کالمزناصف اعوان

نشہ اور انسانی حیات

جب ہم اس کا نفسیاتی تجزیہ کرتے ہیں تو یہ چیز سامنے آتی ہے کہ کوئی اس زہر کو گھریلو مسائل کی وجہ سے اپنے حلق میں اتارتا ہے اور کچھ محبت میں ناکامی کی بنا پر منشیات کا استعمال کرنے لگتا ہے

Al-Syed Tech Company Bio Medical Equipment Service

ملک بھر میں منشیات کا استعمال تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ خصوصاً نوجوان نسل میں یہ رجحان عام ہو رہا ہے۔ اب تو یہ زہر مبینہ طور سے درسگاہوں تک جا پہنچا ہے وہ نسل جس نے ملکی باگ ڈور سنبھالنا ہے وہ نشے کی لت(ساری نہیں ) میں مبتلا ہونے لگی ہے۔ دیہاتوں شہروں اور قصبوں میں منشیات فروشی کا مکروہ دھندہ عروج پر نظر آتا ہے لہذا چھوٹے بچوں تک میں یہ فروخت کی جا رہی ہے۔ جس سے ملک کا قیمتی سرمایہ ضائع ہو رہا ہے۔
ڈرگز کا استعمال انسانی ذہن پر انتہائی منفی اثرات مرتب کرتا ہے جسم مفلوج ہو کر رہ جاتا ہے انسانی سوچ نشہ اور اس کے حصول کے گرد ہی گھومتی رہتی ہے۔ کوئی بھی منشیات کا عادی شخص اپنی طلب کو پورا کرنے کے لئے جائز ناجائز طریقے اختیار کرنے لگتا ہے۔ اس پر ایک وقت ایسا بھی آتا ہے کہ جب اس کے پاس نشہ خریدنے کے لئے پیسے نہیں ہوتے تو وہ جرم کی راہ پر نکل کھڑا ہوتا ہے چھوٹی چھوٹی چیزیں تک چرانا اس کا معمول بن جاتا ہے بعض اوقات اس سے بھی بڑھ کر کسی واردات کا مرتکب ہوتا ہے پھر بات تھانہ کچہری تک جا پہنچتی ہے۔ مگر بات سوچنے کی ہے کہ ایسا کیوں ہو رہا ہے ؟ اس کا جواب یہ ہو گا کہ بعض لوگ محض سر دھننے یعنی ذہنی لذت کے لئے نشہ کرتے ہیں جس میں چرس افیون اور شراب کا استعمال کرتے ہیں وہ ان ہی تک محدود ہوتے ہیں مگر کچھ لوگ ہیروئن کوکین اور آئس بھی پینا شروع کر دیتے ہیں جو انتہائی خطرناک صورت حال ہوتی ہے کہ اس سے ”کھوہ “ خالی ہو جاتے ہیں گھروں کے گھر اُجڑ جاتے ہیں۔ رشتے ناطے ختم ہو جاتے ہیں اور پھر ایسا وقت بھی آتا ہے کہ ان کی موت واقع ہو جاتی ہے۔ ایسے لوگوں کے لئے منشیات چھڑوانے کے لئے اسپتال بھی وجود میں آ چکے ہیں مگر بتایا جاتا ہے کہ وہاں بھی مناسب انتظام نہ ہونے سے نشئی حضرات کی صحت بحال نہیں ہوتی لہٰذا وہاں سے جب وہ باہر آتے ہیں تو پہلے والی پوزیشن میں آجاتے ہیں اس دوبارہ طرح نشےکی علت کا شکار ہو جاتے ہیں۔ ایسے لوگوں میں کچھ ایسے ہوتے ہیں جو اپنے گروہ کی تعداد میں اضافہ کرنے کے لئے دوسروں کو مفت چرس وغیرہ پیش کرتے ہیں جو آہستہ آہستہ دوسرے نشوں کی طرف اپنا رخ موڑ لیتے ہیں۔
جب ہم اس کا نفسیاتی تجزیہ کرتے ہیں تو یہ چیز سامنے آتی ہے کہ کوئی اس زہر کو گھریلو مسائل کی وجہ سے اپنے حلق میں اتارتا ہے اور کچھ محبت میں ناکامی کی بنا پر منشیات کا استعمال کرنے لگتا ہے۔ کسی کو زندگی میں کسی بھی ناکامی اس دلدل میں دھکیل دیتی ہے۔ اس طرح کی اور بھی وجوہات ہیں جس سے لوگوں کے ن،ہے کرنے کی خواہش بڑھ رہی ہے مگر انہیں علم نہیں ہوتا کہ مسائل کبھی بھی ایسے حل نہیں ہوتے ان کا سامنا کرنا پڑتا ہے ان کے بارے میں سوچ بچار کی جاتی ہے ۔ پھر برداشت کرنا پڑتا ہے ۔کبھی کوئی پریشانی کوئی مسلہ کوئی مشکل ان کو نظر انداز کرنے سے ختم یا حل نہیں ہوتے یہ ایک پہلو ہے کہ جس کی وجہ سے منشیات کو گلے لگایا جاتا ہے دوسرا پہلومدہوشییوں کے حوالے سے ہے کہ جن لوگوں کے پاس پیسا وافر ہوتا ہے وہ ذہنی سکون کے لئے کوئی نہ کوئی نشہ شروع کر دیتے ہیں جو دھیرے دھیرے آخری درجے تک پہنچ جاتا ہے۔ اگرچہ ان میں سے کچھ اس سے نجات بھی حاصل کرنا چاہ رہے ہوتے ہیں مگر پانی پلوں کے نیچے سے گزر چکا ہوتا ہے ان کے جسموں میں لاغر پن آجاتا ہے نڈھال و بد حال سے چل پھر رہے ہوتے ہیں کیونکہ نشہ کے ساتھ وہ جنسی تعلقات میں بھی بہت آگے نکل جاتے ہیں یوں ہمارا سماج بربادی کی طرف بڑھ رہا ہے۔ دوسرے مسائل کے ساتھ یہ مسلہ بھی گمبھیر شکل اختیار کر چکا ہے ۔جس سے جان چھڑانا بے حد ضروری ہو چکا ہے
اس مقصد کے لئے اینٹی نارکوٹکس فورس سرگرم عمل ہے جو اپنے فرائض پوری یکسوئی و سنجیدگی کے ساتھ ادا کرتی ہوئی دکھائی دیتی ہے تاکہ یہ زہر قاتل پھیلنے نہ پائے اس کا قلع قمع کر دیا جائےکیونکہ اس سے ملک کو ہر اعتبار سے نقصان پہنچ رہا ہے اجتماعی کار کردگی سخت متاثر ہو رہی ہے مگر یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ منشیات پینے اور فروخت کرنے والے لوگ کسی تھانے کی حدود میں ہی ہوتے ہیں تو کیا وہ اس سے بے خبر ہوتے ہیں ان کا فرض نہیں بنتا کہ وہ ان عناصر کو روکے گرفتار کرے اور قانونی کارروائی کرے۔ ہم پورے وثوق سے کہتے ہیں کہ اگر کوئی تھانے دار سختی کرے تو نشہ کی لعنت پر کافی حد تک قابو پایا جا سکتا ہے۔
بہر کیف نوجوان نسل کو اگر اس کے نقصانات سے باقاعدہ آگاہ کیا جائے اور ان کے لئے مصروفیت کے مواقع پیدا کیےجائیں یعنی روزگار کے ذرائع تخلیق کیے جائیں تو یقیناً اس کے حوصلہ افزا نتائج بر آمد ہو سکتے ہیں مگر اس حوالے سے ابھی کافی مشکلات ہیں لہذا ذہنوں پر دباؤ بڑھتا جا رہا ہے اور اسے کم کرنے کے لئے ڈرگز کا سہارا لینے لگے ہیں جو ان پر مزید دباؤ کا سبب بن رہی ہیں۔ اس کو روکنے کے لئے جہاں قانون کی گرفت ضروری ہے تو وہاں پند و نصائح کے مراکز کاقیام بھی لازمی ہے تھانوں کو بھی متحرک کرنے کی ضرورت ہے انہیں بھی اپنے فرائض یاد دلوانا چاہئیں کیونکہ یہ دوڑ دھوپ کر رہے ہیں وہ عظیم ہیں

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button