
سید عاطف ندیم-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز کے ساتھ
پاکستان اور پورے خطے کے امن کے خلاف بھارت کی ایک منظم اور اسٹریٹجک سازش بے نقاب ہوگئی ہے، جس کا مقصد نہ صرف پاکستان کے عالمی کردار کو متنازعہ بنانا تھا، بلکہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کی کوششوں کو سبوتاژ کرنا بھی تھا۔ اس سازش کا راز حالیہ تحقیقات اور سکیورٹی تجزیہ کاروں کے ذریعے کھل کر سامنے آیا، جس میں بھارت اور افغانستان کی مشترکہ کوششوں کے ذریعے پاکستان کے خلاف ایک وسیع پیمانے پر ڈس انفارمیشن مہم چلانے کا انکشاف ہوا۔
ڈس انفارمیشن مہم کا آغاز:
تحقیقات کے مطابق، بھارت نے افغانستان کے ساتھ مل کر ایک مربوط ڈس انفارمیشن مہم چلائی، جس کے ذریعے خفیہ نیٹ ورک کے ذریعے پاکستان کے خلاف منظم پروپیگنڈا آپریشن شروع کیا گیا۔ اس مہم کا مقصد ایران کی جانب سے پاکستان پر جھوٹے الزامات لگانے کے ذریعے پاکستان کو عالمی سطح پر بدنام کرنا تھا۔ جعلی ایرانی شناختوں کا استعمال کرتے ہوئے پاکستان کے خلاف نفرت انگیز بیانیہ تیار کیا گیا، جس سے عالمی سطح پر پاکستان کے خلاف غلط تاثر قائم کرنے کی کوشش کی گئی۔
مہم کی نوعیت اور ذرائع:
سکیورٹی ماہرین نے انکشاف کیا ہے کہ اس پروپیگنڈا مہم کا آغاز INN Iran News اور Iran TV جیسے جعلی اکاؤنٹس سے کیا گیا۔ ان اکاؤنٹس کے ذریعے پاکستان پر امریکہ کے لیے تیل کی ترسیل کا جھوٹا الزام لگا کر ایران کے ساتھ پاکستان کے تعلقات کو خراب کرنے کی کوشش کی گئی۔ ان تمام جعلی اکاؤنٹس کا کنٹرول بھارت اور افغانستان کے ہاتھ میں تھا، جنہیں ایک مربوط نیٹ ورک کے ذریعے چلایا جا رہا تھا۔
اس ڈس انفارمیشن آپریشن میں Initiator (آغاز کرنے والا)، Proliferator (پھیلانے والا) اور Amplifier (مضبوط کرنے والا) ماڈل کے تحت معلومات کو مرحلہ وار پھیلایا گیا۔ اس عمل کا مقصد پاکستان کو ایران کے خلاف اور مغربی ایجنڈے کا حصہ دکھانا تھا، تاکہ مسلم دنیا میں بداعتمادی پیدا ہو اور پاکستان کے کردار کو متنازعہ بنایا جا سکے۔
پاکستان کے خلاف جعلی ایرانی ردعمل:
تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ پروپیگنڈے کو پھیلانے والے اکاؤنٹس افغانستان سے آپریٹ کیے جا رہے تھے، اور ان کے ذریعے پاکستان کے خلاف مصنوعی ایرانی ردعمل کو بڑھایا گیا۔ اس ردعمل کی آڑ میں، پاکستان کے خلاف منظم طور پر نفرت انگیز بیانیہ تیار کیا گیا تاکہ نہ صرف ایران کے ساتھ پاکستان کے تعلقات میں دراڑ ڈالی جا سکے، بلکہ عالمی سطح پر پاکستان کو ایران مخالف اور مغربی ایجنڈے کا حصہ ثابت کیا جا سکے۔
Times of Iran News کا کردار:
اس پورے پروپیگنڈا آپریشن کی منصوبہ بندی اور اسٹریٹجک ڈائریکشن میں بھارت کے اکاؤنٹس کا اہم کردار تھا۔ Times of Iran News کو اس سازش کا مرکزی پروپیگنڈا ہب قرار دیا گیا ہے، جو بھارت سے آپریٹ ہو کر عالمی سطح پر گمراہ کن معلومات پھیلاتا رہا۔ اس کے ذریعے پاکستان کے خلاف ایک وسیع پیمانے پر منفی پروپیگنڈا چلایا گیا، تاکہ پاکستان کے عالمی تعلقات کو متاثر کیا جا سکے۔
مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی بڑھانے کی سازش:
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ ڈس انفارمیشن مہم نہ صرف پاکستان بلکہ پورے خطے کے لیے خطرہ بن سکتی تھی۔ اس مہم کا اصل مقصد مشرقِ وسطیٰ میں ممکنہ جنگی کشیدگی پیدا کرنا تھا، تاکہ بھارت اپنے مفادات کے حصول کے لیے عالمی سطح پر پاکستان کے خلاف منفی تاثر قائم کر سکے۔ اس سازش کا ایک اور مقصد عالمی سطح پر ایران، پاکستان اور امریکہ کے تعلقات میں دراڑ ڈالنا تھا، تاکہ خطے میں امن کے قیام کی کوششوں کو سبوتاژ کیا جا سکے۔
افغان نیٹ ورک کا استعمال:
تحقیقات میں مزید یہ انکشاف ہوا ہے کہ افغانستان کے نیٹ ورک کو ایک Proliferator کے طور پر استعمال کیا گیا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ افغانستان میں موجود جعلی یا گمراہ کن معلومات کو بڑے پیمانے پر پھیلانے کے لیے استعمال کیا گیا۔ افغان نیٹ ورک نے اس معلومات کو اس طرح فروغ دیا کہ یہ حقیقت کے قریب دکھائی دے، اور پاکستان کی ساکھ کو نقصان پہنچے۔
پاکستان کے اداروں کی چوکسی:
اس سازش کے بے نقاب ہونے کے بعد، پاکستان کے اداروں کی چوکسی اور ذمہ داری کی اہمیت بڑھ گئی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ سازش ثابت کرتی ہے کہ پاکستان اپنے قومی مفادات اور عالمی تعلقات کے تحفظ کے لیے چوکنا ہے، اور اس بات کا عندیہ دیتی ہے کہ پاکستان اور اس کے ادارے ایسی ہر سازش سے باخبر ہیں جو ریاست اور اداروں کے خلاف بداعتمادی پیدا کرنے کی کوشش کرے۔
پاکستان کے سکیورٹی اور انٹیلیجنس اداروں کی بروقت کارروائیوں کی بدولت اس سازش کو بے نقاب کیا جا سکا، اور عالمی سطح پر یہ ثابت ہوا کہ پاکستان اپنے دفاع اور عالمی امن کے لیے ہر ممکن قدم اٹھانے کے لیے تیار ہے۔
پاکستان کا عالمی کردار اور اس کی اہمیت:
اس سازش کے بے نقاب ہونے سے پاکستان کا عالمی کردار مزید نمایاں ہوا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان کے خلاف بھارت اور افغانستان کی جانب سے چلائی جانے والی اس ڈس انفارمیشن مہم نے ایک بار پھر اس بات کو ثابت کیا ہے کہ پاکستان کے ادارے اور حکام قومی مفادات کا تحفظ کرنے کے لیے پوری طرح سے تیار ہیں۔
پاکستان کی وزارتِ خارجہ اور دیگر متعلقہ اداروں نے عالمی برادری کو اس سازش کے بارے میں آگاہ کیا ہے اور اس کا بھرپور ردعمل ظاہر کیا ہے، تاکہ عالمی سطح پر پاکستان کی ساکھ اور کردار کی حفاظت کی جا سکے۔
اختتامیہ:
پاکستان اور افغانستان کے ساتھ بھارت کی طرف سے چلائی جانے والی یہ مشترکہ ڈس انفارمیشن مہم خطے کے امن، استحکام اور سفارتکاری کے لیے ایک سنگین خطرہ تھی، تاہم اس کے بے نقاب ہونے کے بعد پاکستان کی پوزیشن اور عالمی کردار کو تقویت ملی ہے۔ یہ سازش ظاہر کرتی ہے کہ بھارت اور افغانستان ایسے عناصر ہیں جو اپنے مفادات کے لیے خطے میں کشیدگی بڑھانے کی کوشش کر رہے ہیں، تاہم پاکستان کے اداروں کی چوکسی اور عوام کی ہوشیاری کے باعث ان کی سازشیں ناکام ہو گئیں۔ پاکستان اور اس کے ادارے ہمیشہ تیار رہیں گے تاکہ ایسی کسی بھی سازش کا قلع قمع کیا جا سکے اور ملک کے مفادات کا بھرپور تحفظ کیا جا سکے۔



