
افغان طالبان پر پاکستان میں دہشتگردی پھیلانے کے الزامات، مبینہ فنڈنگ مہم بے نقاب
عوام کو مجبور کیا جا رہا ہے کہ وہ اس فنڈنگ مہم میں حصہ لیں، جس سے پہلے ہی معاشی مشکلات کا شکار افغان شہریوں پر مزید بوجھ پڑ رہا ہے۔
رپورٹ-سید عاطف ندیم-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز
پاکستان میں سیکیورٹی حلقوں اور علاقائی ذرائع کی جانب سے یہ دعویٰ سامنے آیا ہے کہ افغانستان میں برسرِ اقتدار افغان طالبان مبینہ طور پر کالعدم تنظیم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کو مضبوط بنانے کے لیے منظم فنڈنگ مہم چلا رہے ہیں، جس کے نتیجے میں نہ صرف پاکستان بلکہ پورے خطے کے امن کو خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔
افغان میڈیا رپورٹ اور الزامات
افغان میڈیا ادارے آماج نیوز کی ایک رپورٹ کے مطابق شمالی افغانستان میں ٹی ٹی پی کے لیے مالی وسائل جمع کرنے کی سرگرمیوں میں تیزی آئی ہے۔ رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ یہ مہم اب منظم شکل اختیار کر چکی ہے اور مختلف علاقوں میں گھر گھر جا کر فنڈز اکٹھے کیے جا رہے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق مقامی آبادی پر مالی تعاون کے لیے دباؤ ڈالا جا رہا ہے، جبکہ علاقائی مشران کو بھی اس عمل میں شامل کیا گیا ہے۔ بعض ذرائع کا کہنا ہے کہ عوام کو مجبور کیا جا رہا ہے کہ وہ اس فنڈنگ مہم میں حصہ لیں، جس سے پہلے ہی معاشی مشکلات کا شکار افغان شہریوں پر مزید بوجھ پڑ رہا ہے۔
جبری فنڈنگ اور عوامی مشکلات
ذرائع کے مطابق، افغان طالبان کی جانب سے بعض علاقوں میں مقامی عمائدین کو ہدایات دی گئی ہیں کہ وہ عوام سے رقم جمع کریں۔ ان اقدامات کو مبینہ طور پر ’’جہادی معاونت‘‘ کے نام پر پیش کیا جا رہا ہے، تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ ایک جبری عمل ہے جس سے عام شہریوں کی مشکلات میں اضافہ ہو رہا ہے۔
افغانستان اس وقت شدید معاشی بحران کا شکار ہے، جہاں بے روزگاری، مہنگائی اور بنیادی سہولیات کی کمی پہلے ہی ایک بڑا مسئلہ بن چکی ہے۔ ایسے میں اس نوعیت کی مبینہ سرگرمیاں عوامی سطح پر مزید بے چینی پیدا کر سکتی ہیں۔
علاقائی امن کو لاحق خطرات
دفاعی اور سیکیورٹی ماہرین کے مطابق، اگر تحریک طالبان پاکستان کو مسلسل مالی اور عسکری مدد فراہم کی گئی تو یہ نہ صرف پاکستان بلکہ پورے جنوبی ایشیا کے امن و استحکام کے لیے ایک سنگین خطرہ بن سکتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ٹی ٹی پی پہلے ہی پاکستان میں متعدد حملوں میں ملوث رہی ہے، اور اس کی مضبوطی خطے میں دہشتگردی کی نئی لہر کو جنم دے سکتی ہے۔
عالمی امداد کے استعمال پر سوالات
کچھ تجزیہ کاروں نے یہ خدشہ بھی ظاہر کیا ہے کہ افغانستان کے لیے فراہم کی جانے والی عالمی امداد کا ایک حصہ مبینہ طور پر دہشتگرد سرگرمیوں کی پشت پناہی میں استعمال ہو سکتا ہے۔ اگرچہ اس حوالے سے آزادانہ تصدیق محدود ہے، تاہم یہ خدشات بین الاقوامی سطح پر تشویش کا باعث بن رہے ہیں۔
پاکستان کا مؤقف اور خدشات
پاکستانی حکام اس سے قبل بھی متعدد بار افغان طالبان پر زور دے چکے ہیں کہ وہ اپنی سرزمین کو کسی بھی دہشتگرد تنظیم کے لیے استعمال نہ ہونے دیں۔ اسلام آباد کا مؤقف ہے کہ افغانستان کی سرزمین سے پاکستان کے خلاف کارروائیاں علاقائی امن کے لیے نقصان دہ ہیں۔
بین الاقوامی برادری کی ذمہ داری
ماہرین کے مطابق، اس صورتحال میں بین الاقوامی برادری کو بھی فعال کردار ادا کرنا ہوگا تاکہ:
- دہشتگرد تنظیموں کی مالی معاونت روکی جا سکے
- افغانستان میں شفافیت کو یقینی بنایا جا سکے
- اور خطے میں امن و استحکام برقرار رکھا جا سکے
نتیجہ
افغانستان میں مبینہ فنڈنگ مہم اور ٹی ٹی پی کی حمایت سے متعلق الزامات نے ایک بار پھر خطے میں سیکیورٹی خدشات کو اجاگر کر دیا ہے۔ اگر یہ دعوے درست ثابت ہوتے ہیں تو یہ صورتحال نہ صرف پاکستان بلکہ پورے خطے کے لیے ایک بڑا چیلنج بن سکتی ہے۔
تاہم، اس معاملے کی مکمل حقیقت جاننے کے لیے آزادانہ اور شفاف تحقیقات کی ضرورت ہے تاکہ حقائق سامنے آ سکیں اور مناسب اقدامات کیے جا سکیں۔



