کالمزپیر مشتاق رضوی

آج بھی بھٹو زندہ ہے……پیر مشتاق رضوی

1971ء میں ذوالفقار علی بھٹو پاکستان کے صدر بن گئے اور 1973ء تک اس منصب پر رہے۔ 1973 میں، انہوں نے منتخب وزیراعظم کا عہدہ سنبھالا اور 1977ء تک وزرات عظمی' پر فائز رہے

قائد عوام اور پاکستان پیپلز پارٹی کے بانی ذوالفقار علی بھٹو بنیادی طور پر جمہوریت کے علمبردار اور پاکستان کے عظیم سیاستدان، وکیل، اور منتخب حکمران تھے جنہوں نے 1971ء سے 1973ء تک اسلامیہ جمہوریہ پاکستان کے چوتھے صدر اور 1973ء سے 1977ء تک دسویں وزیراعظم کے طور پر خدمات انجام دیں۔ ذوالفقار علی بھٹو 5 جنوری 1928ء کو لاڑکانہ سندھ میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے اپنی ابتدائی تعلیم لاڑکانہ اور کراچی میں حاصل کی اور بعد میں آکسفورڈ یونیورسٹی سے قانون کی ڈگری حاصل کی۔ذوالفقار علی بھٹو نے اپنی سیاسی زندگی کا آغاز 1950ء کی دہائی میں کیا 1967ء میں، ذوالفقار علی بھٹو نے آئوب خان کی حکومت سے اختلافات کے بعد پاکستان پیپلز پارٹی (PPP) کی بنیاد رکھی۔ اس وقت بھٹو ایک معروف سیاستدان تھے اور انہوں نے اپنی پارٹی کے قیام کا اعلان کیا۔ پاکستان پیپلز پارٹی کا قیام عوامی احتجاج ، سیاسی بیداری اور عوامی جمہوری نظام کے قیام کے ایک بڑے دور میں ہوا تھا۔ 1960ء کی دہائی کے آخر میں پاکستان میں عوام جنرل ایوب خان کی آمریت سے ناخوش تھے اور سیاسی آزادی اور معاشی مساوات کے مطالبے کر رہے تھے۔بھٹو نے اس موقع سے فائدہ اٹھایا اور اپنی پارٹی کے قیام کا اعلان کیا۔ پیپلز پارٹی کا نعرہ "روٹی، کپڑا، اور مکان” تھا، جو عوام کے بنیادی حقوق کی ضمانت کا وعدہ کرتا تھا پاکستان پیپلز پارٹی کا منشور ذوالفقار علی بھٹو نے 1967ء میں تشکیل دیا تھا۔ اس منشور میں پانچ بنیادی اصول شامل تھے1-اسلام ہمارا دین ہے پیپلز پارٹی اسلام کو پاکستان کا دین قرار دیتی ہے اور اس کے مطابق زندگی گزارنے کی کوشش کرتی ہے 2. پیپلز پارٹی جمہوری نظام حکومت کی قائل ہے اور عوام کی حکومت قائم کرنے کی کوشش کرتی ہے۔3.پاکستان پیپلز پارٹی عوامی ریاست کے قیام کی کوشش کرتی ہے جہاں عوام کی بہبودی اور ان کے حقوق کا تحفظ ہو۔4. پیپلز پارٹی معاشی مساوات کی قائل ہے اور عوام کے درمیان معاشی فرق کو کم کرنے کی کوشش کرتی ہے۔5. پیپلز پارٹی کا مقصد عوام کو روٹی، کپڑب اور مکان فراہم کرنا ہے۔یہ منشور پیپلز پارٹی کی بنیاد ہے اور آج بھی پیپلز پارٹی کی پالیسیوں کی بنیاد ہے۔ بھٹو نے پاکستانی عوام کو سیاسی اور جمہوری شعور دیا ذوالفقار علی بھٹو کی دلیرانہ اور انقلابی قیادت میں پیپلز پارٹی نے جلد ہی عوام میں مقبولیت حاصل کی اور 1970ء کے انتخابات میں کامیابی حاصل کی۔ اس کے بعد، بھٹو پاکستان کے صدر اور بعد میں وزیراعظم بنے۔ذوالفقار علی بھٹو پاکستان کے پہلے اور واحد سول مارشل لاہ ایڈمنسٹریٹر بھی رہے وہ اپنی بے پناہ مقبولیت کے باعث "قائد عوام” کے نام سے مشہور تھے۔انہوں نے 1970ء کے عام انتخابات میں PPP کی قیادت کی اور اسے تاریخی کامیابی دلائی۔1971ء میں پاکستان دو ٹکڑے ہوا تو بھٹو نے بچے کچے پاکستان کو سنبھالا اور پاکستان کو از سر نو عوامی جمہوری بنیادوں پر استوار کیا اور مستحکم کیا 1971ء میں ذوالفقار علی بھٹو پاکستان کے صدر بن گئے اور 1973ء تک اس منصب پر رہے۔ 1973 میں، انہوں نے منتخب وزیراعظم کا عہدہ سنبھالا اور 1977ء تک وزرات عظمی’ پر فائز رہے۔ اس دوران قائد عوام وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کے اہم تاریخی اور سیاسی کارنامے انجام دیے بھٹو کی حکومت نے 1973ء میں پاکستان کا آئین متفقہ طور پر منظور کیا، جو پاکستان کی تاریخ میں ایک اہم سنگ میل ہے۔ بھٹو نے قادیانیوں اور مرزائیوں کو آئینی اور قانونی طور پر کافر غیر مسلم قرار دلوایا بھٹو پاکستان کے ایٹمی پروگرام کے خالق تھے انہوں نے ایٹمی پروگرام کی بنیاد رکھی، جس کا مقصد پاکستان کو ایک ایٹمی طاقت بنانا تھا۔ بھٹو نے زرعی اصلاحات متعارف کروائیں، جس سے زمین کی تقسیم میں مساوات کو فروغ ملا۔ بھٹو نے کلیدی صنعتوں کو نیشنلائزڈ کیا، جس سے اقتصادی ترقی کو فروغ ملا۔ بھٹو نے 1974ء میں لاہور میں دوسری اسلامی سربراہی کانفرنس کی میزبانی کی، جس میں 37 اسلامی ممالک کے سربراہان نے شرکت کی۔ بھٹو نے 1974ء میں بنگلہ دیش کی آزادی کو تسلیم کیا، جس سے پاکستان کے لیے ایک نئے دور کا آغاز ہوا۔ بھٹو نے عوامی حقوق کی حفاظت کے لیے عوام کی جان و مال کی حفاظت، آزادی اظہار، اور مساوات جیسے کئی تاریخی اقدامات کیے
بھٹو نے کسی دباؤ کو خاطر میں نہ لاتے ہوۓ پاکستان کے ایٹمی پروگرام کو آگے بڑھایا جبکہ امریکہ پاکستان کی ایٹمی قوت بننے کی کوشش کو اپنے مفادات کے خلاف سمجھتا تھا، بھٹو پاکستان کی خودمختاری اور قومی مفادات کے لیے ایٹمی پروگرام کو ناگزیر سمجھتے تھے اس تناظر میں امریکی وزیر خارجہ ہنری کسنجر نے بھٹو کو دھمکی دی تھی کہ اگر پاکستان ایٹمی پروگرام پر عمل درآمد کرتا ہے تو امریکہ پاکستان کو اقتصادی امداد بند کر دے گا اور اسلحہ کی ترسیل بھی روک دے گا۔بھٹو نے امریکہ کی دھمکی کو نظر انداز کیا اور ایٹمی پروگرام کو جاری رکھا، جس کے نتیجے میں امریکہ نے پاکستان پر اقتصادی پابندیاں لگا دیں۔ ہنری کسنجر نے بھٹو کو عبرتناک مثال بنانے کی دھمکی بھی دی تھی1977ءکے عام انتخابات میں بھٹو کی برسراقتدار پاکستان پیپیلز پارٹی نے بھاری اکثریت حاصل کی اس انثحابات میں بڑے پیمانے پر دھاندلی کے الزمات عأئد کیے گئے بھٹو رجیم کے خلاف پاکستان نیشنل الائنس کے نام پر سیاسی قومی اتحاد بنایا گیا ملک بھر میں احتجاجی تحریک شروع کردی گئ جس کے نتیجہ میں جنرل ضیاءالحق نے وزیراعظم بھٹو کے اقتدار کا تختہ الٹ کر ملک میں طویل مارشل لاء لگایا بھٹو اور جنرل ضیاء الحق کے درمیان سیاسی اختلافات پیدا کئے گۓ حالانکہ بھٹو نے ہی جنرل ضیاء الحق کو آرمی چیف بنایا تھا بھٹو نے اسٹیبشلمنٹ کے سیاسی اثرو رسوخ کو کم کرنے کی کوشش کی تھی، جس سے جنرل ضیاء الحق کو خطرہ محسوس ہوا۔ نواب محمد احمد قصوری بھٹو کے مخالف تھے اور انہیں قتل کر دیا گیا تھا۔ بھٹو پر اس قتل کا الزام لگایا گیا تھا۔ جنرل ضیاء الحق نے فوجی آمریت کے ذریعے اقتدار پر قبضہ کیا تھا اور بھٹو کو اپنی آمریت کے خلاف کی سب سے بڑی رکاؤٹ سمجھتے تھے اس لئے ذوالفقار علی بھٹو کا عدالتی قتل
4 اپریل 1979ء کیا گیا، جب انہیں راولپنڈی جیل میں پھانسی دی گئی۔ یہ پھانسی نواب احمد خان قصوری کے قتل کے الزام میں دی گئی تھی۔ بھٹو کی پھانسی کو قانونی ماہرین نے "عدالتی قتل” قرار دیا ہے بھٹو کی پھانسی کے بعد، ان کے حامیوں اور مخالفین کے درمیان شدید ردعمل ہوا۔ بھٹو کی صاحبزادی دختر مشرق محترمہ بے نظیر بھٹو نے اپنے والد کے مشن کو جاری رکھا اور اپنے والد بھٹو کے نقش پر چلٹے ہوئے آمریت کو للکارا اور جام شہادت نوش کیا صدر آصف علی زرداری نے کہا تھا کہ بھٹو کا عدالتی قتل پاکستان کی آزادی کے خلاف سازش تھی 2019ء میں بھٹو کی پھانسی کے فیصلے کو سپریم کورٹ نے بھی تسلیم کیا ہے کہ یہ فیصلہ دباؤ کے تحت کیا گیا تھا۔ جسٹس نسیم حسن شاہ نے اعتراف کیا تھا کہ بھٹو کی سزا دینے کے لیے ان پر دباؤ تھا سپریم کورٹ آف پاکستان نے بھٹو کے عدالتی قتل کو تسلیم کیا اور قرار دیا کہ بھٹو کو شفاف ٹرائل کا حق نہیں دیا گیا تھا لیکن "بھٹو آج بھی زندہ ہے” کیونکہ ذوالفقار علی بھٹو کی فکر اور سیاست آج بھی لوگوں کے دلوں میں زندہ ہے۔ بھٹو کی موت کے بعد بھی، ان کی پالیسیاں اور نظریات آج بھی لوگوں کو متاثر کرتے ہیں۔بھٹو کی سیاست کا مرکز عوام کی بہبودی،جمہوریت کی سر بلندی اور پاکستان کی خودمختاری تھا۔ انہوں نے عوام کو اپنے حقوق کے لیے آواز اٹھانے کی ترغیب دی اور پاکستان کو ایک ایٹمی طاقت بنانے کے لیے کام کیا۔”بھٹو آج بھی زندہ ہے” کا مطلب یہ ہے کہ بھٹو کی فکر اور سیاست آج بھی لوگوں کے دلوں میں زندہ ہے

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button