
سید عاطف ندیم-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز
سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) نے ملک میں شریعت کے مطابق اولین کریڈٹ رسک شیئرنگ پروڈکٹ کی منظوری دے دی ہے جو اسلامی مالیاتی اداروں کو اس قابل بنائے گی کہ وہ مائیکرو، چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں (ایم ایس ایم ایز) اور زراعت جیسے غیر محفوظ شعبوں میں فنانسنگ کو وسعت دے سکیں، ایس ای سی پی نے ہفتہ کو کہا۔
ایس ای سی پی کے مطابق نیشنل کریڈٹ گارنٹی کمپنی لمیٹڈ (این سی جی سی ایل) کی تیار کردہ پروڈکٹ رسک شیئرنگ میکانزم کے ذریعے کریڈٹ رسک کو کم کرتی جبکہ فنانس تک زیادہ رسائی اور شرعی اصولوں کی تعمیل کو یقینی بناتی ہے۔
یہ شریعت کے مطابق ماڈل کے ذریعے موجودہ روایتی کریڈٹ گارنٹیز کا متبادل فراہم کرتی ہے۔
ایس ای سی پی نے کہا، "اس ڈھانچے کے تحت حصہ لینے والے ادارے ایک عطیہ (تبرع) کی بنیاد پر جمع شدہ فنڈ میں حصہ دیتے ہیں جسے این سی جی سی ایل بطور ایجنٹ (وکیل) ایک وکالہ کے انتظام کے تحت مینج کرتا ہے۔”
نیز کہا، "ضمانت شدہ منافع کے بغیر حقیقی رسک شیئرنگ کو یقینی بناتے ہوئے اہل ڈیفالٹس سے ہونے والے نقصانات کو اس پول سے پورا کیا جاتا ہے۔”
اس پروڈکٹ کے نام سے متعلق سوال پر ایس ای سی پی نے کہا، ابھی اس کا کوئی خاص نام نہیں ہے لیکن یہ "تکافل پر مبنی کریڈٹ گارنٹی ہے جو تبرع کے اصولوں پر تشکیل دی گئی ہے۔”
نیز کہا، "دوسری چیزوں کے علاوہ کمپنی کو یہ سفارش کی گئی ہے کہ وہ اسے ایک برانڈ کا نام دے اور اس طرح کی مصنوعات پیش کرنے کے لیے ایک اسلامی ونڈو قائم کرنے پر بھی غور کرے۔”
پاکستان کی وفاقی شرعی عدالت نے اپریل 2022 میں حکومت کو ہدایت کی تھی کہ وہ سود ختم کرے اور 2027 تک ملک کے پورے بینکاری نظام کو اسلامی اصولوں سے ہم آہنگ کرے۔
حکم نامے کے بعد حکومت اور سٹیٹ بینک نے سود پر مبنی ٹریژری بلز اور انویسٹمنٹ بانڈز کو تبدیل کرنے کی غرض سے قوانین میں تبدیلی سے لے کر سکوک اسلامی بانڈز جاری کرنے تک کئی اقدامات کیے ہیں۔
ایس ای سی پی کی شریعہ ایڈوائزری کمیٹی نے نئی پروڈکٹ کے ڈھانچے کا جائزہ لیا اور اس کی منظوری دی۔ کمیٹی نے مشاہدہ کیا کہ یہ کلیدی اصولوں سے ہم آہنگ ہے۔ اس نے موثر نفاذ کے لیے گورننس اور دستاویزات کو مضبوط بنانے کی بھی سفارش کی۔
ریگولیٹر نے کہا، "اس اقدام سے ایم ایس ایم ایز، زراعت اور دیگر ترجیحی شعبوں کے لیے فنانسنگ تک رسائی میں اضافہ متوقع ہے۔ یہ مالیاتی شمولیت اور ذمہ دارانہ قرضے کی حمایت اور پاکستان کے اسلامی مالیاتی ماحولیاتی نظام کو مضبوط کرے گا۔”



