
سید عاطف ندیم-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز کے ساتھ
اسلام آباد میں پاکستان کی تاریخ کا ایک اہم سنگِ میل عبور کرتے ہوئے ملک کی پہلی نیشنل فرانزک ایجنسی نے باضابطہ طور پر کام شروع کر دیا ہے، جسے قانون نافذ کرنے والے اداروں کی صلاحیت بڑھانے اور جدید سائنسی بنیادوں پر جرائم کی تفتیش کو مؤثر بنانے کی ایک بڑی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
وزارت داخلہ کے مطابق یہ ادارہ “دی نیشنل فرانزک ایجنسی بل، 2024” کے تحت قائم کیا گیا تھا، جسے 2024 میں باقاعدہ قانون کی حیثیت دی گئی۔ اس قانون کے تحت ایک مرکزی فرانزک ادارے کی ضرورت کو پورا کیا گیا، جو ملک بھر میں جدید فرانزک سہولیات فراہم کرے گا۔
وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے جمعہ کے روز ایجنسی کے ہیڈکوارٹر کا دورہ کیا اور اس موقع پر اپنے بیان میں کہا کہ یہ ادارہ قومی سلامتی کو مضبوط بنانے اور جرائم کی شرح میں کمی لانے میں اہم کردار ادا کرے گا۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ جدید ٹیکنالوجی اور مہارت کے ذریعے پیچیدہ جرائم کی تحقیقات میں نمایاں بہتری آئے گی۔
اپنے دورے کے دوران وزیر داخلہ نے ہدایت کی کہ نیشنل فرانزک ایجنسی کو ملک کے تمام حصوں تک توسیع دی جائے۔ انہوں نے خاص طور پر خیبرپختونخوا، بلوچستان، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان میں دفاتر قائم کرنے کی ہدایت دی تاکہ دور دراز علاقوں میں بھی قانون نافذ کرنے والے اداروں کو فوری اور معیاری فرانزک سہولیات میسر آ سکیں۔
محسن نقوی نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ایجنسی کی خدمات کو بڑے پیمانے پر متعارف کروایا جائے تاکہ پولیس اور دیگر تحقیقاتی ادارے اس سے بھرپور فائدہ اٹھا سکیں۔ ان کا کہنا تھا کہ جدید فرانزک سہولیات کے بغیر جرائم کی مؤثر تفتیش ممکن نہیں، اس لیے اس ادارے کا کردار انتہائی اہم ہے۔
نیشنل فرانزک ایجنسی کے ڈائریکٹر جنرل حسنات رسول نے وزیر داخلہ کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ ادارے کے قیام کا پہلا مرحلہ کامیابی سے مکمل ہو چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایجنسی اس وقت ڈیجیٹل فرانزک کے شعبے میں متعدد جدید خدمات فراہم کر رہی ہے، جن میں ڈیپ فیک فرانزک، کمپیوٹر اور موبائل فرانزک، آڈیو اور ویڈیو تجزیہ، نیٹ ورک فرانزک اور ڈرون فرانزک شامل ہیں۔
انہوں نے مزید بتایا کہ گزشتہ ایک سال کے دوران تقریباً 1500 ڈیجیٹل فرانزک کیسز رپورٹ ہوئے، جو اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ ملک میں سائبر اور ڈیجیٹل جرائم میں اضافہ ہو رہا ہے اور ان سے نمٹنے کے لیے جدید سہولیات کی اشد ضرورت ہے۔
ڈی جی کے مطابق ایجنسی کے دوسرے مرحلے میں مزید توسیع کی جائے گی، جس کے تحت 25 خصوصی لیبارٹریاں قائم کی جائیں گی۔ ان لیبارٹریز میں مختلف نوعیت کے جرائم کی سائنسی بنیادوں پر تحقیقات کی جا سکیں گی، جس سے مقدمات کے فیصلوں میں شفافیت اور رفتار دونوں بہتر ہوں گی۔
وزیر داخلہ نے اپنے دورے کے دوران ایجنسی کے مختلف شعبوں کا تفصیلی معائنہ بھی کیا۔ انہوں نے ریسرچ اینڈ انوویشن لیب، ڈیجیٹل فرانزکس لیب، نارکوٹکس لیب، فن ٹیک لیب اور قابل اعتراض دستاویزات کی جانچ کے شعبے کا دورہ کیا۔ اس کے علاوہ انہوں نے ڈی این اے، آتشیں اسلحہ، سیرولوجی اور دھماکہ خیز مواد کے تجزیے کے لیے قائم کمروں کا بھی جائزہ لیا۔
دورے کے دوران محسن نقوی نے ایجنسی کی ٹیم کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ کم وقت میں ادارے کو فعال بنانا ایک قابلِ تحسین کامیابی ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ حکومت اس ادارے کو مزید مضبوط بنانے کے لیے ہر ممکن وسائل فراہم کرے گی۔
وزیر داخلہ نے ایجنسی میں اسسٹنٹ سپرنٹنڈنٹس آف پولیس (ASP) کے تربیتی پروگرام کے بارے میں بھی معلومات حاصل کیں اور ہدایت کی کہ افسران کو جدید فرانزک ٹیکنالوجی سے ہم آہنگ تربیت فراہم کی جائے تاکہ وہ جدید جرائم کا مؤثر انداز میں مقابلہ کر سکیں۔
ماہرین کے مطابق نیشنل فرانزک ایجنسی کا قیام پاکستان میں قانون نافذ کرنے کے نظام کے لیے ایک بڑی پیش رفت ہے، کیونکہ اس سے نہ صرف تحقیقات کا معیار بہتر ہوگا بلکہ عدالتوں میں شواہد کی مضبوطی بھی بڑھے گی۔ اس کے نتیجے میں مجرموں کو سزا دلوانا آسان ہوگا اور بے گناہ افراد کو انصاف فراہم کرنے میں بھی مدد ملے گی۔
یہ ادارہ ایسے وقت میں قائم کیا گیا ہے جب ملک کو روایتی جرائم کے ساتھ ساتھ سائبر کرائم، مالیاتی فراڈ اور ڈیجیٹل جعلسازی جیسے نئے چیلنجز کا سامنا ہے۔ ایسے میں جدید فرانزک نظام کی موجودگی نہایت ضروری سمجھی جا رہی ہے، جو مستقبل میں پاکستان کے کریمنل جسٹس سسٹم کو مزید مؤثر اور قابلِ اعتماد بنانے میں اہم کردار ادا کرے گا۔



