
ڈی پی اے کے ساتھ
بالٹک فضائی حدود میں ڈرون پروازوں کے بڑھتے واقعات
اس ہفتے یوکرین کے ڈرونز تینوں ممالک کی فضائی حدود میں داخل ہوئے اور بعد میں گر کر تباہ ہو گئے۔ یہ ڈرونز ممکنہ طور پر روس کے شمال مغربی علاقوں میں اہداف پر حملوں کے لیے استعمال کیے جا رہے تھے۔ ان واقعات میں کوئی جانی یا بڑا مالی نقصان نہیں ہوا۔
روس کی جانب سے یوکرین پر حملے کے آغاز کے بعد سے ایسے کئی واقعات پیش آ چکے ہیں، جن میں ڈرونز بالٹک ممالک کی فضائی حدود میں داخل ہوئے۔

دفاعی سرمایہ کاری اور تیاری بڑھانے کی ضرورت
ان وزرا دفاع میں ایسٹونیا کے ہانو پیوکر، لٹویا کے آندریس سپروڈس اور لیتھوانیا کے رابرٹس کاونس شامل تھے، نے کہا، ”یہ واقعات ہماری تیاری کو مزید بہتر بنانے اور دفاعی صلاحیتوں میں سرمایہ کاری بڑھانے کی فوری ضرورت کو ظاہر کرتے ہیں۔‘‘
انہوں نے یورپی یونین کے دفاعی بجٹ میں مستقل اضافے کا مطالبہ بھی کیا اور کہا کہ فنڈز کو واضح ترجیحات کے مطابق استعمال کیا جانا چاہیے۔
ڈرون جنگ کے خطرات
یوکرین گزشتہ چار سال سے زائد عرصے سے روسی حملوں کے خلافاپنا دفاع کر رہا ہے۔ اس جنگ میں کئی بار الیکٹرانک مداخلت کے باعث راستہ بھٹکنے والے ڈرونز ہمسایہ ممالک کے لیے خطرہ بنے۔
ان وزراء نے مزید کہا، ”بالٹک ریاستوں میں نیٹو کے طیاروں اور فضائی دفاعی نظام کی موجودگی کو برقرار رکھنے اور مزید مضبوط بنانے کی ضرورت ہے تاکہ تمام فضائی خطرات، خصوصاً ڈرونز کا مؤثر مقابلہ کیا جا سکے۔‘‘
بالٹک ریاستوں کے پاس اپنے لڑاکا طیارے موجود نہیں ہیں، اسی لیے 2004 سے نیٹو اتحادی ممالک کے طیاروں اور عملے کی باری باری تعیناتی کے ذریعے ان کی فضائی حدود کی حفاظت کر رہا ہے۔
روس کے لڑاکا طیاروں اور خودکش ڈرونز کی جانب سے بار بار فضائی حدود کی خلاف ورزیوں کے بعد نیٹو نے ستمبر 2025 میں ”آپریشن ایسٹرن سینٹری‘‘ شروع کیا تھا، جس کا مقصد خطے میں نگرانی اور فضائی دفاع کو مزید مضبوط بنانا ہے۔



