پاکستاناہم خبریں

ترقی کا مقصد دولت نہیں، انسانی وقار اور سماجی خوشحالی بھی ہے: وزیراعظم شہباز شریف

پاکستان کا حقِ ترقی سے متعلق بین الاقوامی عہدنامہ جلد اپنانے کی حمایت کا اعادہ، قرضوں کے بحران، موسمیاتی تبدیلی اور ڈیجیٹل خلیج ختم کرنے پر زور

Al-Syed Tech Company Bio Medical Equipment Service
سید عاطف ندیم-ادارت وزیراعظم آفس کے ساتھ

نیویارک: وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ ترقی کا مقصد محض دولت پیدا کرنا نہیں ہونا چاہیے بلکہ ایسی ترقی درکار ہے جو سماجی خوشحالی، مساوات، انسانی وقار اور عوام کے بہتر مستقبل کو یقینی بنائے۔ انہوں نے حقِ ترقی سے متعلق بین الاقوامی عہدنامے کو جلد از جلد اپنانے کے لیے پاکستان کی حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ ترقی کے حق کو محض ایک اصول یا اعلامیے تک محدود رکھنے کے بجائے اسے عملی اقدامات میں تبدیل کرنا ہوگا۔

وزیراعظم نے یہ بات بدھ کو نیویارک میں اقوام متحدہ کے ہیڈکوارٹرز میں اعلامیہ برائے حقِ ترقی کی 40ویں سالگرہ کے موقع پر منعقدہ اعلیٰ سطح کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ اقوام متحدہ کے مطابق یہ اجلاس 23 ستمبر 2026 کو منعقد ہوا اور اس کا مقصد 1986 میں منظور کیے گئے اعلامیے کے 40 سال مکمل ہونے پر حقِ ترقی کو جامع، پائیدار اور مساوی ترقی کے فریم ورک کے طور پر دوبارہ اجاگر کرنا تھا۔

وزیراعظم شہباز شریف نے اپنے خطاب میں کہا کہ حقِ ترقی کے تصور کے تحت ہر فرد کو بہتر مستقبل کی تلاش کا حق حاصل ہے جبکہ ہر قوم کو اپنے مستقبل کی تعمیر کے لیے ضروری وسائل اور مواقع میسر ہونے چاہئیں۔ ان کے مطابق 40 سال قبل حقِ ترقی کے اعلامیے نے انسان کو ترقی کے مرکز میں رکھتے ہوئے اس اصول کی توثیق کی کہ ترقی عوام کا ناقابلِ تنسیخ حق ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس اعلامیے کا بنیادی پیغام آج بھی انتہائی اہمیت رکھتا ہے، تاہم موجودہ عالمی حالات میں ترقی پذیر ممالک کو متعدد ایسے چیلنجز کا سامنا ہے جو ان کی معاشی اور سماجی ترقی کی رفتار کو متاثر کر رہے ہیں۔

وزیراعظم نے عالمی معاشی نظام میں ترقی پذیر ممالک کو درپیش مشکلات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ قرضوں کی ادائیگی ان ممالک کی مالی گنجائش محدود کر رہی ہے۔ ان کے مطابق جو وسائل تعلیم، صحت، روزگار اور انسانی ترقی کے لیے استعمال ہونے چاہئیں، ان کا ایک بڑا حصہ قرضوں کی ادائیگی میں صرف ہو رہا ہے۔

انہوں نے موسمیاتی تبدیلی کو بھی ترقی پذیر ممالک کے لیے ایک بڑا چیلنج قرار دیا۔ وزیراعظم کے مطابق موسمیاتی آفات برسوں کی محنت سے حاصل کیے گئے ترقیاتی ثمرات کو ختم کر رہی ہیں، جبکہ ترقی پذیر ممالک کو موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے نمٹنے، موافقت اختیار کرنے اور تباہی کے بعد بحالی کے لیے اضافی وسائل درکار ہیں۔

وزیراعظم نے ٹیکنالوجی کے شعبے میں بڑھتی ہوئی عدم مساوات پر بھی توجہ دلائی۔ انہوں نے کہا کہ اگر ڈیجیٹل ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت کے فوائد تمام ممالک اور طبقات تک یکساں طور پر نہ پہنچے تو موجودہ معاشرتی اور اقتصادی خلیج مزید بڑھ سکتی ہے اور پرانی عدم مساوات ایک نئے ڈیجیٹل دور میں منتقل ہونے کا خطرہ پیدا ہو سکتا ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ کسی حق کو حقیقی معنوں میں تسلیم کرنا اس وقت تک کافی نہیں جب تک اسے عملی جامہ پہنانے کے ذرائع بھی فراہم نہ کیے جائیں۔ ان کے مطابق حقِ ترقی کے حصول کے لیے قومی سطح کی کوششوں کے ساتھ مؤثر بین الاقوامی تعاون اور عملی حکمت عملی بھی ضروری ہے۔

وزیراعظم نے پاکستان کی ترقیاتی ترجیحات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں معاشی تبدیلی کے لیے ملکی ضروریات کے مطابق ایک منصوبہ اختیار کیا گیا ہے۔ اس کے اہم نکات میں برآمدات میں اضافہ، ڈیجیٹل ٹیکنالوجیز کا فروغ، مؤثر موسمیاتی اقدامات، توانائی کے بنیادی ڈھانچے میں بہتری، مساوات کو فروغ دینا اور عوام کو بااختیار بنانا شامل ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان اپنی معاشی ترقی کے لیے برآمدات میں اضافے اور معیشت کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے پر توجہ دے رہا ہے۔ اسی طرح ڈیجیٹل ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت کے شعبوں میں مواقع پیدا کرنا بھی مستقبل کی ترقیاتی حکمت عملی کا اہم حصہ ہے۔

وزیراعظم نے چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) کو بھی پاکستان کے ترقیاتی ایجنڈے میں معاون قرار دیا۔ ان کے مطابق بنیادی ڈھانچے، توانائی اور معاشی سرگرمیوں کے فروغ سے متعلق اقدامات ملک کی طویل مدتی معاشی تبدیلی میں کردار ادا کر سکتے ہیں۔

محمد شہباز شریف نے کہا کہ حقِ ترقی کے حصول کے لیے عالمی سطح پر قرضوں کے بحران سے نمٹنا ہوگا۔ انہوں نے موجودہ صورتحال کو قرضوں کے دباؤ سے تعبیر کرتے ہوئے بین الاقوامی مالیاتی نظام میں اصلاحات کی ضرورت پر زور دیا تاکہ ترقی پذیر ممالک کو رعایتی مالی معاونت اور ترقی کے لیے زیادہ مؤثر وسائل میسر آ سکیں۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ موسمیاتی تبدیلی سے مطابقت پیدا کرنے اور موسمیاتی نقصانات و تباہ کاریوں سے نمٹنے کے لیے بھی ترقی پذیر ممالک کو مناسب مالی اور تکنیکی معاونت فراہم کی جائے۔ اسی طرح ڈیجیٹل ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت کے شعبوں میں موجود عالمی خلیج کو کم کرنے کے لیے بین الاقوامی تعاون بڑھانے کی ضرورت ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ ترقی کا حق صرف قومی حکومتوں کی ذمہ داری نہیں بلکہ اس کے لیے عالمی برادری کو بھی اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ ان کے مطابق عالمی مالیاتی اداروں، ترقی یافتہ ممالک اور بین الاقوامی تنظیموں کو ترقی پذیر ممالک کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے ایسے اقدامات کرنا ہوں گے جو پائیدار اور جامع ترقی کے لیے سازگار ماحول پیدا کریں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان حقِ ترقی سے متعلق بین الاقوامی عہدنامے کو جلد از جلد اپنانے کی حمایت کرتا ہے۔ وزیراعظم کے مطابق اس اقدام سے حقِ ترقی کے تصور کو مزید مضبوط بنانے اور اسے عملی سطح پر آگے بڑھانے میں مدد مل سکتی ہے۔

اقوام متحدہ کے مطابق 1986 میں منظور ہونے والے اعلامیہ برائے حقِ ترقی میں اقتصادی، سماجی، ثقافتی اور سیاسی ترقی میں ہر فرد اور تمام اقوام کی شرکت، کردار اور اس کے ثمرات سے استفادے کے حق کو بنیادی انسانی حق کے طور پر بیان کیا گیا تھا۔ اعلامیے نے مساوی مواقع، انسانی وقار اور اقتصادی وسائل کی منصفانہ تقسیم کو بھی اہمیت دی۔

وزیراعظم نے اپنے خطاب کے اختتام پر کہا کہ ترقی کو صرف معاشی اعداد و شمار یا دولت میں اضافے سے نہیں پرکھنا چاہیے۔ ان کے مطابق ترقی کا حقیقی پیمانہ یہ نہیں کہ دنیا کتنی تیزی سے آگے بڑھ رہی ہے بلکہ یہ ہے کہ انسانیت اجتماعی طور پر کس حد تک ایک ساتھ آگے بڑھ رہی ہے۔

انہوں نے زور دیا کہ حقِ ترقی کی 40ویں سالگرہ کو ایک ایسے موقع کے طور پر استعمال کیا جانا چاہیے جہاں عالمی برادری صرف ماضی کے اعلامیے کو یاد کرنے تک محدود نہ رہے بلکہ اسے عملی اقدامات، بین الاقوامی تعاون اور وسائل کی منصفانہ فراہمی کے ذریعے حقیقت میں تبدیل کرنے کی طرف پیش رفت کرے۔

اقوام متحدہ نے بھی 40ویں سالگرہ کے اجلاس کو موجودہ عالمی چیلنجز کے تناظر میں حقِ ترقی کو ایک جامع، پائیدار اور مساوی مستقبل کے مرکزی فریم ورک کے طور پر دوبارہ اجاگر کرنے کا موقع قرار دیا ہے۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button