صحت

سروسز اسپتال لاہور میں انتظامی و سکیورٹی نقائص بے نقاب،سکیورٹی نظام کی سنگین خامیاں سامنے آگئیں

انتظامی غفلت کا دائرہ صرف سکیورٹی تک محدود نہیں بلکہ طبی سہولیات بھی بری طرح متاثر ہو رہی ہیں

رپورٹ سید عاطف ندیم-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز کے ساتھ

سروسز اسپتال لاہور میں نہ صرف صفائی اور انتظامی مسائل بلکہ مریضوں کی سکیورٹی سے جڑے انتہائی سنگین نقائص بھی سامنے آئے ہیں۔ محکمہ اسپیشلائزڈ ہیلتھ کیئر پنجاب کی جانب سے جاری کردہ سرکاری مراسلے میں انکشاف کیا گیا ہے کہ اسپتال میں نصب 86 سی سی ٹی وی کیمرے غیرفعال پائے گئے، جس سے سکیورٹی مانیٹرنگ کا نظام بری طرح متاثر ہوا ہے۔

ذرائع کے مطابق کیمروں کی بڑی تعداد کا بند ہونا نہ صرف مریضوں بلکہ عملے کی حفاظت کے لیے بھی خطرے کی علامت ہے، خصوصاً ایسے وقت میں جب بڑے سرکاری اسپتالوں میں رش اور ہنگامی حالات معمول کا حصہ ہوتے ہیں۔


فائر سیفٹی بھی خطرے میں

مراسلے میں یہ بھی انکشاف کیا گیا ہے کہ اسپتال میں نصب تقریباً 50 فیصد اسموک ڈیٹکٹرز خراب ہیں، جس سے کسی بھی ممکنہ آتشزدگی کی صورت میں بروقت آگاہی اور ردعمل متاثر ہو سکتا ہے۔ ماہرین کے مطابق فائر سیفٹی سسٹم کی یہ حالت کسی بڑے حادثے کا پیش خیمہ بن سکتی ہے، خاص طور پر ایسے ادارے میں جہاں مریضوں کی بڑی تعداد زیر علاج ہو۔


طبی سہولیات کی خرابی، مریضوں کو مشکلات

انتظامی غفلت کا دائرہ صرف سکیورٹی تک محدود نہیں بلکہ طبی سہولیات بھی بری طرح متاثر ہو رہی ہیں۔ رپورٹ کے مطابق:

  • 32 ائیرکنڈشنرز خراب حالت میں ہیں
  • دو الٹراساونڈ مشینیں ناکارہ ہو چکی ہیں

ان خرابیوں کے باعث مریضوں کے تشخیصی ٹیسٹ تاخیر کا شکار ہو رہے ہیں، جس سے علاج کے عمل میں رکاوٹ پیدا ہو رہی ہے۔ شدید گرمی کے موسم میں ائیرکنڈشنرز کی خرابی مریضوں اور ان کے لواحقین کے لیے مزید مشکلات پیدا کر رہی ہے۔


گائنی وارڈ میں لفٹس بند، مریضوں کی مشکلات میں اضافہ

اسپتال کے گائنی وارڈ میں لفٹس کی بندش نے صورتحال کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔ حاملہ خواتین اور دیگر مریضوں کو اوپر نیچے منتقل کرنے میں شدید دشواری کا سامنا ہے، جو نہ صرف تکلیف دہ بلکہ بعض کیسز میں خطرناک بھی ثابت ہو سکتا ہے۔


صفائی کے ناقص انتظامات، واش رومز کی ابتر حالت

ایمرجنسی اور او پی ڈی کے واش رومز میں صفائی کی ناقص صورتحال کی شکایات بھی سامنے آئی ہیں۔ مریضوں اور تیمارداروں کے مطابق واش رومز میں گندگی اور بدبو معمول بن چکی ہے، جو ایک بڑے سرکاری اسپتال کے لیے انتہائی تشویشناک امر ہے۔

ماہرین صحت کے مطابق صفائی کے ناقص انتظامات نہ صرف مریضوں کے لیے تکلیف دہ ہوتے ہیں بلکہ انفیکشن کے پھیلاؤ کا سبب بھی بن سکتے ہیں۔


محکمہ صحت کا سخت نوٹس، تین روز میں جواب طلب

محکمہ اسپیشلائزڈ ہیلتھ کیئر پنجاب نے ان تمام نقائص پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسپتال کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ (ایم ایس) کو شوکاز نوٹس جاری کر دیا ہے۔ مراسلے میں ایم ایس کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ تین روز کے اندر تفصیلی وضاحت پیش کریں۔

محکمہ کی جانب سے واضح کیا گیا ہے کہ اگر جواب تسلی بخش نہ ہوا تو سخت محکمانہ کارروائی عمل میں لائی جائے گی، جس میں تادیبی اقدامات بھی شامل ہو سکتے ہیں۔


ماہرین کا ردعمل: فوری اصلاحات کی ضرورت

صحت کے شعبے سے وابستہ ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسے بڑے اسپتال میں سکیورٹی، فائر سیفٹی اور بنیادی سہولیات کا اس حد تک خراب ہونا انتہائی تشویشناک ہے۔ ان کے مطابق فوری بنیادوں پر اصلاحات نہ کی گئیں تو یہ مسائل کسی بڑے حادثے یا انسانی جانوں کے ضیاع کا سبب بن سکتے ہیں۔


نتیجہ: انتظامی کارکردگی پر سوالیہ نشان

سروسز اسپتال لاہور جیسے بڑے اور اہم طبی ادارے میں سامنے آنے والی یہ خامیاں نہ صرف انتظامی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہیں بلکہ مریضوں کے اعتماد کو بھی متاثر کر رہی ہیں۔ اب تمام نظریں محکمہ صحت کے آئندہ اقدامات پر مرکوز ہیں کہ آیا وہ ان مسائل کے مستقل حل کے لیے مؤثر اقدامات کرتا ہے یا نہیں۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button