پاکستاناہم خبریں

خواجہ آصف کا بھارت کو سخت انتباہ، ’فالس فلیگ آپریشن‘ کی کسی بھی کوشش کا بھرپور جواب دیا جائے گا

"بھارت ایک جھوٹے فلیگ آپریشن کی تیاری کر رہا ہے، ممکنہ طور پر لوگوں کو اپنی تحویل میں لے کر، ان کی لاشیں پھینک کر اور پھر یہ دعویٰ کرنا کہ وہ دہشت گرد تھے اور انہیں مار دیا گیا۔"

سید عاطف ندیم-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز

پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ آصف نے بھارت پر ایک بار پھر ’’فالس فلیگ آپریشن‘‘ کی منصوبہ بندی کا الزام عائد کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر ایسی کوئی کوشش کی گئی تو پاکستان اس کا سخت اور مؤثر جواب دے گا۔

ہفتہ کے روز سیالکوٹ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر دفاع نے کہا کہ بھارت مبینہ طور پر ایک ایسا ڈرامہ رچانے کی تیاری کر رہا ہے جس کے تحت یا تو اپنے ہی شہریوں یا پاکستانیوں کو نشانہ بنا کر انہیں دہشت گرد ظاہر کیا جائے گا۔

انہوں نے کہا،
"بھارت ایک جھوٹے فلیگ آپریشن کی تیاری کر رہا ہے، ممکنہ طور پر لوگوں کو اپنی تحویل میں لے کر، ان کی لاشیں پھینک کر اور پھر یہ دعویٰ کرنا کہ وہ دہشت گرد تھے اور انہیں مار دیا گیا۔”

ذرائع کے انکشافات اور ممکنہ منصوبہ

حکومتی ذرائع کے مطابق بھارت اس مبینہ منصوبے میں ایسے افراد کو استعمال کر سکتا ہے جو نادانستہ طور پر سرحد عبور کر گئے، خصوصاً کشمیری شہری۔ مزید یہ کہ بعض رپورٹس میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا ہے کہ بھارتی حکام مختلف جیلوں سے قیدیوں کو اکٹھا کر کے اس کارروائی کا حصہ بنانے کی کوشش کر رہے ہیں تاکہ اسے زیادہ حقیقت پسندانہ بنایا جا سکے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ اس مبینہ اقدام کے پیچھے بھارت کی ’’مایوسی‘‘ کارفرما ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب پاکستان مشرق وسطیٰ میں امن کے قیام کے لیے سرگرم کردار ادا کر رہا ہے۔

سخت ردعمل کی دھمکی

خواجہ آصف نے اپنے بیان میں واضح کیا کہ اگر بھارت نے کسی قسم کی مہم جوئی کی تو پاکستان بھرپور جواب دے گا۔ انہوں نے ایک سال قبل کے حالات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ بھارت کو عالمی سطح پر تنقید اور دباؤ کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

انہوں نے کہا،
"اگر انہوں نے اس بار ایسا ڈرامہ کرنے کی کوشش کی تو ہم زبردست جواب دیں گے اور اسے کولکتہ تک لے جائیں گے، جیسا کہ پہلے بھی ہم نے ان کے علاقے کے اندر کارروائی کی تھی۔”

بھارتی قیادت پر تنقید

وزیر دفاع نے بھارتی وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ کے حالیہ بیانات کو بھی شدید تنقید کا نشانہ بنایا اور انہیں اشتعال انگیز اور سیاسی مقاصد پر مبنی قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کے بیانات ایک مخصوص پیٹرن کی عکاسی کرتے ہیں جس کے ذریعے بھارت اپنی اندرونی کمزوریوں سے توجہ ہٹانے کی کوشش کرتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ بھارت کی جانب سے ’’بار بار کی بیان بازی‘‘ دراصل اس کی اسٹریٹجک بے چینی کو ظاہر کرتی ہے، خاص طور پر ایسے مواقع پر جب ماضی کے واقعات کی برسی قریب ہو۔

پہلگام حملے کا حوالہ

گزشتہ سال 22 اپریل کو پہلگام میں ایک حملے میں 26 سیاح ہلاک ہوئے تھے۔ یہ واقعہ بھارت کے زیر انتظام جموں و کشمیر میں پیش آیا تھا اور اس کے بعد خطے میں کشیدگی میں اضافہ دیکھنے میں آیا۔

اس واقعے کی برسی سے قبل دونوں ممالک کے درمیان بیان بازی میں تیزی آ گئی ہے، جس نے ایک بار پھر علاقائی صورتحال کو حساس بنا دیا ہے۔

پاکستان کا مؤقف: امن کے لیے کردار

وزیر دفاع نے اس موقع پر یہ بھی کہا کہ پاکستان مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے خاتمے کے لیے ایک تعمیری اور مثبت کردار ادا کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی کوشش ہے کہ خطے میں امن قائم ہو اور مسلم دنیا کے درمیان اختلافات ختم ہوں۔

انہوں نے عوام سے اپیل کرتے ہوئے کہا،
"پاکستان ایک اہم کردار ادا کر رہا ہے، دعا کریں کہ ہم اس میں کامیاب ہوں اور خطے میں امن قائم ہو۔”

مسلم دنیا میں اتحاد کی ضرورت

خواجہ آصف نے مسلم دنیا میں اتحاد کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ موجودہ عالمی حالات میں اتحاد پہلے سے کہیں زیادہ ضروری ہو چکا ہے۔ ان کے مطابق پاکستان اس مقصد کے حصول کے لیے سفارتی سطح پر کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔

بڑھتی ہوئی کشیدگی اور خدشات

حالیہ بیانات اور الزامات کے بعد پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی میں ایک بار پھر اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق، ایسے بیانات نہ صرف دونوں ممالک کے تعلقات کو متاثر کرتے ہیں بلکہ خطے کے امن و استحکام کے لیے بھی خطرہ بن سکتے ہیں۔

نتیجہ

پاکستان نے واضح کر دیا ہے کہ وہ اپنی خودمختاری اور سلامتی پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کرے گا۔ وزیر دفاع کے سخت بیانات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ اگر خطے میں کوئی اشتعال انگیزی ہوتی ہے تو اس کا فوری اور بھرپور جواب دیا جائے گا۔

دوسری جانب پاکستان اپنے سفارتی محاذ پر امن کے قیام کے لیے کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے، تاہم خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اس بات کا تقاضا کرتی ہے کہ دونوں ممالک ذمہ داری کا مظاہرہ کریں تاکہ کسی بھی ممکنہ تصادم سے بچا جا سکے۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button