٹ، روایتی سیاہ نیپالی ٹوپی اور سن گلاسز پہنے دکھائی دیے۔
نوجوان قیادت کا ابھرنا
پینتیس سالہ با لیندر شاہ، اس سے قبل دارالحکومت کٹھمنڈو کے میئر بھی رہ چکے ہیں۔ وہ پانچ مارچ کو منعقد ہونے والے انتخابات میں وزیرِ اعظم منتخب ہوئے تھے۔ ان کی جماعت راشٹریہ سوتنتر پارٹی (RSP)صرف تین سال پرانی ہے۔ اس جماعت نے 275 رکنی پارلیمان میں 182 نشستیں حاصل کیں۔

یہ انتخابات گزشتہ سال ستمبر میں ہونے والے اینٹی کرپشن ”جنریشن زی‘‘ احتجاج کے نتیجے میں حکومت کے خاتمے کے بعد ہوئے ہیں۔ ان پرتشدد احتجاجی مظاہروں میں 76 افراد ہلاک ہوئے تھے۔
موسیقی کے ذریعے پیغام
حلف برداری سے ایک روز قبل شاہ نے اپنے فیس بک پیج پر ایک نیا میوزک ویڈیو جاری کیا، جس میں انہوں نے حب الوطنی اور روشن مستقبل کے عزم کا اظہار کیا۔
ویڈیو میں ان کی انتخابی مہم کے دوران بڑے عوامی اجتماعات بھی دکھائے گئے۔
مذہبی رسومات کے ساتھ تقریب
ایوان صدر میں ہونے والی تقریب میں 200 سے زائد ہندو پنڈتوں اور بدھ لاماؤں نے بھجن اور امن کی دعائیں پڑھیں۔ اس تقریب میں سفارت کاروں اور اعلیٰ سرکاری حکام نے بھی شرکت کی۔

چھوٹی کابینہ، بڑے وعدے
حلف اٹھانے کے بعد شاہ نے 14 رکنی کابینہ تشکیل دی ہے، جو سرکاری اخراجات کم کرنے کے ان کے وعدے کا حصہ ہے۔ انہوں نے ہارورڈ سے تعلیم یافتہ ماہرِ معاشیات سوارنِم واگلے کو وزیرِ خزانہ مقرر کیا۔
عالمی ردعمل
بھارت اور چین دونوں نے بالیندر شاہ کو مبارکباد دی۔ بھارتی وزیرِ اعظم نریندر مودی نے کہا”میں آپ کے ساتھ مل کر بھارت نیپال تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کا خواہشمند ہوں۔‘‘
چینی وزارتِ خارجہ کے مطابق بیجنگ نیپال کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے تحفظ میں اس کے ساتھ کھڑا ہے۔
نوجوانوں کے مسائل اور سیاسی عدم استحکام
نیپال کی تین کروڑ کی آبادی میں بے روزگاری اور بدعنوانی بڑے مسائل ہیں۔ تقریباً 20 فیصد آبادی غربت کا شکار ہے، جبکہ روزانہ تقریباً 1500 افراد روزگار کی تلاش میں ملک چھوڑ دیتے ہیں۔
نوجوانوں کی قیادت میں ہونے والے احتجاج انہی مسائل کا نتیجہ تھے۔
ملک میں سیاسی عدم استحکام بھی ایک بڑا مسئلہ رہا ہے۔ 1990 سے اب تک 32 حکومتیں بن چکی ہیں اور کوئی بھی اپنی پانچ سالہ مدت مکمل نہیں کر سکی۔
ملک کی سب سے پرانی جماعت نیپالی کانگریس پارٹی حالیہ انتخابات میں صرف 38 نشستوں کے ساتھ دوسرے نمبر پر رہی جبکہ سابق وزیر اعظم کے پی شرما اولی کی کمیونسٹ پارٹی کے پاس 25 نشستیں ہیں۔
احتجاج کے نتیجے میں حکومتی برطرفی کے بعد عبوری دور میں سابق چیف جسٹس سوشیلا کارکی نے ملک کی قیادت کی اور انتخابات تک نظام حکومت چلایا۔


